بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
غزل
بیوفائی کو ہم اُن کی اِک ادا مانیں گے
گویا ہم اِس کو ہی دستورِ وفا مانیں گے
آرزوؤں کے گہر ہونے لگے جو بے آب
سینت کر رکھنے کی ہم اِس کو سزا مانیں گے
راستے بند کیے دیتے ہو دیوانوں کے
لوگ عشاق کی اب فکرِ رسا مانیں گے!
عکس کی موج وہ جب دیکھے ہمیں صحرا میں
تو باحسرت اِسے ہی پُرسشِ ما مانیں گے
جب نہ پروانوں میں ہو گرمیٔ کردار کہیں
پھر اُجالوں کو وہ کیوں قبلہ نُما مانیں گے
ق
کب عناصر میں توازن کی ادا مانیں گے
کب یہ قدرت کے مظاہر کو کریں گے تسلیم
کب یہ خود کو اِسی مٹی سے بنا مانیں گے
یہ مرے عہد کے شداد یہ نمرود سبھی
کیا کبھی خود کو یہ مخلوقِ خدا مانیں گے؟
شمع اب اپنی زباں سے نہ کہے حال اپنا
بزم برہم سی ہے پروانے بُرا مانیں گے