بہت خوب!
خرم آپ نے اپنی غزل کی درگت دیکھی کیا؟
غالب کے دھاگے پر؟
ارے محسن بھائی یہ کیا کہا آپ نے ہا ہاہ اہ ا درگت اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
حجازی صاحب درگت والی بات نہیں ہے۔قسم اس خدا کی کہ جو 'خالق و موجد' ہے اس موسیقی کا جو میں اس وقت سن رہا ہوں
کسی کو کسی استادی کا دعویٔ باطل نہیں ہے لیکن خرم شہزاد صاحب سرِ بزم فرماتے ہیں کہ اصلاح چاہیئے۔اگر ان کو ان کی غلطی پر مطلع نہ کیا جائے تو یہ میری بد دیانتی اور بد نیتی ہوگی چاہے وہ کوئی ذاتی پیغام سے پوچھے یا سرِ محفل
خرم صاحب اقرار فرمائیں گے کہ اب وہ 'خواب' کو زندگی بھر غلط نہیں دیکھ سکتے، یعنی نہیں باندھ سکتے
کسی کی کوریکشن لسٹ میں اضافہ اسکی کامیابی کی دلیل ہے، خرم صاحب بالکل صحیح راستے پر گامزن ہیں
وارث صاحب کا یہ کہنا صحیح راستے پر ہوں تو سمجھ لے کے پھر صحیح راستے پر ہوں بہت شکریہ سر جی مجھے اچھی طرح یاد ہے ”خواب“ کو کیسے استعمال کرنا ہیں اور اس کے بعد میں نے بہت دفعہ خواب کو استعمال کیا لیکن کہی بھی غلط استعمال نہیں کیا ہر جگہ درست استعمال کیا اگر وارث صاحب پہلے دن مجھے اس غلطی کے بارے میں نا بتاتے تو میں آج تک حقیقت کو چھوڑ کر خواب کے پیچھے ہی ہوتا بہت شکریہ وارث صاحب
بہت اچھی غزل ہے اسکا مطلع بہت ہی اچھا ہے
سر پہ سایہ نہیں ہے بادل کا
دیکھ کیسا ہے حال پاگل کا
قافیے درست کیں بہت خوب غزل ہو گی۔
جی میں اس پر کوشش کروں گا راجا بھائی
بہت درست فرمایا آپ نے وارث صاحب، سونا بھٹی میں جل کر ہی کندن بنتا ہے، استادوں اگر غلطیوں کی نشاندہی نہ کریں تو شاگرد بھلا کیسے عالم فاضل بن سکتے ہیں؟
جی ہاں آپ نے درست فرمایا راجا بھائی بالکل ایسا ہی ہے
خرم۔ پہلے دو اشعار کے بعد مزید اشعار کا اضافہ کرو تو دیکھا جائے۔ باقی اشعار کو ابھی لگ ڈال کر رکھ دو۔ پال میں جس میں آم پکائے جاتے ہیں۔ ہمارے مصحف اقبال صاحب اسے مشتاق یوسفی کی طرح ’زنبیل‘ کیہتے ہیں۔ کبھیہ فرصت میں زنبیل سے نکال کر پھر دیکھنا کہ کیا کیا جا سکتا ہے ان کا۔
جی سر ضرور میں اس پر توجہ دوں گا زنبیل سے ایک واقعہ یاد آ گیا لیکن رہنے دے پھر کبھی سناؤں گا یہاں اگر بجلی نے ساتھ نا دیا تو سب لکھا بجلی کی نذر ہو جائے گا
