شعر کی تشریح درکار ہے

کاشف اکرم وارثی — اکتوبر 8، 2012 7:20 شام
السلام و علیکم۔
استاتذہ من اور دوسرے تمام دوستوں سے مندرجہ ذیل شعر کی تشریح درکار ہے ۔
خیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہے ۔
نبض ہستی تپش اسی نام سے ہے ۔ ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم )
جزاک اللہ خیر
مزمل شیخ بسمل — اکتوبر 8، 2012 7:39 شام
شعر مکمل نہیں ہے۔ نظر ثانی فرما لیں۔
کاشف اکرم وارثی — اکتوبر 9، 2012 10:44 صبح
شعر مکمل نہیں ہے۔ نظر ثانی فرما لیں۔
خیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہے ۔
نبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے ۔ ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم )
جی معذرت ۔۔
اب پورا لکھ دیا ھے ۔ جزاک اللہ
فاتح — اکتوبر 9، 2012 11:00 صبح
خیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہے
نبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے​
یہ اقبال کی نظم جوابِ شکوہ کا شعر ہے۔
افلاک: آسما، سماوات
استادہ (ایستادہ): کھڑا ہوا، قائم
نبضِ ہستی: زندگی کی نبض
تپش آمادہ: ریاضت یا حرکت پر مائل
اس شعر میں اقبال نے حدیث قدسی "لولاک لما خلقت الافلاک" کا مضمون تلمیح کے طور پر بیان کیا ہے۔
کاشف اکرم وارثی — اکتوبر 10، 2012 6:31 شام
خیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہے​
نبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے​
یہ اقبال کی نظم جوابِ شکوہ کا شعر ہے۔
افلاک: آسما، سماوات
استادہ (ایستادہ): کھڑا ہوا، قائم
نبضِ ہستی: زندگی کی نبض
تپش آمادہ: ریاضت یا حرکت پر مائل
اس شعر میں اقبال نے حدیث قدسی "لولاک لما خلقت الافلاک" کا مضمون تلمیح کے طور پر بیان کیا ہے۔

بہت بہت شکریہ بھائی۔۔۔ بہت خوش رہیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B4%D8%B9%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D8%B4%D8%B1%DB%8C%D8%AD-%D8%AF%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%B1-%DB%81%DB%92.55214/