شعر برئے اصلاح

سید تنویر رضا — اگست 6، 2018 8:00 شام
ہے اب تلک اِس دلِ شکستہ میں یار کی وہ حسین یادیں
ہے اس لیے اب بھی مثلِ گلشن یہ دل خرابہ ہوا نہیں ہے
محمد تابش صدیقی — اگست 6، 2018 10:33 شام
پہلے مصرع میں "ہے" کی جگہ "ہیں" آئے گا "یادیں" کی مناسبت سے
دوسرے مصرع کا آغاز اور اختتام "ہے" پر ہو رہا ہے۔ کچھ مزا نہیں آ رہا۔
"خرابہ ہوا" کہ بجائے "خرابہ بنا" زیادہ مناسب رہے گا۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B4%D8%B9%D8%B1-%D8%A8%D8%B1%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.102678/