سبق الفت کا دشمن کو پڑھانا ہے

loneliness4ever — دسمبر 17، 2015 7:14 صبح

گلے مل کر تمہیں نفرت مٹانا ہے
سبق الفت کا دشمن کو پڑھانا ہے
مرے بچوں بڑھانا ہےمحبت کو
عدو کو دوست تم نے ہی بنانا ہے
سکھانا ہےتمہیں سنت محمد کی
محبت سے ہی نفرت کو ہرانا ہے
بدلنا ہے روایت تم کو بدلے کی
محبت کو ہی بچوں تک لے جانا ہے
مرے بچوں وطن مل کر بنایا تھا
اسے مل کر ہی دشمن سے بچانا ہے
لہو دے کر وطن ہم نے بنایا تھا
لہو لے کرنہیں اس کو مٹانا ہے
یہ ہی سنت نبی کی ہے مرے بچوں
خطا دشمن کی بھی دل سے بھلانا ہے
محبت امن ہے اسلام کا چہرہ
یہ ہی ہم نے زمانے کو دکھانا ہے
وطن تجھ سے یہ وعدہ آج کرتے ہیں
نہیں نفرت کبھی دل میں بسانا ہے
س ن مخمور
امر تنہائی
سید اسد معروف — دسمبر 17، 2015 7:36 صبح
بہت خوب
ادب دوست — دسمبر 17، 2015 7:41 صبح
جی بہت بہت داد قبول کیجئے
ایم اے راجا — دسمبر 19، 2015 7:53 صبح
بہت خوب
الف عین — دسمبر 20، 2015 11:09 شام
یہ مصرع دیکھیں
محبت کو ہی بچوں تک لے جانا ہے۔
مکمل ’لے جانا ‘نہیں بلکہ ’لجانا‘ تقطیع ہوتا ہے جو ایک دوسرا لفظ ہے۔
محبت امن ہے اسلام کا چہرہ
یہ ہی ہم نے زمانے کو دکھانا ہےگا
محبت امن میں کوئی حرف تعلق نہیں ہے، حلانکہ مراد امن اور محبت ہے۔ اس کو بدل دیں۔ دوسرے مصرع میں ’یہی‘ آئے گا، ’یہ ہی‘ نہیں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B3%D8%A8%D9%82-%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA-%DA%A9%D8%A7-%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86-%DA%A9%D9%88-%D9%BE%DA%91%DA%BE%D8%A7%D9%86%D8%A7-%DB%81%DB%92.86448/