سینہِ سوزاں تِری بیتابی یہ بیکار ہے

فاروق احمد بھٹی — مارچ 23، 2015 3:27 شام
اساتذہ کرام جناب محمد یعقوب آسی صاحب، جناب الف عین صاحب، جناب محمد وارث صاحب، اور دیگر صاحبانِ علم اور محفلین سے التماس ہے کہ غزل کی غلطیوں کے بارے میں راہنما ئی و اصلاح فرمائیں۔ شکریہ
سینہِ سوزاں تِری بیتابی یہ بیکار ہے
کس لئے تو نے کیا جینا مِرا دشوار ہے
ہر گھڑی تیری لڑائی مجھ سے کیوں ہونے لگی
کیوں تو مجھ سے لحظہ لحظہ برسرِ پیکار ہے
کیا بگاڑا ہے تیرامیں نے مجھے بتلا تو دے
میں تو سویا ہوں تو آخر کس طرح بیدار ہے
کارزارِ عشق میں رسوائی ہی رسوائی ہے
حادثاتِ دہر سے اب تجھ کو کیا درکار ہے
کچھ نہ کہہ دل کو تو احمدؔ، دل سے ہے یہ روشنی
دل نہ ہو ایسا اگر، بس تُو تَو پھر نادار ہے
loneliness4ever — مارچ 23، 2015 3:49 شام
سینہِ سوزاں تِری بیتابی یہ بیکار ہے
کس لئے تو نے کیا جینا مِرا دشوار ہے
کارزارِ عشق میں رسوائی ہی رسوائی ہے
حادثاتِ دہر سے اب تجھ کو کیا درکار ہے
ہر گھڑی تیری لڑائی مجھ سے کیوں ہونے لگی
کیوں تو مجھ سے لحظہ لحظہ برسرِ پیکار ہے
کیا بگاڑا ہے تیرامیں نے مجھے بتلا تو دے
میں تو سویا ہوں تو آخر کس طرح بیدار ہے
کچھ نہ کہہ دل کو تو احمدؔ، دل سے ہے یہ روشنی
دل نہ ہو ایسا اگر، بس تُو تَو پھر نادار ہے

فاروق بھائی بہت خوب ۔۔۔۔ اب اصلاحی نظر تو استاد حضرات ہی ڈالیں گے
مگر اس لڑی میں آنا اور لکھا ہوا پڑھنا اچھا لگا
اللہ آباد و کامران رکھے آپکو ۔۔۔۔ آمین
فاروق احمد بھٹی — مارچ 23، 2015 3:51 شام
فاروق بھائی بہت خوب ۔۔۔۔ اب اصلاحی نظر تو استاد حضرات ہی ڈالیں گے
مگر اس لڑی میں آنا اور لکھا ہوا پڑھنا اچھا لگا
اللہ آباد و کامران رکھے آپکو ۔۔۔۔ آمین
حوصلہ افزائی کا شکریہ اور دعاؤں سے نوازنے کا مزید شکریہ
اللہ آپ کو بھی شاد و کامران رکھے۔۔۔آمین
الف عین — مارچ 24، 2015 7:18 صبح
معنوی اعتبار سے ۔۔۔ سمجھ میں نہیں آیا کہ خطاب کس سے ہے۔ اگرچہ یہ غزل کے فارم میں ہے، لیکن مسلسل لگ رہی ہے۔ اس لئے کسی ایک شعر سے تو پتہ چلے کہ کس سے کہا جا رہا ہے؟
عروضی اعتبار سے، اکثر مصرعوں میں روانی کی سخت کمی ہے۔ جو کہ الفاظ کی نشست بدل کر بھی سدھاری جا سکتی ہے یا کچھ الفاظ بدل کر۔ خود ہی کوشش کریں تو بہتر ہے۔ مثلاً
کس لئے تو نے کیا جینا مِرا دشوار ہے
کو
کس لئے تو نے مِرا جینا کیا دشوار ہے
کر دیں تو زیادہ روانی پیدا ہو جاتی ہے۔
فاروق احمد بھٹی — مارچ 24، 2015 8:31 صبح
معنوی اعتبار سے ۔۔۔ سمجھ میں نہیں آیا کہ خطاب کس سے ہے۔ اگرچہ یہ غزل کے فارم میں ہے، لیکن مسلسل لگ رہی ہے۔ اس لئے کسی ایک شعر سے تو پتہ چلے کہ کس سے کہا جا رہا ہے؟
عروضی اعتبار سے، اکثر مصرعوں میں روانی کی سخت کمی ہے۔ جو کہ الفاظ کی نشست بدل کر بھی سدھاری جا سکتی ہے یا کچھ الفاظ بدل کر۔ خود ہی کوشش کریں تو بہتر ہے۔ مثلاً
کس لئے تو نے کیا جینا مِرا دشوار ہے
کو
کس لئے تو نے مِرا جینا کیا دشوار ہے
کر دیں تو زیادہ روانی پیدا ہو جاتی ہے
بہت بہت نوازش استادِمحترم جناب اعجاز عبید صاحب کے آپ نے بندے کے بے ربط سے مصرعوں کو اپنی آرا سے زینت بخشی۔ اور جیسا آپ نے فرمایا کہ غزل مسلسل ہے درست ہے۔
اور خطاب کے حوالے سے آپ نے جو ذکر کیا تو خطاب دل سے کرنے کی کوشش کی ہےجیسے مطلع میں
سینہِ سوزاں تِری بیتابی یہ بیکار ہے
اور مقطع میں کچھ ایسے کہنے کی کوشش کی ہے
کچھ نہ کہہ دل کو تو احمدؔ، دل سے ہے یہ روشنی
دل نہ ہو ایسا اگر، بس تُو تَو پھر نادار ہے

جو کہ شاید میں اچھی طرح سے بیان نہیں کر سکا جو باتیں آپ نے ارشاد فرمائیں ان کو نظر میں رکھ کر کوشش کروں گا درست کرنے کی
ایک دفعہ پھر سے عنائیت فرمانے کا شکریہ
الف عین — مارچ 25، 2015 4:28 صبح
سینہ اور دل ہم معنی تو نہیں!!
یوں بھی کہا ا سکتا تھا
اضطراب ااے دل ترا اس طرح کا بیکار ہے
تو بات مکمل واضح ہو جاتی
فاروق احمد بھٹی — مارچ 26، 2015 8:40 صبح
سینہ اور دل ہم معنی تو نہیں!!
یوں بھی کہا ا سکتا تھا
اضطراب ااے دل ترا اس طرح کا بیکار ہے
تو بات مکمل واضح ہو جاتی
بہت بہت نوازش استادِ محترم بات کو مکمل واضح کرنے کے لئے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%81%D9%90-%D8%B3%D9%88%D8%B2%D8%A7%DA%BA-%D8%AA%D9%90%D8%B1%DB%8C-%D8%A8%DB%8C%D8%AA%D8%A7%D8%A8%DB%8C-%DB%8C%DB%81-%D8%A8%DB%8C%DA%A9%D8%A7%D8%B1-%DB%81%DB%92.80903/