عابد علی خاکسار — اپریل 7، 2017 1:44 شام
بچ گیا میں سرء محشر بڑی رسوائ سے۔۔ خاک یثرب کی جو چہرے پہ سجا لایا تھا
فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن
محمد ریحان قریشی — اپریل 7، 2017 1:47 شام
رسوائی کی جگہ روسیاہی کسی طور لے آئیں تو شعر کا لطف دوبالا ہو جائے گا۔
حماد علی — اپریل 7، 2017 2:18 شام
شعر تو اچھا ہے پر میں اپنے ذاتی خیال کی بات کروں تو یہاں مدینہ کہ لیے "یثرب" کے استعمال کو بہتر نہیں جانتا !
یثرب کا معنی غالباً ویرانہ ÷ بیماریوں کا شہر اور خارزار پڑھ چکا ہوں اس لیے!
یہ صرف میرا ذاتی خیال ہے آپ کا متفق ہونا لازم نہیں!
کہ جب اس کا نام مدینہ ہو چکا تو پھر یثرب کا استعمال مناسب نہیں!!
عابد علی خاکسار — اپریل 7، 2017 7:13 شام
رو سیاہی سے بچایا سرء محشر مجھ کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خاک بطحاکی جو چہرے پہ سجا لایا تھا
عابد علی خاکسار — اپریل 7، 2017 7:23 شام
اب کیا خیال ھے
عابد علی خاکسار — اپریل 7، 2017 7:32 شام
ریحان قریشی صاحب اور حماد صاحب
محمد ریحان قریشی — اپریل 7، 2017 7:49 شام
اچھا ہے۔
حماد علی — اپریل 7، 2017 8:59 شام
شعر تو پہلے بھی اچھا تو اب بھی بہت خوب ہے!
حماد علی — اپریل 7، 2017 8:59 شام
بلکہ اب بہترین ہو گیا میرے خیال میں
محمد عظیم الدین — اپریل 7، 2017 9:18 شام
بہت خوب
الف عین — اپریل 8، 2017 5:02 صبح
اب بہت عمدہ ہو گیا ہے۔ بس ایک سوال رہ جاتا ہے۔ خاک بطحی نے بچایا ہو گا نا، لیکن پہلے مصرع میں اس کا ذکر نہیں۔ یوں ہوتا تو
رو سیاہی سے میں محفوظ رہا محشر میں
خاک چہرے پہ مدینے کی سجا لایا تھا
عابد علی خاکسار — اپریل 8، 2017 5:45 صبح
سب کی محبتوں اور شفقتوں کا بہت بہت شکریہ سلامت رھیں