شعر۔۔۔۔۔ برائے اصلاح

جیا راؤ — جولائی 27، 2010 4:00 شام

سب مری ذات کے خواہاں، مجھے چاہت تیری
تُو نے دیکھی کبھی صحرا کو ترستی بارش!
الف عین — جولائی 27، 2010 7:40 شام
اچھا شعر ہے جیا، مزید شعر کہو تو آگے کچھ کہیں۔ اس کو تو اصلاح کی حاجت نہیں۔ سوائے اس کے کہ دوسرے مصرع میں ’تو نے دیکھی ہے‘ ہوتا تو بہتر تھا۔
محمود احمد غزنوی — جولائی 28، 2010 8:44 صبح
صحرا تو بارش کیلئے ترستا ہی ہے لیکن کیا بارش بھی صحرا کو ترستی ہے۔ ۔ اچھا خیال ہے۔
عظیم اللہ قریشی — جولائی 28، 2010 9:53 صبح
محمود غزنوی صاحب آپ نے تو وہ بات کردی جو کہ الہ آباد کے شریر طلباء نے شیخ اقبال لاہوری کو کہی تھی کہ مچھلیاں دشت میں ہوں،،،ہرن پانی میں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B4%D8%B9%D8%B1%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.30849/