سچ تو یہ ہے کہ جو بھی جانتا ہے ۔

عظیم — ستمبر 30، 2017 3:35 صبح

سچ تو یہ ہے کہ جو بھی جانتا ہے
خود کو لاعلم ہی وہ مانتا ہے
کچھ ریاضت سے کام لے اے دوست
کیا کتابوں کی خاک چھانتا ہے
وہ بھلے ہی دکھائی دے کہ نہ دے
حس میں آتا ہے دل تو مانتا ہے
اس پہ کہتا ہے ڈھونڈ کر تو دکھا
خود ہی پردوں پہ پردے تانتا ہے
کیا کسی کو صفائی دوں میں عظیم
میری نیت کو رب جو جانتا ہے
*****​
عظیم — ستمبر 30، 2017 3:39 صبح
بابا ۔
الف عین — ستمبر 30، 2017 3:36 شام
واہ، اچھی غزل ہے۔ اصلاح کی ضرورت نہیں
عظیم — ستمبر 30، 2017 4:26 شام
واہ، اچھی غزل ہے۔ اصلاح کی ضرورت نہیں
جی بابا ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B3%DA%86-%D8%AA%D9%88-%DB%8C%DB%81-%DB%81%DB%92-%DA%A9%DB%81-%D8%AC%D9%88-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92-%DB%94.98465/