شاید کہ زندگی کو گزارا بھی کچھ نہیں..برائے اصلاح

نمرہ — مئی 27، 2016 5:43 شام
شاید کہ زندگی کو گزارا بھی کچھ نہیں
حاصل تو جانے دیجے, خسارا بھی کچھ نہیں
شاید مجھے ازل سے وفا سے گریز تھا
شاید قصور اس میں تمھارا بھی کچھ نہیں
ہم بے نیاز بن کے جو بیٹھے ہیں بزم میں
ان کی طرف سے اب کے اشارا بھی کچھ نہیں
اپنی یہ عمر یونہی اکارت ہوئی تمام
بگڑے نہیں تو خود کو سنوارا بھی کچھ نہیں
عادت سی ہو گئی ہے کچھ ایسی بھنور کی اب
کشتی کا ذکر کیا ہے, کنارا بھی کچھ نہیں
روز وصال کا ہو گزر زندگی میں کیا
ہجراں کی رات کا وہ ستارا بھی کچھ نہیں
نازک مزاج ہم ہیں خدا جانے کس کے بل
دیکھو جو غور سے تو سہارا بھی کچھ نہیں
ہم خود بھی اپنی طبع سے بیزار کیوں نہ ہوں
کچھ ناپسند کب ہے, گوارا بھی کچھ نہیں
اٹھے گا ہم سے عشق کا رطل گراں کہاں
ہم کو تو اپنے آپ سے پیارا بھی کچھ نہیں
مزمل شیخ بسمل — مئی 27، 2016 5:45 شام
زبردست کلام!!
ڈھیروں داد قبول فرمائیں۔
نمرہ — مئی 27، 2016 5:55 شام
زبردست کلام!!
ڈھیروں داد قبول فرمائیں۔
شکریہ لیکن آپ اتنی آسانی سے نہیں چھوٹ سکتے کچھ تنقید بھی چاہیے.
عباد اللہ — مئی 27، 2016 7:08 شام
خوبصورت غزل
La Alma — مئی 27، 2016 7:10 شام
اٹھے گا ہم سے عشق کا رطل گراں کہاں
ہم کو تو اپنے آپ سے پیارا بھی کچھ نہیں
بہت خوب .اچھی کاوش ہے .
زبان و بیاں کے حوالے سے ایک دو جگہ کچھ الجھن ہے .
"اپنی یہ عمر یونہی اکارت ہوئی تمام"
اکارت جانا صحیح محاورہ نہیں ؟
"نازک مزاج ہم ہیں خدا جانے کس کے بل "،
یہاں " کس کے بل بوتے پر '' کا محل نہیں تھا ؟
'کس کے بل'' سے کچھ اس طرح کا ذہن میں آتا ہے جیسے' سر کے بل'' ، '' گھٹنوں کے بل " وغیرہ وغیرہ
آپ کے مزید کلام کا بھی انتظار رہے گا .
فرقان احمد — مئی 27، 2016 7:24 شام
شاید کہ زندگی کو گزارا بھی کچھ نہیں
حاصل تو جانے دیجے، خسارا بھی کچھ نہیں

