شب ہجراں میرے گھر سے اب جاتی نہیں... برائے اصلاح

تنویر احمد تنویر — فروری 25، 2014 10:50 صبح
شب ہجراں میرے گھر سے اب جاتی نہیں... برائے اصلاح
شب ہجراں میرے گھر سے اب جاتی نہیں
وصل کی کوئی بھی گھڑی اب تو آتی نیں
محبت ہم نے تجھے رہبر تھا بنایا
آج بھٹکا ہوں تو تو بھی راہ دکھاتی نہیں
جہاں جاؤں اک کرب مسلسل ہے میرا میزبان
میری وحشت بھری طبیعت کہیں چین پاتی نہیں
پوچھ بیٹھا زندگی سےدیا تو نے مجھے کیا
مدت ہوئی زندگی شرم سے آنکھ ملاتی نہیں
یونہی بےوجہ زندگی سے روٹھنے والو سنو
یہ وہ مغرور کہ روٹھے ہوؤں کو مناتی نہیں
میں نے چن لیا ہے اپنے لیے سچائی کا راستہ
سنا ہے اس راہ چلو تو موت آتی نہیں
تنویر احمد تنویر — فروری 28، 2014 8:00 صبح
محترم الف عین صاحب از حد شکریہ جو آپ نے مشورہ دیا تھا اس پر سختی سے عمل پیرا ہونے کی کوشش کرونگا... اس غزل پہ دو جملے فرماہیے کہ سمت متعین ہو
الف عین — مارچ 1، 2014 2:21 صبح
ایک ہی جملہ کہوں گا۔ خیالات خوب ہیں لیکن بس بحر و عروض سے آزاد ہے۔ یہ فن بھی سیکھ لیں تو سونے پر سہاگا!!
ابن رضا — مارچ 1، 2014 8:20 شام
Www.aruuz.com پر مضامین میں آپ کو مطلوبه مواد میسر هوگا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B4%D8%A8-%DB%81%D8%AC%D8%B1%D8%A7%DA%BA-%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92-%DA%AF%DA%BE%D8%B1-%D8%B3%DB%92-%D8%A7%D8%A8-%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.72409/