نورالحسن جوئیہ — اپریل 29، 2016 8:50 شام
دعوی ہے تیرا یار کہ دیوار سنتی ہے
بارِ ثبوت اب کوئی دیوار پیش کر
الف عین — اپریل 30، 2016 6:06 صبح
ایک ایک شعر کی یا اصلاح کی جائے، مکمل غزلیں کہو۔
محمد یعقوب آسی — اپریل 30، 2016 6:30 صبح
دعوی ہے تیرا یار کہ دیوار سنتی ہے
بارِ ثبوت اب کوئی دیوار پیش کر
ایک ایک شعر کی یا اصلاح کی جائے، مکمل غزلیں کہو۔
چند دن پہلے فاضل شاعر نے یہ غزل مجھے سنائی۔ میرا اندازہ ہے کہ موصوف اس غزل کے بقیہ اشعار سے مطمئن ہیں، اور اس شعر میں ان کا مسئلہ "سنتی ہے" کی صوتیت ہے۔
سچی بات ہے کہ مجھے بھی یہاں "ی" کا گرانا پسند نہیں آیا۔
ایک فروگزاشت پتہ نہیں املاء کی ہے یا کتابت کی؛ یہاں "بہرِ ثبوت" ہونا چاہئے (ثبوت کے لئے، ثبوت کے طور پر)۔ واللہ اعلم۔
نورالحسن جوئیہ — اپریل 30، 2016 10:07 صبح
چند دن پہلے فاضل شاعر نے یہ غزل مجھے سنائی۔ میرا اندازہ ہے کہ موصوف اس غزل کے بقیہ اشعار سے مطمئن ہیں، اور اس شعر میں ان کا مسئلہ "سنتی ہے" کی صوتیت ہے۔
سچی بات ہے کہ مجھے بھی یہاں "ی" کا گرانا پسند نہیں آیا۔
ایک فروگزاشت پتہ نہیں املاء کی ہے یا کتابت کی؛ یہاں "بہرِ ثبوت" ہونا چاہئے (ثبوت کے لئے، ثبوت کے طور پر)۔ واللہ اعلم۔
ابھی اکلوتا ہے سر

محمد یعقوب آسی — اپریل 30، 2016 11:46 صبح
ابھی اکلوتا ہے سر
مجھے کسی اور غزل کے ساتھ اِشکال ہو گیا ہو گا۔
