شوقِ آرزو گیا ، عرضِ حال بھی نہ رہا

ظفری — مارچ 2، 2013 11:08 شام
شوقِ آرزو گیا ، عرضِ حال بھی نہ رہا
مجھے ترا تجھے میرا خیال بھی نہ رہا
ایک لمحے میں صدیوں کی رفاقت گئی
ستم یہ ہوا ، تجھے ملال بھی نہ رہا
وقت نے مدھم کر دی ہر لو اپنےدل کی
تجھے غرور نہ رہا مجھے جلال بھی نہ رہا
پس ماندہ میرے دل میں جلوے نہ رہے
اس شب بھر چہرے پر جمال بھی نہ رہا​

جواب میرے ہونٹوں پہ سجا دیئے اس نے
پھر پوچھتے ہم کیا ، کوئی سوال بھی نہ رہا​
زبیر مرزا — مارچ 2، 2013 11:17 شام
جواب میرے ہونٹوں پہ سجا دیئے اس نے پھر پوچھتے ہم کیا ، کوئی سوال بھی نہ رہا
واہ جناب کیا بات ہے لاجواب
سید شہزاد ناصر — مارچ 3، 2013 3:52 صبح
بہت خوب :)
مطلع بہت پسند آیا بحر بھی بہت مترنم ہے
الفاظ میں نغمگی ہے
کچھ جگہ ابہام محسوس ہو رہا ہے
مگر استاد شعرا سے پہلے رائے دینا پاسِ ادب کے خلاف ہے
شاد و آباد رہیں
ظفری — مارچ 3، 2013 4:11 صبح
واہ جناب کیا بات ہے لاجواب
شکریہ جناب ویسے یہ آپ نے پیٹھ ٹھونکی ہے تو سلسلہ جاری ہوا ہے ۔ ;)
ظفری — مارچ 3، 2013 4:17 صبح
بہت خوب :)
مطلع بہت پسند آیا بحر بھی بہت مترنم ہے
الفاظ میں نغمگی ہے
کچھ جگہ ابہام محسوس ہو رہا ہے
مگر استاد شعرا سے پہلے رائے دینا پاسِ ادب کے خلاف ہے
شاد و آباد رہیں
اتنے خوبصورت الفاظ اور اتنی تعریف اور بھی ایک شاعر سے ، سچ تو یہ ہے کہ محسوس ہونے لگا ہے کہ میں بھی کچھ کہنے لگا ہوں ۔ رہی بات ابہام کی تو وہ تو متوقع ہے کہ میں علم ِ عروض سے واقف نہیں ہے ۔ پھر بھی ڈھٹائی سے غزلیں یہاں پوسٹ کردیتا ہوں ۔ اوریہ آپ احباب کی مہربانی ہے کہ آپ پھر بھی سراہتے ہیں ۔ :)
سید شہزاد ناصر — مارچ 3، 2013 4:20 صبح
اتنے خوبصورت الفاظ اور اتنی تعریف اور بھی ایک شاعر سے ، سچ تو یہ ہے کہ محسوس ہونے لگا ہے کہ میں بھی کچھ کہنے لگا ہوں ۔ رہی بات ابہام کی تو وہ تو متوقع ہے کہ میں علم ِ عروض سے واقف نہیں ہے ۔ پھر بھی ڈھٹائی سے غزلیں یہاں پوسٹ کردیتا ہوں ۔ اوریہ آپ احباب کی مہربانی ہے کہ آپ پھر بھی سراہتے ہیں ۔ :)
ارے واہ :)
آپ تو ہماری طرح ہی نکلے
علمِ عروض سے تو ہماری اس طرح جان جاتی ہے جیسے زمانہِ طالبعلمی میں اجبرا سے :tongueout4:
ویسے ڈھٹائی میں ہم بھی کچھ کم نہیں
بیگم کی دھکیوں کے باوجود شاعری سے لگاؤ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا جا رہا ہے
ظفری — مارچ 3، 2013 4:24 صبح
ارے واہ :)
آپ تو ہماری طرح ہی نکلے
علمِ عروض سے تو ہماری اس طرح جان جاتی ہے جیسے زمانہِ طالبعلمی میں اجبرا سے :tongueout4:
ویسے ڈھٹائی میں ہم بھی کچھ کم نہیں
بیگم کی دھکیوں کے باوجود شاعری سے لگاؤ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا جا رہا ہے
باقی باتیں تو مشترک نکلیں ۔:grin:
مگر آپ کی آخری سطر کے برخلاف ہمارے ساتھ معاملہ ذرا مختلف ہے کہ ہم بیگم کی دھمکی پر غزلیں لکھ رہے ہیں ۔ :)
سید شہزاد ناصر — مارچ 3، 2013 4:26 صبح
