مزمل شیخ بسمل — جولائی 27، 2012 1:50 شام
ایک صاحب جو کہ شاعر بھی ہیں پوچھتے ہیں کے قرینہ اور دلیل میں کیا فرق ہے؟
اب میرا اساتذہ اور اراکین سے یہی سوال ہے کہ بتائیں ان دونوں میں کیا فرق ہے؟ کیا یہ سخن کے معائب یا محاسن کی اصطلاح ہے؟
الف عین — جولائی 28، 2012 10:29 صبح
مزمل شیخ بسمل — جولائی 28، 2012 8:17 شام
محمد وارث — جولائی 30، 2012 6:51 صبح
یہ علم المعنی اور بیان کے مسائل ہیں۔ بہتر ہے آپ کسی کتاب کا مطالعہ فرما لیں، اور افسوس اس پر میرا مطالعہ قابل ذکر نہیں ہے۔ بحر الفصاحت کی چوتھی اور پانچویں جلد اسی پر مشتمل ہے لیکن میں نے کبھی دل جمعی سے ان کا مطالعہ نہیں کیا۔
مزمل شیخ بسمل — جولائی 30، 2012 7:44 شام
یہ علم المعنی اور بیان کے مسائل ہیں۔ بہتر ہے آپ کسی کتاب کا مطالعہ فرما لیں، اور افسوس اس پر میرا مطالعہ قابل ذکر نہیں ہے۔ بحر الفصاحت کی چوتھی اور پانچویں جلد اسی پر مشتمل ہے لیکن میں نے کبھی دل جمعی سے ان کا مطالعہ نہیں کیا۔
چند ایک کتابیں ڈھونڈیں مگر قرینہ کی کوئی اصطلاحی تشریح نہیں ملی۔ دلالت کے بارے میں کافی لکھا ہے کتب میں۔
احمد بلال — جولائی 30، 2012 9:12 شام
جہاں تک میرے علم میں ہے جب قیاس کے ذریعے ایک نئے مسئلہ یا واقعہ یا حکم کی کسی سابقہ کے ساتھ مطابقت ظاہر کرنی ہو تو اس کی لیے کوئی قرینہ صارفہ ہونا ضروری ہوتا ہے۔ مثلا تشبیہ میں یہ وجہ شبہ کہلائے گا۔ دلیل کو صحیح ثابت کرنے کےلیے قرینہ صارفہ چاہئے ہوتا ہے۔
میرے خیال میں میں اس کی صحیح طور وضاحت نہیں کر سکا۔ دوبارہ کسی وقت پھر واضح کرنے کی کوشش کروں گا۔
الف عین ،
محمد وارث
مزمل شیخ بسمل — اگست 20، 2012 4:05 شام
فاتح — اگست 20، 2012 5:06 شام
یہ علم المعنی اور بیان کے مسائل ہیں۔ بہتر ہے آپ کسی کتاب کا مطالعہ فرما لیں، اور افسوس اس پر میرا مطالعہ قابل ذکر نہیں ہے۔ بحر الفصاحت کی چوتھی اور پانچویں جلد اسی پر مشتمل ہے لیکن میں نے کبھی دل جمعی سے ان کا مطالعہ نہیں کیا۔
متفق!
ہمارا بھی یہی حال ہے۔۔۔
مزمل شیخ بسمل — اگست 20، 2012 5:36 شام
متفق!
ہمارا بھی یہی حال ہے۔۔۔

مزمل شیخ بسمل — اگست 20، 2012 5:37 شام
مزمل شیخ بسمل — اگست 19، 2013 11:52 صبح
اللہ اکبر۔۔۔۔
یہاں بھی کچھ لکھنا ہے۔