سچ سنیں ان میں حوصلہ ہی نہیں

صابرہ امین — مارچ 19، 2022 8:19 صبح
محترم اساتذہ الف عین ، ظہیراحمدظہیر محمّد احسن سمیع :راحل: محمد خلیل الرحمٰن ، یاسر شاہ ، سید عاطف علی
السلام علیکم،
آپ سب کی خدمت میں ایک غزل حاضر ہے ۔ آپ سے اصلاح کی درخواست ہے۔
سچ سنیں ان میں حوصلہ ہی نہیں
بات کرنے کو کچھ بچا ہی نہیں
دل کے دینے پہ ہم ہوئے رسوا
دل کے لینے کی کچھ سزا ہی نہیں
یا
دل کو دینے پہ ہم ہوئے رسوا
دل کو لینے کی کچھ سزا ہی نہیں
اس نے رستہ بدل لیا اپنا
میرے دل سے مگر گیا ہی نہیں
وہ بھی ناراض ہو گئے ہم سے
جن سے ہم نے کہا سنا ہی نہیں
کیا نہیں ہے جو زندگی میں ہے
پھر بھی جینے میں کچھ مزا ہی نہیں
سارے عالم کی ہے خبر ہم کو
اپنے بارے میں کچھ پتا ہی نہیں
کٹ گیا حق کی راہ میں آخر
پر مرا سر کبھی جھکا ہی نہیں
یا
یہ مرا سر کبھی جھکا ہی نہیں
عشق ناکام ہو گیا اپنا
اُس میں سب ہے مگر وفا ہی نہیں
اب تو تم یاد بھی نہیں آتے
اپنی حیرت کی انتہا ہی نہیں
اپنی قسمت پہ انحصار ہے اب
ہم کو تم سے کوئی گلہ ہی نہیں
ہاتھ اٹھائے ہیں ہم نے مدت سے
مانگنا کیا ہے کچھ پتا ہی نہیں
خورشیداحمدخورشید — مارچ 19، 2022 9:18 صبح
اس نے رستہ بدل لیا اپنا
میرے دل سے مگر گیا ہی نہیں
سارے عالم کی ہے خبر ہم کو
اپنے بارے میں کچھ پتا ہی نہیں
خوبصورت!
صابرہ امین — مارچ 19، 2022 9:40 صبح
شکریہ!
ارشد چوہدری — مارچ 19، 2022 10:33 صبح
چھوٹی بحر میں خوبصورت غزل ،بہت خوب
سیما علی — مارچ 19، 2022 10:47 صبح
اپنی قسمت پہ انحصار ہے اب
ہم کو تم سے کوئی گلہ ہی نہیں
بہت اعلیٰ
پتہ نہیں کیوں آپکے اس شعر سے فراز صاحب کا ایک شعر یاد آگیا ؀
دل دھڑکتا نہیں ٹپکتا ہے
کل جو خواہش تھی آبلہ ہے مجھے
عظیم — مارچ 19، 2022 2:37 شام
سارے عالم کی ہے خبر ہم کو
اپنے بارے میں کچھ پتا ہی نہیں

ہاتھ اٹھائے ہیں ہم نے مدت سے
مانگنا کیا ہے کچھ پتا ہی نہیں
بہت خوب صابرہ امین بہن۔ یہ دو اشعار خاص طور پر پسند آئے
"حق کی راہ" والا شعر میرا خیال ہے کہ بہتر کر نے کی ضرورت ہے۔ پہلے مصرع میں 'حق کی' میں تنافر لگ رہا ہے۔ اور دوسرے میں "پر" بمعنی لیکن/مگر فصیح نہیں سمجھا جاتا۔
سیما علی — مارچ 19، 2022 3:42 شام
اب تو تم یاد بھی نہیں آتے
اپنی حیرت کی انتہا ہی نہیں
حقیقت سے قریب تر
بہت خوب
باقی باتیں تو استائذہ اکرام بتا سکتے ہیں ۔۔۔کبھی کبھی واقعی اس کیفیت پر انسان حیران ہوتا ہے ۔۔۔
صابرہ امین — مارچ 19، 2022 4:58 شام
