ستم تھے زندگی کے ھر سفر میں برائے اصلاح

رحیم ساگر بلوچ — ستمبر 3، 2013 3:56 صبح
ﺳﺘﻢ ﺗﮭﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﮬﺮ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ
ﮬﺰﺍﺭﻭﮞ ﺗﯿﺮ ﺟﮭﯿﻠﮯ ﺍﺱ ﺟﮕﺮ ﻣﯿﮟ
ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻧﮯ ﻇﻠﻢ ﮐﯽ ﺍﻧﺘﮭﺎ ﮐﯽ
ﻣﺮﺍ ﺟﯿﻨﺎ ﮐﯿﺎ ﻣﺸﮑﻞ ﺩﮬﺮ ﻣﯿﮟ
ﺗﮍﭘﺘﺎ ﺭﻭﺡ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﺍ ﭘﯿﺎ ﺳﺎ
ﯾﮭﺎﮞ ﺍﭘﻨﺎ ﻧﻪ ﺗﻬﺎ ﻛﻮﺉ ﺷﮭﺮ ﻣﯿﮟ
ﭼﻼ ﺗﮭﺎ ﺩﻭﺭ ﺑﮯ ﻣﻨﺰﻝ ﺳﻔﺮ ﮐﻮ
ﻣﻼ ﺗﮭﺎ ﺁﺷﻨﺎ ﮐﻮﺉ ﮈﮔﺮ ﻣﯿﮟ
ﺑﻨﺎ ﮈﺍﻻ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﮎ ﭘﻞ ﻣﯿﮟ
ﻋﺠﺐ ﻣﻌﺼﻮﻣﯿﺖ ﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ
ﺍﺑﮭﯽ ﮬﮯ ﭼﺎﺭ ﭘﻞ ﮐﯽ ﺳﺎﻧﺲ ﺑﺎﻗﯽ
ﺳﻨﺎﺋﻮﮞ ﮔﺎ ﮐﯿﺎ ﺍﺏ ﻣﺨﺘﺼﺮ ﻣﯿﮟ
ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮬﮯ ﺑﮭﺖ ﮔﮭﺮﺍ ﭘﺘﻪ ﺗﻬا
کچھ ﺗﻮ ﺳﻮﭺ ﮐﺮ ﮐﻮﺩﺍ ﺑﺤﺮ ﻣﯿﮟ
محمد خلیل الرحمٰن — ستمبر 3، 2013 5:05 صبح
سب سے پہلے تو قوافی درست کیجیے۔ آپ نے دو اوزان کے قافیے استعمال کیے ہیں
پہلا گروہ۔ سفر، جگر، ڈگر، نظر، مختصر
دوسرا گروہ۔ دہر، شہر، بحر
لفظ ظُلم کی جگہ آپ نے ظُلُم استعمال کیا ہے۔
اسے ’’ زمانے نے ستم کی انتہا کی‘‘ کیا جاسکتا ہے۔
باقی باقی۔
ماہی احمد — ستمبر 3، 2013 5:17 صبح
ﺳﺘﻢ ﺗﮭﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﮬﺮ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ
ﮬﺰﺍﺭﻭﮞ ﺗﯿﺮ ﺟﮭﯿﻠﮯ ﺍﺱ ﺟﮕﺮ ﻣﯿﮟ
ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻧﮯ ﻇﻠﻢ ﮐﯽ ﺍﻧﺘﮭﺎ ﮐﯽ
ﻣﺮﺍ ﺟﯿﻨﺎ ہے ﮐﯿﺎ ﻣﺸﮑﻞ ﺩﮬﺮ ﻣﯿﮟ
ﺗﮍﭘﺘﺎ ﺭﻭﺡ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﺍ ﭘﯿﺎ ﺳﺎ
ﯾﮭﺎﮞ ﺍﭘﻨﺎ ﻧﻪ ﺗﻬﺎ ﻛﻮﺉ ﺷﮭﺮ ﻣﯿﮟ
ﭼﻼ ﺗﮭﺎ ﺩﻭﺭ ﺑﮯ ﻣﻨﺰﻝ ﺳﻔﺮ ﮐﻮ
ﻣﻼ ﺗﮭﺎ ﺁﺷﻨﺎ ﮐﻮﺉ ﮈﮔﺮ ﻣﯿﮟ
ﺑﻨﺎ ﮈﺍﻻ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﮎ ﭘﻞ ﻣﯿﮟ
ﻋﺠﺐ ﻣﻌﺼﻮﻣﯿﺖ ﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ
ﺍﺑﮭﯽ ﮬﮯ ﭼﺎﺭ ﭘﻞ ﮐﯽ ﺳﺎﻧﺲ ﺑﺎﻗﯽ
ﺳﻨﺎﺋﻮﮞحال ﮐﯿﺎ ﺍﺏ ﻣﺨﺘﺼﺮ ﻣﯿﮟ
ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮬﮯ ﺑﮭﺖ ﮔﮭﺮﺍ ﭘﺘﻪ ﺗﻬا
کچھ ﺗﻮ ﺳﻮﭺ ﮐﺮ ﮐﻮﺩﺍ ﺑﺤﺮ ﻣﯿﮟ
اؤل تو میں محترم @محمدخلیل الرحمٰن صاحب کی بات سے متفق ہوں۔
