سحر کو شب نہ مانیں گے غزل نمبر 54 شاعر امین شارؔق

امین شارق — مئی 28، 2021 10:42 صبح
محترم الف عین صاحب
محترم محمّد احسن سمیع :راحل: صاحب​
سحر کو شب نہ مانیں گے
جھوٹ ہے سب نہ مانیں گے
اپنا ہی نقصان کریں گے
باتیں جب نہ مانیں گے
آنکھوں سے اقرار ہے لیکن
زیرِ لب نہ مانیں گے
تم چاہو تو جان بھی حاضر
تم سے کب نہ مانیں گے
ناراض ہیں پر ناراضی کا
ہو جو بھی سبب نہ مانیں گے
نرم طبیعت رکھنے والے
غیض و غضب نہ مانیں گے
سمجھانے میں دیر ہوئی وہ
شاید اب نہ مانیں گے
عادت ہے محبوب کی یہ بد
ہو غصہ تب نہ مانیں گے
اپنی خواہش منوالیں گے
پر میری طلب نہ مانیں گے
جو سوزِ غم کے عادی ہیں
وہ سازِ طرب نہ مانیں گے
دل رکھتے ہیں دل کے قاتل
یہ بات عجب نہ مانیں گے

کچھ ادب تعظیم کی باتیں ہیں
جو بے ادب نہ مانیں گے
کفار کی یہ بد بختی ہے
سچا مذہب نہ مانیں گے
یہ باطل لوگ قیامت تک
حق کا مطلب نہ مانیں گے


شارؔق وہ نار میں جائیں گے
جو حکمِ رب نہ مانیں گے
ارشد چوہدری — مئی 28، 2021 11:51 شام
اچھے فقرے ہیں بھائی، لیکن کوئی فقرہ مصرع تب بنتا ہے جب وہ کسی بحر میں ہو اور وزن پورا ہو
الف عین — مئی 29، 2021 5:14 صبح
ادھر اسی 'بحر' میں غزلیں کہہ رہے ہو جس کے بارے میں لکھ چکا ہوں کہ کہیں چار بار کہیں ساڑھے تین بار فعلن آ رہا ہے تقطیع میں. یا تو چار بار ہی ہو یا سارھے تین( یعنی آخری بار فع/فعل)۔ مزید یہ کہ 'نہ' محض 'ن' یعنی یک حرفی باندھنا قابل ترجیح ہے۔ بطور نا، دو حرفی بر وزن فع نہیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B3%D8%AD%D8%B1-%DA%A9%D9%88-%D8%B4%D8%A8-%D9%86%DB%81-%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C%DA%BA-%DA%AF%DB%92-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1-54-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1-%D8%A7%D9%85%DB%8C%D9%86-%D8%B4%D8%A7%D8%B1%D8%94%D9%82.116413/