چھوٹی بر میں خوبصورت غزل ،بہت خوب
بہت شکریہ، ارشد بھائی ۔ ۔
صابرہ امین — مارچ 19، 2022 4:58 شام
بہت اعلیٰ
پتہ نہیں کیوں آپکے اس شعر سے فراز صاحب کا ایک شعر یاد آگیا ؀
دل دھڑکتا نہیں ٹپکتا ہے
کل جو خواہش تھی آبلہ ہے مجھے
واقعی خوبصورت شعر ہے سیما آپا ۔ ۔
صابرہ امین — مارچ 19، 2022 5:02 شام
بہت خوب صابرہ امین بہن۔ یہ دو اشعار خاص طور پر پسند آئے
"حق کی راہ" والا شعر میرا خیال ہے کہ بہتر کر نے کی ضرورت ہے۔ پہلے مصرع میں 'حق کی' میں تنافر لگ رہا ہے۔ اور دوسرے میں "پر" بمعنی لیکن/مگر فصیح نہیں سمجھا جاتا۔
جزاک اللہ عظیم بھائی ، اب دیکھیے ۔
سب نے کوشش تو کی بہت لیکن
یہ مرا سر کبھی جھکا ہی نہیں
صابرہ امین — مارچ 19، 2022 5:04 شام
حقیقت سے قریب تر
بہت خوب
باقی باتیں تو استائذہ اکرام بتا سکتے ہیں ۔۔۔کبھی کبھی واقعی اس کیفیت پر انسان حیران ہوتا ہے ۔۔۔
ٹھیک کہا سیما آپا، وقت کی دھول میں کتنے ہی چہرے گم ہو جاتے ہیں جن کے بغیر کبھی جینا بھی محال لگا کرتا ہے۔
مقبول — مارچ 19، 2022 5:28 شام
محترم اساتذہ الف عین ، ظہیراحمدظہیر محمّد احسن سمیع :راحل: محمد خلیل الرحمٰن ، یاسر شاہ ، سید عاطف علی
السلام علیکم،
آپ سب کی خدمت میں ایک غزل حاضر ہے ۔ آپ سے اصلاح کی درخواست ہے۔
سچ سنیں ان میں حوصلہ ہی نہیں
بات کرنے کو کچھ بچا ہی نہیں
دل کے دینے پہ ہم ہوئے رسوا
دل کے لینے کی کچھ سزا ہی نہیں
یا
دل کو دینے پہ ہم ہوئے رسوا
دل کو لینے کی کچھ سزا ہی نہیں
اس نے رستہ بدل لیا اپنا
میرے دل سے مگر گیا ہی نہیں
وہ بھی ناراض ہو گئے ہم سے
جن سے ہم نے کہا سنا ہی نہیں
کیا نہیں ہے جو زندگی میں ہے
پھر بھی جینے میں کچھ مزا ہی نہیں
سارے عالم کی ہے خبر ہم کو
اپنے بارے میں کچھ پتا ہی نہیں
کٹ گیا حق کی راہ میں آخر
پر مرا سر کبھی جھکا ہی نہیں
یا
یہ مرا سر کبھی جھکا ہی نہیں
عشق ناکام ہو گیا اپنا
اُس میں سب ہے مگر وفا ہی نہیں
اب تو تم یاد بھی نہیں آتے
اپنی حیرت کی انتہا ہی نہیں
اپنی قسمت پہ انحصار ہے اب
ہم کو تم سے کوئی گلہ ہی نہیں
ہاتھ اٹھائے ہیں ہم نے مدت سے
مانگنا کیا ہے کچھ پتا ہی نہیں
بہت خوب
الف عین — مارچ 20، 2022 2:28 صبح
ماشاء اللہ اچھی غزل ہے صابرہ،
دل کو دینے والا شعر زیادہ واضح ہے، "کے" لینے/دینے کی بہ نسبت، اسے رکھو
"سر جھکا" والا ترمیم شدہ درست اور بہتر ہے۔
ہاں، یہ شعر بھی کچھ عجز بیان لگتا ہے
وہ بھی ناراض ہو گئے ہم سے
جن سے ہم نے کہا سنا ہی نہیں
باقی درست ہیں اشعار
