عابد علی خاکسار — اپریل 9، 2017 9:20 صبح
کون تکتا ھے تجھے؟ یہ سوچ کر دیکھا تجھے۔۔۔۔۔
سردیوں کے چاند ھم نے رات بھر دیکھا تجھے ۔۔۔۔
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
عابد علی خاکسار — اپریل 9، 2017 11:56 صبح
محترم الف عین صاحب
کاشف اسرار احمد — اپریل 10، 2017 9:50 صبح
دونوں مصارع میں باہم ربط مفقود ہے جناب۔ دونوں الگ الگ بات کہہ رہے ہیں اور کوئی با معنی بات نظر نہیں آتی ! اسے دو لختی کہتے ہیں، میرے ناقص علم میں!
عابد علی خاکسار — اپریل 10، 2017 1:25 شام
ایسا کہیں نہیں حضور کہ بات الگ الگ ہے ۔سردیوں کے چا ند اور غریب کی جوانی کو کوئ مہیں دیکھتا ۔۔
الف عین — اپریل 10، 2017 5:06 شام
دو لختی تو نہیں ہے البتہ ربط زیادہ واضح نہیں۔ شعر اچھا ہے اور وزن درست