1) زحافات کی مدد سے بحر کس طرح بنائی جا سکتی ہےِ
2) کیا یہ بحور، بحرِ خفیف کی ہیں؟
فاعلاتن فعلیان فعلن(211/1221/2212)
فاعلاتن فعلاتن فعلن(211/2211/2212)
زحافات کی مدد سے کوئی بحر بنانا کسی شاعر کا کام نہیں ہے۔ یہ ماہرینِ علم عروض کا کام ہے، اور وہ بھی خالی ماہر کا نہیں بلکہ ان کا جو اس علم میں امام ہو۔ اور یہ کام ہو چکا، جتنی بحریں بننی تھیں وہ بن چکیں، سینکڑوں میں ہیں ان کے نام یاد رکھنا تو کجا کوئی افاعیل ہی جان لے تو بہت بڑی بات ہے۔ ان سینکڑوں میں سے چالیس کے قریب ایسی بحریں ہیں جن میں نوے فیصدی اردو شاعری ہے، آج کل تو درجن سے زیادہ استعمال ہی نہیں ہوتیں۔
فاعلاتن فعلیان فعلن
یہ کوئی بحر نہیں ہے۔
فاعلاتن فعلاتن فعلن
یہ بحر خفیف نہیں، بحر رمل کی ایک مزاحف شکل ہے۔ خفیف میں ہمیشہ درمیانی رکن مفاعلن ہی ہوگا، اور رمل میں ہمیشہ فعلاتن۔ اس بحر میں آپ کے پسندیدہ شاعر فراز کی ایک خوبصورت غزل یاد آ گئی
تیری باتیں ہی سنانے آئے
دوست بھی دل ہی دُکھانے آئے
پھول کھلتے ہیں تو ہم سوچتے ہیں
تیرے آنے کے زمانے آئے
اور ایک مزید خوبصورت غٰزل ناصر کاظمی کی
دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا
وہ تری یاد تھی اب یاد آیا