محمد عدنان اکبری نقیبی — مارچ 20، 2022 6:11 صبح
محترم اساتذہ الف عین ، ظہیراحمدظہیر محمّد احسن سمیع :راحل: محمد خلیل الرحمٰن ، یاسر شاہ ، سید عاطف علی
السلام علیکم،
آپ سب کی خدمت میں ایک غزل حاضر ہے ۔ آپ سے اصلاح کی درخواست ہے۔
سچ سنیں ان میں حوصلہ ہی نہیں
بات کرنے کو کچھ بچا ہی نہیں
دل کے دینے پہ ہم ہوئے رسوا
دل کے لینے کی کچھ سزا ہی نہیں
یا
دل کو دینے پہ ہم ہوئے رسوا
دل کو لینے کی کچھ سزا ہی نہیں
اس نے رستہ بدل لیا اپنا
میرے دل سے مگر گیا ہی نہیں
وہ بھی ناراض ہو گئے ہم سے
جن سے ہم نے کہا سنا ہی نہیں
کیا نہیں ہے جو زندگی میں ہے
پھر بھی جینے میں کچھ مزا ہی نہیں
سارے عالم کی ہے خبر ہم کو
اپنے بارے میں کچھ پتا ہی نہیں
کٹ گیا حق کی راہ میں آخر
پر مرا سر کبھی جھکا ہی نہیں
یا
یہ مرا سر کبھی جھکا ہی نہیں
عشق ناکام ہو گیا اپنا
اُس میں سب ہے مگر وفا ہی نہیں
اب تو تم یاد بھی نہیں آتے
اپنی حیرت کی انتہا ہی نہیں
اپنی قسمت پہ انحصار ہے اب
ہم کو تم سے کوئی گلہ ہی نہیں
ہاتھ اٹھائے ہیں ہم نے مدت سے
مانگنا کیا ہے کچھ پتا ہی نہیں
ماشاءاللّٰه
بہت عمدہ اور خوبصورت کلام
اشرف علی — مارچ 20، 2022 3:56 شام
و علیکم السلام و رحمتہ اللّٰہ و برکاتہ
اس نے رستہ بدل لیا اپنا
میرے دل سے مگر گیا ہی نہیں
واااااہ
اب تو تم یاد بھی نہیں آتے
اپنی حیرت کی انتہا ہی نہیں
خوووووب !
صابرہ امین — مارچ 20، 2022 5:48 شام
و علیکم السلام و رحمتہ اللّٰہ و برکاتہ
واااااہ
خوووووب !
سپاس گزار ہوں اشرف علی بھائی ۔ ۔
یاسر شاہ — مارچ 20، 2022 6:03 شام
بہن خوب غزل ہے -ما شاء الله -
یہ غزل پڑھ کے محسوس ہوتا ہے کہ واقعی شاعرہ کا کلام ہے -
صابرہ امین — مارچ 20، 2022 6:05 شام
بہن خوب غزل ہے -ما شاء الله -
یہ غزل پڑھ کے محسوس ہوتا ہے کہ واقعی شاعرہ کا کلام ہے -
کیا کہوں بھیا ۔ ۔ شکریہ۔ سلامت رہیں ۔:blushing::blushing::blushing:
فیصل عظیم فیصل — مارچ 20، 2022 6:57 شام
ما شا اللہ لاقوۃ الا باللہ
صابرہ امین — مارچ 21، 2022 10:00 صبح
ما شا اللہ لاقوۃ الا باللہ
جزاک اللہ خيرا کثيرا۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B3%DA%86-%D8%B3%D9%86%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D9%86-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AD%D9%88%D8%B5%D9%84%DB%81-%DB%81%DB%8C-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA.118261/