دوسرا جو کجیاں مجھے نظر آئیں وہ میں نے لال رنگ سے ہائیلائٹ کر دیں ہیں اور جہاں لفظ شامل یا تبدیل کیے ہیں وہ نیلے رنگ سے، باقی فورم پر مجھ سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھنے والے افراد موجود ہیں وہ آپ کو بہتر طور پہ آگاہ کر سکتے ہیں :)
مہدی نقوی حجاز — ستمبر 3، 2013 5:27 صبح
کچھ زبان و بیان کی غلطیاں اور ملاحظہ کیجیے:
پہلے شعر کے مصرعِ ثانی میں جھیلنا فعل ہے۔ اس مناسبت سے فاعل کے بغیر خود جگر فاعل رہے گا۔ یعنی ہزاروں تیر جھیلے اس جگر نے (ردیف سے ہٹ کر) ورنہ اس جملے میں فاعل کا موجود ہونا ضروری ہے۔ جیسے میں نے اس جگر میں ہزاروں تیر جھلے۔ یہ بھی اچھی ترتیب نہیں البتہ۔
تیسرے شعر میں روح مؤنث ہے!
چھٹے شعر میں: سانس چار پل کی کیسے ہو سکتی ہے؟ زندگی کو تولا جاتا ہے "پل" کے پیمانے پر۔
عروض کی غلطیاں:
وہ مصرعے جو بحر سے خارج ہیں:
زمانے نے ظلم کی انتہا کی
بنا ڈالا مجھے اپنا اک پل میں
سناؤں گا کیا اب مختصر میں
کچھ تو سوچ کر کودا بحر مین
قوافی کی غلطایاں:
جناب خلیل الرحمٰن صاحب نشاندہی فرما چکے!
رحیم ساگر بلوچ — ستمبر 3، 2013 7:13 صبح
سب سے پہلے تو قوافی درست کیجیے۔ آپ نے دو اوزان کے قافیے استعمال کیے ہیں
پہلا گروہ۔ سفر، جگر، ڈگر، نظر، مختصر
دوسرا گروہ۔ دہر، شہر، بحر
لفظ ظُلم کی جگہ آپ نے ظُلُم استعمال کیا ہے۔
اسے ’’ زمانے نے ستم کی انتہا کی‘‘ کیا جاسکتا ہے۔
باقی باقی۔
بہت شکریه میں ٹھیک کر کے پو سٹ کر تا ھوں دوباره
رحیم ساگر بلوچ — ستمبر 3، 2013 7:59 صبح
اؤل تو میں محترم @محمدخلیل الرحمٰن صاحب کی بات سے متفق ہوں۔
دوسرا جو کجیاں مجھے نظر آئیں وہ میں نے لال رنگ سے ہائیلائٹ کر دیں ہیں اور جہاں لفظ شامل یا تبدیل کیے ہیں وہ نیلے رنگ سے، باقی فورم پر مجھ سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھنے والے افراد موجود ہیں وہ آپ کو بہتر طور پہ آگاہ کر سکتے ہیں :)
بہت شکر یه تفصیل سے نشادھی کر نے کا
رحیم ساگر بلوچ — ستمبر 3، 2013 8:01 صبح
کچھ زبان و بیان کی غلطیاں اور ملاحظہ کیجیے:
پہلے شعر کے مصرعِ ثانی میں جھیلنا فعل ہے۔ اس مناسبت سے فاعل کے بغیر خود جگر فاعل رہے گا۔ یعنی ہزاروں تیر جھیلے اس جگر نے (ردیف سے ہٹ کر) ورنہ اس جملے میں فاعل کا موجود ہونا ضروری ہے۔ جیسے میں نے اس جگر میں ہزاروں تیر جھلے۔ یہ بھی اچھی ترتیب نہیں البتہ۔
تیسرے شعر میں روح مؤنث ہے!
