اصطلاحات
علمِ عروض کی اصطلاحات سے لوگوں کا اکثر حصہ جن میں اس وقت کے اچھے اور بڑے شعرا بھی شامل ہیں پریشان اور بیزار نظر آتا ہے۔ اور کیوں نہ پریشان ہو کے یہ سلسلہ ہی ایسا ہے ۔ لیکن بہر حال ان اصطلاحات کو صدیوں سے یونہی نبھایا گیا ہے اور آج کے عروضی حضرات بھی ان اصطلاحات میں کوئی کمی بیشی کرنے کی ہمت نہیں کرتے۔ بس جو جیسا چل رہا ویسا ہی چلنے دیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے اس علم کو حاصل کرنے کی لگن لوگوں میں اب نا یاب نہیں تو اتنی کمیاب ہو گئی ہے کچھ عرصے بعد اللہ جانے کیا حال ہو۔ لیکن اگر عروض کی ترویج کے لئے کوئی ایسی تبدیلی کی جائے عروضیوں کے کامل اتفاق سے تو اس علم کو سیکھنے والوں کی تعداد اور اشتیاق کو بڑھایا جاسکتا ہے جس سے اردو ادب کو بھی کافی فائدہ ہوگا انشااللہ تعالیٰ۔
لیکن اس طریقے کو بدلنے یا ترمیم کرنے کی ہمت کس میں ہے؟ باوجود علم کے خاموشی اختیار کی جاتی۔ اکثر اصطلاحات تو ایسی ہیں جن کا سرے سے کوئی تک ہی نہیں بنتا اور بے وجہ ہی رسمی طور پر شامل کرلی گئی ہیں جیسے: لفظ ’مثمن‘ یعنی آٹھ۔ مثلاً اگر کوئی مجھ سے اس شعر کی بحر کا نام اور ارکان پوچھ لےاسد بسمل ہے کس انداز کا قاتل سے کہتا ہے
تو مشقِ ناز کر،خونِ دو عالم میری گردن پر
تو میں یہی کہوں گا کہ میاں یہ ’’بحرِ ہزج مثمن سالم‘‘ ہے۔
ارکان: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
اب سوال ہے کہ بھئی مثمن کا مطلب آٹھ ہے یعنی آٹھ ارکان۔ اور وزن بتایا جائے تو صرف چار ارکان یعنی ایک مصرعے کا؟
چلیں یہ تو ایک سالم بحر ہوئی کسی طرح اسے مثمن ہی کہہ لیں لیکن اگر شعر ایسے ہو توَ؟عریانیِ آشفتہ کہاں جائے پس از مرگ
کُشتہ ہے ترا اور یہی بے کفَنی ہے
پھر تو پہلا نام بحرِ ہزج مثمن اخرب مکفوف مقصور۔ دوسرا بحرِ ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف۔
اب نہ تو پہلے مصرعے کا وزن لفظ ’’مثمن‘‘ کے لئے ٹھیک ہے نہ دوسرے کے لئے۔ یہ دو الگ الگ اوزان ہیں جو چار چار ارکان پر مشتمل ہیں۔ جب یہی بات ہے تو مثمن کی اصطلاح شنازدہ رکنی بحور کے لئے تو قابلِ فہم ہیں لیکن یہاں بے مقصد۔
اسی طرح کی اور پیچیدہ باتیں اور اصطلاحات مثلاً زحافات کی طرف رخ کریں تو ایک زحاف ’’خرم‘‘ ملے گا جس کا کام ہے کے وتد مجموع سے شروع ہونے والے رکن میں سے پہلے وتد مجموع کا پہلا متحرک ساقط کردے۔ لیکن کہانی یہاں ختم ہوجاتی تو سکون تھا۔ مگر یہ اصول صرف ایک ہی رکن پر کارآمد ہے جو ’’مفاعیلن‘‘ ہے یعنی میم گر کر فاعیلن بوزن مفعولن بنے گا۔
اب فعولن بھی وتدمجموع سے شروع ہوتا ہے تو اسکے لئے ایک الگ زحاف بنا ڈالا جسے ثلم کہا جاتا ہے۔ کام اسکا بھی وتد مجموع سے پہلا متحرک ساقط کرنا ہے یعنی فعولن سے ’’ف‘‘ گرا اور عولن بوزن فعلن رہا۔
اسی طرح مفاعلتن بھی وتدِ مجموع سے شروع ہوتا ہے لیکن اس کے لئے بھی ایک الگ زحاف جو عضب کے نام سے جانا جاتا ہے، بنایا گیا جس سے میم کو گرا کر فاعلتن بوزن مفتعلن حاصل کیا جاتا ہے۔
اور مزے کی بات یہ کے عروض کی کتابیں ان بعد کے دو زحافوں کو بھی خرم کرنا کہتی ہیں۔
جب ایک خرم سے کام چل سکتا تھا تو ثلم اور عضب کس لئے؟ اس پر عروضی حضرات کو نہ صرف غور کی بلکہ کوئی قابلِ ذکر عمل کی ضرورت ہے۔(جاری)