شکل اک یاد آتی رہی رات بھر ۔۔۔ غزل اصلاح کے لئے

کاشف اسرار احمد — مارچ 4، 2017 8:35 شام
السلام علیکم
استاد محترم جناب الف عین سر اور احباب محفل، ایک غزل کے چند اشعار اصلاح کے لئے پیش کر رہا ہوں۔
بحر متدارک مثمن سالم
فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن
شکل اک یاد آتی رہی رات بھر
اک شکایت ستاتی رہی رات بھر
پھر صبا نے کہی اک کتھا رقص میں،
گیت برہا کے گاتی رہی رات بھر
کیا وہ جگنو چمکتا پھرا صحن میں
یا کرن منہ چھپاتی رہی رات بھر
سائے دیوار سے باتیں کرتے رہے
خامشی گنگناتی رہی رات بھر
اک چکوری تڑپتی رہی چاند کو
چاندنی مسکراتی رہی رات بھر
پیڑ خاموش شکوے میں ڈوبے رہے
اور اداسی مناتی رہی رات بھر
سیّد کاشف

عاطف ملک — مارچ 5، 2017 5:30 صبح
پیڑ خاموش شکوے میں ڈوبے رہے
اور اداسی مناتی رہی رات بھر
اعلیٰ۔۔۔۔۔۔بہت عمدہ کاشف بھائی!
الف عین — مارچ 5، 2017 7:26 صبح
بہت اچھے۔ اچھی درست غزل ہے۔ بس آخری شعر میں ہی کچھ ہلکی سی خامی محسوس کی
پیڑ خاموش شکوے میں ڈوبے رہے
اور اداسی مناتی رہی رات بھر
واضح نہیں۔ پیڑ کس کا شکوہ کر ہے تھے۔ اداسی کیا مناتی رہی، دیوالی؟
کاشف اسرار احمد — مارچ 6، 2017 11:50 صبح
بہت اچھے۔ اچھی درست غزل ہے۔ بس آخری شعر میں ہی کچھ ہلکی سی خامی محسوس کی
واضح نہیں۔ پیڑ کس کا شکوہ کر ہے تھے۔ اداسی کیا مناتی رہی، دیوالی؟
شکریہ استاد محترم !
آخری شعر پر نظر ثانی ضرور کرونگا۔ انشا اللہ
نوازش!
کاشف اسرار احمد — مارچ 6، 2017 11:51 صبح
اعلیٰ۔۔۔۔۔۔بہت عمدہ کاشف بھائی!
شکریہ عاطف بھائی !
محمد خرم یاسین — مارچ 6، 2017 12:07 شام
عمدہ کاوش ہے۔ ما شااللہ :)
ایسی ہی ایک غزل احمد جہانزیب نے گائی ہے۔
آپ کی یاد آتی رہی رات بھر
چشمِ نم مسکراتی رہی رات بھر
الف عین — مارچ 6، 2017 3:59 شام
یہ مخدوم محی الدین کی زمین ہے۔ بہت لوگوں نے غزلیں کہی ہیں۔
محمد خرم یاسین — مارچ 6، 2017 4:07 شام
یہ مخدوم محی الدین کی زمین ہے۔ بہت لوگوں نے غزلیں کہی ہیں۔
واقعی بہت کمال کی ہے۔
محمد خرم یاسین — مارچ 6، 2017 4:07 شام
یہ مخدوم محی الدین کی زمین ہے۔ بہت لوگوں نے غزلیں کہی ہیں۔
استادِمحترم کیا اس زمین میں ان کی غزل مل سکتی ہے ؟
الف عین — مارچ 7، 2017 3:56 صبح
یہیں کا ربط لو
تھوڑا علامہ گوگل سے ہی کہا ہوتا۔
فہد اشرف — مارچ 7، 2017 4:21 صبح
مخدوم کی یاد میں
از فیض احمد فیض۔
"آپ کی یاد آتی رہی رات بھر"
چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر
گاہ جلتی ہوئی، گاہ بجھتی ہوئی
شمعِ غم جھلملاتی رہی رات بھر
کوئی خوشبو بدلتی رہی پیرہن
کوئی تصویر گاتی رہی رات بھر
پھر صبا سایہء شاخِ گُل کے تلے
کوئی قِصہ سناتی رہی رات بھر
جو نہ آیا اسے کوئی زنجیرِ در
ہر صدا پربلاتی رہی رات بھر
ایک امید سے دل بہلتا رہا
اک تمنا ستاتی رہی رات بھر
کاشف اسرار احمد — مارچ 7، 2017 6:11 صبح
استادِمحترم کیا اس زمین میں ان کی غزل مل سکتی ہے ؟
آپ کی یاد آتی رہی رات بھر
چشمِ نم مسکراتی رہی رات بھر
رات بھر درد کی شمع جلتی رہی
غم کی لو تھرتھراتی رہی رات بھر
بانسری کی سریلی سہانی صدا
یاد بن بن کے آتی رہی رات بھر
یاد کے چاند دل میں اُترتے رہے
چاندنی جگمگاتی رہی رات بھر
کوئی دیوانہ گلیوں میں پھرتا رہا
کوئی آواز آتی رہی رات بھر
مخدوم محی الدین
محمد خرم یاسین — مارچ 7، 2017 7:18 صبح
آپ کی یاد آتی رہی رات بھر
چشمِ نم مسکراتی رہی رات بھر
رات بھر درد کی شمع جلتی رہی
غم کی لو تھرتھراتی رہی رات بھر
بانسری کی سریلی سہانی صدا
یاد بن بن کے آتی رہی رات بھر
یاد کے چاند دل میں اُترتے رہے
چاندنی جگمگاتی رہی رات بھر
کوئی دیوانہ گلیوں میں پھرتا رہا
کوئی آواز آتی رہی رات بھر
مخدوم محی الدین
شکریہ، جزاک اللہ :)
کاشف اسرار احمد — مارچ 7، 2017 7:47 شام
:)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B4%DA%A9%D9%84-%D8%A7%DA%A9-%DB%8C%D8%A7%D8%AF-%D8%A2%D8%AA%DB%8C-%D8%B1%DB%81%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D8%AA-%D8%A8%DA%BE%D8%B1-%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DA%A9%DB%92-%D9%84%D8%A6%DB%92.95148/