محمد قیصر حسین عظیمی — مارچ 24، 2020 6:34 صبح
آج کل کے جو حالات ہیں
یہ عالم محشر کی ایک ادنیٰ سی مثال ہیں
سید عاطف علی — مارچ 24، 2020 6:49 صبح
آج کل کے جو حالات ہیں
یہ عالم محشر کی ایک ادنیٰ سی مثال ہیں
عظیمی صاحب یہ شعر تو کسی بھی بحر کا پابند نہیں ۔
شکیل احمد خان23 — مارچ 24، 2020 9:08 صبح
عظیمی صاحب یہ شعر تو کسی بھی بحر کا پابند نہیں ۔
حشر کے عالم کی ادنیٰ سی مثال
آج کی مشکل تریں صورتِ حال
اے خدائے لم یزل ربِّ عُلا
رحم کر اور ٹال دے تو یہ وبال
آدمی کے بس میں تو کچھ بھی نہیں
تو دکھادے اپنی قدرت کا کمال
محمد قیصر حسین عظیمی — مارچ 24، 2020 11:19 صبح
عاطف صاحب اس شعر کی میں نے عروض میں تقطیع دیکھی ہے اس کے مطابق یہ ہے-
فاعلن فاعلن فاعلن
متدارک مسدس سالم
آپ سے رہنمائی کی گزارش ہے- شکریہ
عرفان سعید — مارچ 24، 2020 11:43 صبح
عاطف صاحب اس شعر کی میں نے عروض میں تقطیع دیکھی ہے اس کے مطابق یہ ہے-
فاعلن فاعلن فاعلن
متدارک مسدس سالم
آپ سے رہنمائی کی گزارش ہے- شکریہ
صرف پہلا مصرع
فاعلن فاعلن فاعلن
کے مطابق ہے۔ دوسرا نہیں۔
سید عاطف علی — مارچ 24، 2020 1:23 شام
حشر کے عالم کی ادنیٰ سی مثال
آج کی مشکل تریں صورتِ حال
اے خدائے لم یزل ربِّ عُلا
رحم کر اور ٹال دے تو یہ وبال
آدمی کے بس میں تو کچھ بھی نہیں
تو دکھادے اپنی قدرت کا کمال
یہاں صورت حال والا مصرع ٹھیک نہیں ۔ باقی درست ہیں ۔
اور بحر اب یہ ھے۔
فاعلاتن فاعلاتن فاعلات