شاید مجھے ازل سے وفا سے گریز تھا
شاید قصور اس میں تمھارا بھی کچھ نہیں

اٹھے گا ہم سے عشق کا رطل گراں کہاں
ہم کو تو اپنے آپ سے پیارا بھی کچھ نہیں

خوب صورت کلام!
محمد تابش صدیقی — مئی 27، 2016 7:31 شام
بہت خوب
اپنی یہ عمر یونہی اکارت ہوئی تمام
بگڑے نہیں تو خود کو سنوارا بھی کچھ نہیں
عباد اللہ — مئی 27، 2016 7:54 شام
راحیل فاروق بھیا کیا وجہ ہے آجکل آپ کی طرف سے بس ریٹینگ ہی موصول ہو رہی ہے کچھ تبصرہ بھی کیجئے نا!
عباد اللہ — مئی 27، 2016 8:07 شام
اٹھے گا ہم سے عشق کا رطل گراں کہاں
ہم کو تو اپنے آپ سے پیارا بھی کچھ نہیں
بہت خوب .اچھی کاوش ہے .
زبان و بیاں کے حوالے سے ایک دو جگہ کچھ الجھن ہے .
"اپنی یہ عمر یونہی اکارت ہوئی تمام"
اکارت جانا صحیح محاورہ نہیں ؟
"نازک مزاج ہم ہیں خدا جانے کس کے بل "،
یہاں " کس کے بل بوتے پر '' کا محل نہیں تھا ؟
'کس کے بل'' سے کچھ اس طرح کا ذہن میں آتا ہے جیسے' سر کے بل'' ، '' گھٹنوں کے بل " وغیرہ وغیرہ
آپ کے مزید کلام کا بھی انتظار رہے گا .
آپ کا مراسلہ پڑھ کر احساس ہوا ورنہ ہم نے تو ان مصارع کو یوں پڑھا تھا
ہم جانے کس بھروسے پہ نازاں ہیں اس قدر
اور
اپنی تمام عمر یونہی رائیگاں گئی
لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(اس مراسلے کو اصلاح نہ سمجھا جائے)
الف عین — مئی 28، 2016 1:00 شام
ڈ
آپ کا مراسلہ پڑھ کر احساس ہوا ورنہ ہم نے تو ان مصارع کو یوں پڑھا تھا
ہم جانے کس بھروسے پہ نازاں ہیں اس قدر
اور
اپنی تمام عمر یونہی رائیگاں گئی
لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(اس مراسلے کو اصلاح نہ سمجھا جائے)
درست مشورہ ہے
عباد اللہ — مئی 28، 2016 1:02 شام
سر یہ میری بے تکبندی بھی آپ کی نظرِ التفات کی منتظر ہے
نمرہ — مئی 29، 2016 4:30 شام
صحیح لیکن آپ اپنی رائے بھی دیجئے اس پر.
نمرہ — مئی 29، 2016 4:33 شام
آپ کا مراسلہ پڑھ کر احساس ہوا ورنہ ہم نے تو ان مصارع کو یوں پڑھا تھا
ہم جانے کس بھروسے پہ نازاں ہیں اس قدر
اور
اپنی تمام عمر یونہی رائیگاں گئی
لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(اس مراسلے کو اصلاح نہ سمجھا جائے)
آپ نے تو غیر شعوری طور پر اصلاح کر دی :)
نمرہ — مئی 29، 2016 4:34 شام
اٹھے گا ہم سے عشق کا رطل گراں کہاں
ہم کو تو اپنے آپ سے پیارا بھی کچھ نہیں
بہت خوب .اچھی کاوش ہے .
زبان و بیاں کے حوالے سے ایک دو جگہ کچھ الجھن ہے .
"اپنی یہ عمر یونہی اکارت ہوئی تمام"
اکارت جانا صحیح محاورہ نہیں ؟
"نازک مزاج ہم ہیں خدا جانے کس کے بل "،
یہاں " کس کے بل بوتے پر '' کا محل نہیں تھا ؟
'کس کے بل'' سے کچھ اس طرح کا ذہن میں آتا ہے جیسے' سر کے بل'' ، '' گھٹنوں کے بل " وغیرہ وغیرہ
آپ کے مزید کلام کا بھی انتظار رہے گا .
بل کے استعمال کے بارے میں آپ کی رائے سے اتفاق ہے, انتظار کا شکریہ :)
ارما عرش — مئی 29، 2016 4:43 شام
واہ
ہم بے نیاز بن کے جو بیٹھیں ہیں بزم میں
راحیل فاروق — مئی 29، 2016 5:47 شام
راحیل فاروق بھیا کیا وجہ ہے آجکل آپ کی طرف سے بس ریٹینگ ہی موصول ہو رہی ہے کچھ تبصرہ بھی کیجئے نا!
پیارے بھائی، جہاں تم بولنے لگو وہاں میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ اور تو اور الف عین صاحب نے بھی تمھاری تائید کر دی۔
دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا-------
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے!​
آپ نے تو غیر شعوری طور پر اصلاح کر دی :)
اسے اگر آپ غیر شعوری سمجھتی ہیں تو آپ کی سادگی ہے یا پھر آپ پرکاری میں عباد اللہ کے مقابلے پہ اتر آئی ہیں!
ویسے ایک صورت اور بھی غالبؔ نے بیان فرمائی ہے۔
سادہ پرکار ہیں خوباں، غالبؔ
آبلوں پر بھی حنا باندھتے ہیں​
اپنی یہ عمر یونہی اکارت ہوئی تمام
اکارت جانا صحیح محاورہ نہیں ؟
اپنی تمام عمر یونہی رائیگاں گئی
شاعرہ کے الفاظ سے قریب تر رہنے کے لیے اسے یوں بھی کیا جا سکتا ہے:
اپنی یہ عمر یوں ہی اکارت گئی تمام​
مگر جو مصرع عباد نے تجویز کیا ہے وہ یقیناً زیادہ چست ہے۔
نمرہ — مئی 29، 2016 6:01 شام
پیارے بھائی، جہاں تم بولنے لگو وہاں میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ اور تو اور الف عین صاحب نے بھی تمھاری تائید کر دی۔
دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا-------
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے!​

اسے اگر آپ غیر شعوری سمجھتی ہیں تو آپ کی سادگی ہے یا پھر آپ پرکاری میں عباد اللہ کے مقابلے پہ اتر آئی ہیں!
ویسے ایک صورت اور بھی غالبؔ نے بیان فرمائی ہے۔
سادہ پرکار ہیں خوباں، غالبؔ
آبلوں پر بھی حنا باندھتے ہیں​

شاعرہ کے الفاظ سے قریب تر رہنے کے لیے اسے یوں بھی کیا جا سکتا ہے:
اپنی یہ عمر یوں ہی اکارت گئی تمام​
مگر جو مصرع عباد نے تجویز کیا ہے وہ یقیناً زیادہ چست ہے۔
بھئی اپنی بھی تو ایک رائے ہوتی یے انسان کی. پرکار یعنی compass سے تو میں واقف ہوں, اس کی مادہ سے جان پہچان نہیں میری.

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B4%D8%A7%DB%8C%D8%AF-%DA%A9%DB%81-%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C-%DA%A9%D9%88-%DA%AF%D8%B2%D8%A7%D8%B1%D8%A7-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%DA%A9%DA%86%DA%BE-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.90125/