ساگر حیدر عباسی — مئی 10، 2017 8:40 صبح
ہم تم سے رہائی پائیں کس طرح
جسم و جاں میں سمائے ہو تم
ساگرحیدرعباسی
محمد ریحان قریشی — مئی 10، 2017 10:03 صبح
اچھا شعر ہے۔
کاشف اسرار احمد — مئی 10، 2017 1:09 شام
دونوں مصارع دو مختلف اوزان میں ہیں۔
مفعول مفاعلن مفاعیل
ہم تم سے رہائی پائیں کس طرح
مفعولن فاعلن فعولن
جسم و جاں میں سمائے ہو تم
محمد ریحان قریشی — مئی 10، 2017 6:31 شام
دونوں مصارع دو مختلف اوزان میں ہیں۔
مفعول مفاعلن مفاعیل
ہم تم سے رہائی پائیں کس طرح
مفعولن فاعلن فعولن
جسم و جاں میں سمائے ہو تم
ان دونوں کا خلط جائز ہے۔
محمد وارث — مئی 11، 2017 4:02 صبح
دونوں مصارع دو مختلف اوزان میں ہیں۔
مفعول مفاعلن مفاعیل
ہم تم سے رہائی پائیں کس طرح
مفعولن فاعلن فعولن
جسم و جاں میں سمائے ہو تم
پہلا مصرع مفعول مفاعلن فعولان ہے یعنی اصل بحر کا وزن تو مفعول مفاعلن فعولن ہے لیکن تسبیغ کی وجہ سے فعولان ہوا۔ دوسرے مصرعے کا وزن تسکین اوسط سے حاصل ہوا یعنی مفعول مفاعلن فعولن کی جگہ مفعولن فاعلن فعولن۔
اور جیسا کہ قریشی صاحب نے کہا، اس بحر میں ان اوزان کو ایک ہی شعر میں جمع کرنا جائز ہے۔
کاشف اسرار احمد — مئی 11، 2017 8:54 صبح
شکریہ ریحان بھائی۔
پہلا مصرع مفعول مفاعلن فعولان ہے یعنی اصل بحر کا وزن تو مفعول مفاعلن فعولن ہے لیکن تسبیغ کی وجہ سے فعولان ہوا۔ دوسرے مصرعے کا وزن تسکین اوسط سے حاصل ہوا یعنی مفعول مفاعلن فعولن کی جگہ مفعولن فاعلن فعولن۔
اور جیسا کہ قریشی صاحب نے کہا، اس بحر میں ان اوزان کو ایک ہی شعر میں جمع کرنا جائز ہے۔
جزاک اللہ وارث بھائی