سچ تو یہ ہے اگر ترا کردار مر گیا

حنیف خالد — دسمبر 23، 2015 6:38 صبح
سچ تو یہ ہے اگر ترا کردار مر گیا
زندہ بھی تو اگر ہے تو پھر یار مر گیا
اُس قوم کی شکست میں کوئی نہیں ہے شک
جس کا میانِ جنگ ہی سالار مر گیا
ایسا نہ ہو کہ موت پہ یوں کہہ رہے ہوں لوگ
اچھا ہوا کہ ایک تو مردار مر گیا
تب سے ہمیں نصیب ہے ذلت کی زندگی
جب سے ہمارا صاحبِ تلوار، مر گیا
جس نے بنائے شہر کے سب اونچے اونچے گھر
اک جھونپڑے میں کل وہی معمار مر گیا
اکمل زیدی — دسمبر 23، 2015 7:00 صبح
تب سے ہمیں نصیب ہے ذلت کی زندگی
جب سے ہمارا صاحبِ تلوار، مر گیا
اچھی ھے ۔۔۔۔ تو بھائی . . . عزت کی موت اختیار کریں اور تلوار سمبھالیں ....
سید اسد معروف — دسمبر 23، 2015 7:18 شام
جس نے بنائے شہر کے سب اونچے اونچے گھر
اک جھونپڑے میں کل وہی معمار مر گیا
بہت خوب۔
الف عین — دسمبر 24، 2015 4:32 شام
مطلع میں مجھے ’سچ تو ہے یہ‘ بہتر ہو گا میرے خیال میں۔
میانِ جنگ؟ دورانِ جنگ کے متبادل کے طور پر درست نہیں۔
اور ”ایک تو مردار مر گیا‘ اور ’ایک مردار تو مر گیا‘ میں فرق ہے۔ یہاں ’ایک مردار تو‘ کا محل ہے۔اغلاط کی نشان دہی کر دیتا ہوں۔ ماشاء اللہ خود ہی درست کر سکتے ہیں، اس کا یقین ہے مجھے۔
نوید اکرم — دسمبر 24، 2015 6:27 شام
جس نے بنائے شہر کے سب اونچے اونچے گھر
اک جھونپڑے میں کل وہی معمار مر گیا
زبردست
حنیف خالد — دسمبر 25، 2015 1:01 شام
اساتذہ کی رہنمائی اور دوستوں کی پسندیدگی کا شکریہ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B3%DA%86-%D8%AA%D9%88-%DB%8C%DB%81-%DB%81%DB%92-%D8%A7%DA%AF%D8%B1-%D8%AA%D8%B1%D8%A7-%DA%A9%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D8%B1-%D9%85%D8%B1-%DA%AF%DB%8C%D8%A7.86607/