چھٹے شعر میں: سانس چار پل کی کیسے ہو سکتی ہے؟ زندگی کو تولا جاتا ہے "پل" کے پیمانے پر۔
عروض کی غلطیاں:
وہ مصرعے جو بحر سے خارج ہیں:
زمانے نے ظلم کی انتہا کی
بنا ڈالا مجھے اپنا اک پل میں
سناؤں گا کیا اب مختصر میں
کچھ تو سوچ کر کودا بحر مین
قوافی کی غلطایاں:
جناب خلیل الرحمٰن صاحب نشاندہی فرما چکے!
bahot shukria ustad g
رحیم ساگر بلوچ — ستمبر 3، 2013 9:55 صبح
اساتذه كرام اب تهڑی نظر ثانی کریں
.
ﺳﺘﻢ ﺗﮭﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ
ﮬﺮ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ
ﮬﺰﺍﺭﻭﮞ ﺗﯿﺮ ﺟﮭﯿﻠﮯ ﺍﺱ
عمر ﻣﯿﮟ
ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻧﮯ ستم ﮐﯽ
ﺍﻧﺘﮭﺎ ﮐﯽ
ﻣﺮﺍ ﺟﯿﻨﺎ ھوا ﻣﺸﮑﻞ
ﺩﮬﺮ ﻣﯿﮟ
بچاتا خاک تیرے آشیاں کو
لگی تھی آگ جب اپنے جگر میں
ﭼﻼ ﺗﮭﺎ کسی لمبے
ﺳﻔﺮ ﮐﻮ
ﻣﻼ ﺗﮭﺎ ﺁﺷﻨﺎ ﮐﻮﺉ ﮈﮔﺮ
ﻣﯿﮟ
ﺑﻨﺎ ﮈﺍﻻ ﻣﺠﮭﮯ دیوانه اس نے
ﻋﺠﺐ ﻣﻌﺼﻮﻣﯿﺖ ﺗﮭﯽ
ﺍﺱ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ
سمجھنے میں تجھے صدیاں لگیں گے
ﺳﻨﺎﺋﻮﮞﺣﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺍﺏ
ﻣﺨﺘﺼﺮ ﻣﯿﮟ
ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮬﮯ ﺑﮭﺖ ﮔﮭﺮﺍ
ﭘﺘﻪ ﺗﻬﺍ
بہت ھی ﺳﻮﭺ ﮐﺮ ﮐﻮﺩﺍ
ﺑﺤﺮ ﻣﯿﮟ
ماہی احمد — ستمبر 3، 2013 10:16 صبح
اساتذه كرام اب تهڑی نظر ثانی کریں
.