باقی باتیں تو مشترک ہیں ۔:grin:
مگر آپ کی آخری سطر کے برخلاف ہمارے ساتھ معاملہ ذرا مختلف ہے کہ ہم بیگم کی دھمکی پر غزلیں لکھ رہے ہیں ۔ :)
نہ چھیڑو درد مندوں کو نہ جانے دل سے کیا نکلے :mad3:
الف عین — مارچ 3، 2013 5:00 صبح
خوب ظفری۔ انشا اللہ اسے عروض کے تحت کر دوں گا، مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ
سید شہزاد ناصر — مارچ 3، 2013 5:03 صبح
خوب ظفری۔ انشا اللہ اسے عروض کے تحت کر دوں گا، مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ
واقعی اس میں بہت محنت کرنی پڑتی ہے
الف عین — مارچ 3، 2013 5:11 صبح
اسی لئے اکثر محمد خلیل الرحمٰن کو آواز دیتا ہوں اکثر۔
ظفری — مارچ 3، 2013 5:13 صبح
خوب ظفری۔ انشا اللہ اسے عروض کے تحت کر دوں گا، مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ
بہت بہت شکریہ استادِ محترم ۔۔۔ میں جانتا ہوں کہ واقعی یہ محنت طلب کام ہے ۔ بس مجھے آپ کی شفقت درکار ہے ۔ وقت کی کوئی قید نہیں ۔ اس دھاگے پر تشریف لانے کے لیئے میں آپ کا ایک بار پھر شکریہ ادا کرتا ہوں ۔
محمد خلیل الرحمٰن — مارچ 3، 2013 5:57 صبح
اسی لئے اکثر محمد خلیل الرحمٰن کو آواز دیتا ہوں اکثر۔
لبیک و سعدیک یا استادِ محترم۔ ظفری بھائی کی خوبصورت غزل پر نامکمل صلاح حاضر ہے۔
ظفری بھائی کی غزل پر صلاح​
شوقِ آرزو گیا ، عرضِ حال نہ رہا​
مجھے ترا تجھے مرا کچھ خیال نہ رہا​
ایک لمحے میں صدیوں کی رفاقت گئی​
ستم ہوا ، غضب ہوا ،تجھے ملال نہ رہا​
وقت نے مدھم کر دی ہر لو اپنےدل کی​
تجھے غرور نہ رہا مجھے جلال نہ رہا​
پس ماندہ میرے دل میں جلوے نہ رہے​
تمام شب جو یار کا رُخِ جمال نہ رہا​
جواب میرے ہونٹوں پر سجا کےاس کا پوچھنا​
پھر پوچھتے ہم کیا ، کوئی سوال بھی نہ رہا​
ظفری — مارچ 3، 2013 6:11 صبح
شکریہ بہت بہت شکریہ ، محترم محمد خلیل الرحمٰن بھائی ۔۔۔۔۔ آپ کا شکر گذار ہوں کہ آپ نےفوراً میں میری اس غزل کی طرف توجہ دی ۔ میں اسے محفوظ کرلیتا ہوں ۔ آئندہ بھی آپ کی صلاح اور ہمت افزائی کے لیئے مشکور رہوں گا ۔
سید شہزاد ناصر — مارچ 4، 2013 4:23 صبح
ایک لمحے میں صدیوں کی رفاقت گئی
ستم یہ ہوا ، تجھے ملال بھی نہ رہا
ایک لمحے میں صدیوں کی رفاقت گئی​
ستم ہوا ، غضب ہوا ،تجھے ملال نہ رہا
پس ماندہ میرے دل میں جلوے نہ رہے
اس شب بھر چہرے پر جمال بھی نہ رہا
پس ماندہ میرے دل میں جلوے نہ رہے​
تمام شب جو یار کا رُخِ جمال نہ رہا​
سبحان اللہ کیا کہنے خلیل صاحب​
ان دونوں اشعار میں ہی مجھے ابہام تھا​
اصلاح کے بعد بہت نکھر گئے :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B4%D9%88%D9%82%D9%90-%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88-%DA%AF%DB%8C%D8%A7-%D8%8C-%D8%B9%D8%B1%D8%B6%D9%90-%D8%AD%D8%A7%D9%84-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D9%86%DB%81-%D8%B1%DB%81%D8%A7.60606/