انیس فاروقی — دسمبر 7، 2009 8:12 شام
تین اشعار برائے اصلاح پیش ہیں، احباب توجہ فرمائیں عنایت ہوگی۔
سب کو ہم نے دیکھ لیا، سب جھوٹے اور لٹیرے ہیں
اپنے وطن میں لوگ نہیں بس زور آور وڈیرے ہیں
ظالم ہی مسند پہ قائم لوُٹ رہا ہے لوگوں کو
ظلمت نے کچھ اپنے گھر میں ایسے ڈالے ڈیرے ہیں
اُن کے ہاتھ میں سونے کی تلوار چمکتی رہتی ہے
کٹ کہ زمیں پہ گرنے والے ہاتھ ہمیشہ میرے ہیں
الف عین — دسمبر 8، 2009 4:56 شام
اوزان تو خطا نہیں ہوئے اس کے، اگر مطلع میں ’ودیرے‘کے لفظ کا درست تلفظ میں ڈال پر تشدید ہے تو۔۔ ورنہ بحر میں نہیں آتا۔ یہ لفظ میں نے پاکستانی اردو میں دو ایک بار پڑھا ضرور ہے، لیکن سمجھ میں نہیں آیا۔ شاید مراد خانہ بدوش ہوتا ہے۔
یہ شعر بہت خوب ہے
اُن کے ہاتھ میں سونے کی تلوار چمکتی رہتی ہے
کٹ کہ زمیں پہ گرنے والے ہاتھ ہمیشہ میرے ہیں
انیس فاروقی — دسمبر 8، 2009 5:51 شام
اوزان تو خطا نہیں ہوئے اس کے، اگر مطلع میں ’ودیرے‘کے لفظ کا درست تلفظ میں ڈال پر تشدید ہے تو۔۔ ورنہ بحر میں نہیں آتا۔ یہ لفظ میں نے پاکستانی اردو میں دو ایک بار پڑھا ضرور ہے، لیکن سمجھ میں نہیں آیا۔ شاید مراد خانہ بدوش ہوتا ہے۔
یہ شعر بہت خوب ہے
اُن کے ہاتھ میں سونے کی تلوار چمکتی رہتی ہے
کٹ کہ زمیں پہ گرنے والے ہاتھ ہمیشہ میرے ہیں
صوبہ سندھ میںزمیندار کو وڈیرہ کہا جاتا ہے بغیر تشدید کے، پنجاب میں چوہدری، بلوچستان میںسردار، سرحد میں کیا کہتے ہیں مجھے اس وقت یاد نہیں۔ شاید کوئی دوست مدد فرمادیں۔
توجہ اور تعریف کے لئے شکر گزار ہوں۔
الف عین — دسمبر 8، 2009 6:04 شام
بغیر تشدید کے تو وزن سے خارج ہے یہ۔
ثمرینہ جبین — دسمبر 8، 2009 10:27 شام
بہت الاجواب ہے
محمد وارث — دسمبر 9، 2009 4:47 صبح
اچھے اشعار ہیں فاروقی صاحب، حسبِ حال۔
اعجاز صاحب نے درست نشاندہی کی ہے، زور آور کی جگہ کوئی اور لفظ لانے سے یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے جیسے 'مالکِ ملک' وغیرہ
اپنے وطن میں لوگ نہیں بس مالکِ مُلک وڈیرے ہیں
شاہ حسین — دسمبر 9، 2009 5:11 صبح
بہت شکریہ انیس فاروقی صاحب اچھے اشعار ہیں۔
محمود احمد غزنوی — دسمبر 9، 2009 8:05 صبح
سب کو ہم نے دیکھ لیا سب جھوٹے اور لٹیرے ہیں
دھرتی کی قسمت کے مالک فوجی اور وڈیرے ہیں
انیس فاروقی — دسمبر 9، 2009 2:13 شام
واہ واہ دوستو، آپ نے بہت اہم اور درست تصحیح فرمائی ہے، شکریہ قبول کیجئے گا۔