ﭼﻼ ﺗﮭﺎ کسی لمبے
ﺳﻔﺮ ﮐﻮ
ﻣﻼ ﺗﮭﺎ ﺁﺷﻨﺎ ﮐﻮﺉ ﮈﮔﺮ
ﻣﯿﮟ
ﭼﻼ ﺗﮭﺎ پھر کسی لمبے
ﺳﻔﺮ ﮐﻮ
ﻣﻼ ﺗﮭﺎ ﺁﺷﻨﺎ ﮐﻮﺉ ﮈﮔﺮ
ﻣﯿﮟ
جہاں تک میرا خیال ہے۔ :)
مہدی نقوی حجاز — ستمبر 3، 2013 10:26 صبح
کچھ چیزوں پر توجہ درکار ہے:
پہلے شعر میں: مصرعِ ثانی میں "عمر" کا تلفظ غلط ہے۔ درست تلفظ میں "م" ساکن ہے۔ لہٰذا قافیہ بھی زائل ہو گیا۔
دوسرے شعر میں: مصرعِ ثانی میں "دہر" کا تلفظ غلط باندھا گیا ہے۔ اس میں بھی "دال" اور "رے" کے بیچ میں "ہ" ساکن ہے۔ لہٰذا یہاں بھی شعر قافیے سے عاری ہے۔
چہتے شعر میں: مصرعِ اولیٰ بے بحرہ ہوا جاتا ہے۔ ماہی صاحبہ نے بحر میں لانے کی اچھی کوشش کی ہے۔
ان نمایاں اغلاط کو درست کیجیے پھر زبان و بیان کو دیکھتے ہیں۔ اچھی کاوش ہے۔
رحیم ساگر بلوچ — ستمبر 3، 2013 10:49 صبح
ﭼﻼ ﺗﮭﺎ پھر کسی لمبے
ﺳﻔﺮ ﮐﻮ
ﻣﻼ ﺗﮭﺎ ﺁﺷﻨﺎ ﮐﻮﺉ ﮈﮔﺮ
ﻣﯿﮟ
جہاں تک میرا خیال ہے۔ :)
پھر لگا نے سے بحر سے تجاوز نھیں کر رھا؟
ماہی احمد — ستمبر 3، 2013 10:51 صبح
میرا نہیں خیال کہ ایسا ہے، اساتذہ کرام بہتر بتا سکتے ہیں :)
مہدی نقوی حجاز — ستمبر 3، 2013 10:58 صبح
پھر لگا نے سے بحر سے تجاوز نھیں کر رھا؟
نہیں پھر لگانے سے مکمل ہو رہی ہے بحر۔
رحیم ساگر بلوچ — ستمبر 3، 2013 11:26 صبح
نہیں پھر لگانے سے مکمل ہو رہی ہے بحر۔
شکریه جناب اب عمر اور دهر كا مسله باقي هے
رحیم ساگر بلوچ — ستمبر 4، 2013 10:05 صبح
نہیں پھر لگانے سے مکمل ہو رہی ہے بحر۔

یه كيسا رهے گا
ﺳﺘﻢ ﺗﮭﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ
ﮬﺮ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ
ﮬﺰﺍﺭﻭﮞ ﺗﯿﺮ ﺟﮭﯿﻠﮯ ﺍﺱ
گزر ﻣﯿﮟ
ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻧﮯ ﺳﺘﻢ ﮐﯽ
ﺍﻧﺘﮭﺎ ﮐﯽ
ﻣﺮﺍ ﺟﯿﻨﺎ ﮬﻮﺍ ﻣﺸﮑﻞ نگر ﻣﯿﮟ
آپ بھی کوئ تجویز دیں اگر یه صحيح نهيں ھیں تو
مہدی نقوی حجاز — ستمبر 4، 2013 10:19 صبح
اب تمام مصرعے بحر میں آگئے اور قوافی بھی درست ہیں
رحیم ساگر بلوچ — ستمبر 4، 2013 10:24 صبح
اب تمام مصرعے بحر میں آگئے اور قوافی بھی درست ہیں

مطلب غزل تیار ھے؟
مہدی نقوی حجاز — ستمبر 4، 2013 10:29 صبح
ایک مرتبہ یک جا کر کے دوبارہ ارسال کر دیجیے۔
ماہی احمد — ستمبر 4، 2013 1:30 شام
نہیں تڑکہ رہتا ہے ;):):):):)
رحیم ساگر بلوچ — ستمبر 4، 2013 1:52 شام

میں سمجھا نھیں
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B3%D8%AA%D9%85-%D8%AA%DA%BE%DB%92-%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%DA%BE%D8%B1-%D8%B3%D9%81%D8%B1-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.67425/