محمد عبدالرؤوف — نومبر 14، 2021 6:40 صبح
الف عین ،
محمّد احسن سمیع :راحل: ،
یاسر شاہ ،
سید عاطف علی کہو کہ اللہ ایک ہے
وہی صمد ہے اور غنی
نہ وہ کسی کی آل ہے
نہ آل اس کی ہے کوئی
نہ کوئی ایسا اہل ہے
کرے جو اس کی ہمسری
الف عین — نومبر 15، 2021 4:07 صبح
"اور غنی" قوسین میں رکھا جائے کہ یہ محض اللہ الصمد کا ترجمہ نہیں
ویسے نظم درست ہے
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 15، 2021 4:12 صبح
"اور غنی" قوسین میں رکھا جائے کہ یہ محض اللہ الصمد کا ترجمہ نہیں
ویسے نظم درست ہے
استادِ محترم! کیا نظم اس طرح کے فارمیٹ میں بھی ہوسکتی ہے کہ پوری نظم میں ایک ہی ردیف اور ہم قافیہ الفاظ ہوں غزل کی طرح؟
سید عاطف علی — نومبر 15، 2021 4:14 صبح
"اور غنی" قوسین میں رکھا جائے کہ یہ محض اللہ الصمد کا ترجمہ نہیں
ویسے نظم درست ہے
اگر تحت اللفظ مطابقت مقصود ہو تو مصرع یوں کیا جاسکتا ہے۔
وہی ہے بے نیاز بھی
الف عین — نومبر 15، 2021 4:27 صبح
استادِ محترم! کیا نظم اس طرح کے فارمیٹ میں بھی ہوسکتی ہے کہ پوری نظم میں ایک ہی ردیف اور ہم قافیہ الفاظ ہوں غزل کی طرح؟
کوئی حد بندی ہے ہی نہیں فارمیٹ میں۔ آج کل تو نثری نظم میں وزن کی بھی ضرورت نہیں
محمد عبدالرؤوف — نومبر 15، 2021 5:02 صبح
"اور غنی" قوسین میں رکھا جائے کہ یہ محض اللہ الصمد کا ترجمہ نہیں
ویسے نظم درست ہے
آپ کی توجہ کا بہت بہت شکریہ۔ سلامت رہیں
اچھا مشورہ ہے
محمد عبدالرؤوف — نومبر 15، 2021 5:03 صبح
اگر تحت اللفظ مطابقت مقصود ہو تو مصرع یوں کیا جاسکتا ہے۔
وہی ہے بے نیاز بھی
بہترین مشورہ ہے۔ بہت شکریہ
مجھے
اور غنی کا لفظ کھٹک رہا تھا۔ میں بھی تحت اللفظ سے مطابقت چاہتا تھا کہ محض ترجمہ ہی ہو اور اپنی طرف سے کچھ بھی نہ بڑھاؤں۔
اشرف علی — نومبر 20، 2021 2:42 صبح
الف عین ،
محمّد احسن سمیع :راحل: ،
یاسر شاہ ،
سید عاطف علیکہو کہ اللہ ایک ہے
وہی صمد ہے اور غنی
نہ وہ کسی کی آل ہے
نہ آل اس کی ہے کوئی
نہ کوئی ایسا اہل ہے
کرے جو اس کی ہمسری
ماشاء اللّٰہ
محمد عبدالرؤوف — نومبر 20، 2021 4:48 صبح
بہت شکریہ پیارے بھائی، سلامت رہیں
محمد عبدالرؤوف — نومبر 20، 2021 4:49 صبح
کہو کہ اللہ ایک ہے
وہی ہے بے نیاز بھی
نہ وہ کسی کی آل ہے
نہ آل اس کی ہے کوئی
نہ کوئی ایسا اہل ہے
کرے جو اس کی ہمسری