زندگی میں جو تم آئے ہو مرے اتنے قریب

محمد حسین — اگست 24، 2014 4:55 شام
(کافی عرصہ خاموش رہنے کے بعد کسی کی یاد میں ایک حقیر سی کاوش)
زندگی میں جو تم آئے ہو مرے اتنے قریب
کیوں پھر اغیار کو خاطر میں یوں لاتے ہو حبیب؟
منسلک اُن سے ہے جو کچھ بھی ہمارا حق ہے
ہم سے برداشت نہیں چاہے ہو ادنیٰ سا رقیب
کبھی بیمارِ محبت وہ، کبھی ہم عاشق
کبھی وہ چاہیں دوا کبھی ہم چاہیں طبیب
عشق دیکھے تو کوئی آ کے ہمارا اے حسین
اس محبت نے تو کر ڈالا بہت حال عجیب
الف عین مزمل شیخ بسمل
الف عین — اگست 25، 2014 7:10 صبح
خوب
زندگی میں جو تم آئے ہو مرے اتنے قریب
کیوں پھر اغیار کو خاطر میں یوں لاتے ہو حبیب؟
÷÷’یوں لاتے ہو‘ جو یُلاتے‘ تقطیع ہو رہا ہے، اچھا نہیں لگتا
الفاظ بدل کر دیکھیں
منسلک اُن سے ہے جو کچھ بھی ہمارا حق ہے
ہم سے برداشت نہیں چاہے ہو ادنیٰ سا رقیب
۔۔ہم کو برداشت نہیں کوئی بھی، کیسا بھی رقیب
کہا جائے تو ’سے برداشت‘ کی غلطی بھی دور ہو جائے۔ اور ’چاہے ہو ‘ کا صوتی منفی تاثر بھی۔ یا مزید تبدیلی کا سوچ سکتے ہو
کبھی بیمارِ محبت وہ، کبھی ہم عاشق
کبھی وہ چاہیں دوا کبھی ہم چاہیں طبیب
÷÷دوسرا مصرع خارج از بحر ہے۔ ’اور کبھی ہم چاہیں’ سے درست ہو سکتا ہے، اگر ’اُر‘ گوارا ہو تو۔ ورنہ کچھ اور مےبادل سوچا جا سکتا ہے
عشق دیکھے تو کوئی آ کے ہمارا اے حسین
اس محبت نے تو کر ڈالا بہت حال عجیب
۔۔دوسرا مصرع بھی بدلو تو اچھا ہے۔ یہاں ’بہت حال عجیب‘ کا ھال عجیب لگ رہا ہے!!
محمد حسین — اگست 26، 2014 4:12 شام
یہ مصرع یوں ہی تھا:
"کبھی وہ چاہیں دوا اور کبھی ہم چاہیں رقیب"
لکھنے میں غلطی ہوئی
الف عین — اگست 26، 2014 5:14 شام
یہ مصرع یوں ہی تھا:
"کبھی وہ چاہیں دوا اور کبھی ہم چاہیں رقیب"
لکھنے میں غلطی ہوئی
طبیب یا رقیب؟؟
محمد حسین — اگست 27، 2014 1:49 شام
طبیب
محمد حسین — ستمبر 6، 2014 10:12 صبح
خوب
زندگی میں جو تم آئے ہو مرے اتنے قریب
کیوں پھر اغیار کو خاطر میں یوں لاتے ہو حبیب؟
÷÷’یوں لاتے ہو‘ جو یُلاتے‘ تقطیع ہو رہا ہے، اچھا نہیں لگتا
الفاظ بدل کر دیکھیں
منسلک اُن سے ہے جو کچھ بھی ہمارا حق ہے
ہم سے برداشت نہیں چاہے ہو ادنیٰ سا رقیب
۔۔ہم کو برداشت نہیں کوئی بھی، کیسا بھی رقیب
کہا جائے تو ’سے برداشت‘ کی غلطی بھی دور ہو جائے۔ اور ’چاہے ہو ‘ کا صوتی منفی تاثر بھی۔ یا مزید تبدیلی کا سوچ سکتے ہو
کبھی بیمارِ محبت وہ، کبھی ہم عاشق
کبھی وہ چاہیں دوا کبھی ہم چاہیں طبیب
÷÷دوسرا مصرع خارج از بحر ہے۔ ’اور کبھی ہم چاہیں’ سے درست ہو سکتا ہے، اگر ’اُر‘ گوارا ہو تو۔ ورنہ کچھ اور مےبادل سوچا جا سکتا ہے
عشق دیکھے تو کوئی آ کے ہمارا اے حسین
اس محبت نے تو کر ڈالا بہت حال عجیب
۔۔دوسرا مصرع بھی بدلو تو اچھا ہے۔ یہاں ’بہت حال عجیب‘ کا ھال عجیب لگ رہا ہے!!
مطلع میں "یوں " کے علاوہ کوئی لفظ سجھائی نہیں دیتا۔ اگر الفاظ بدلیں تو یوں بہتر لگ رہا ہے:
"کیوں پھر اغیار کو لاتے ہو یوں خاطر میں حبیب؟"
دوسرے مصرعے میں آپ کی صلاح بہتر ہے۔
مقطع میں اگر یوں کر لیں تو:
ذہن اُلجھا ہے‘ پریشان سا دل‘ حال عجیب!
الف عین
الف عین — ستمبر 6، 2014 6:01 شام
یہ شکلیں بہتر ہیں
محمد اسامہ سَرسَری — ستمبر 19، 2014 11:39 صبح
عشق دیکھے تو کوئی آ کے ہمارا اے حسین
اس محبت نے تو کر ڈالا بہت حال عجیب
استاد محترم جناب الف عین صاحب!
کیا حرف ندا "اے" کو ہجائے کوتاہ باندھ سکتے ہیں؟

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AC%D9%88-%D8%AA%D9%85-%D8%A2%D8%A6%DB%92-%DB%81%D9%88-%D9%85%D8%B1%DB%92-%D8%A7%D8%AA%D9%86%DB%92-%D9%82%D8%B1%DB%8C%D8%A8.77210/