محمد ریحان قریشی — جولائی 30، 2016 8:22 صبح
منعطف از حسنِ تو خطِ زماں و مکاں
قافلہء دہر ہے گرد ترے رقص میں
La Alma — جولائی 30، 2016 4:46 شام
دوسرا مصرع عجز بیانی کا شکار ہے اس لیے مہفوم واضح نہیں ہو رہا .
قافلہِ دہر ترے گِرد رقص میں ہے
یا
ترے رقص میں قافلہِ دہر گرد (خاک ) ہے .
الف عین — جولائی 31، 2016 12:39 شام
واو عطف کے ساتھ فارسی لفظ معلنہ نون کے ساتھ آتا ہے۔ یہاں زمان و مکاں آنا چاہئے۔
پہلے مصرع سے سمجھا کہ فارسی کا شعر کہا ہے ریحان نے لیکن بعد میں دوسرے مصرع میں ’ترے‘ اور ’میں ہے‘ سے غلط فہمی دور ہوئی!
لا المیٰ کی بات درست ہے۔ میرے خیال میں گِ ر د کا محل ہے شعر میں۔
اصلاح کی رو سے ’گرد ترے‘ صوتی طور پر ناگوار محسوس ہوتا ہے۔