عاطف کے مشورے صائب ہیں۔ ان کے علاوہ کچھ اور
شیریں نہ دَہَن ہو تو محبت کی دوا دو
تاثیر اگر کم ہو تو مقدار بڑھا دو
۔۔’نہ‘ سے کیا مطلب اولیٰ مصرع میں؟ یوں ہو تو
گر شیریں دہن ہو
استادِ محترم مطلع مصرع اولیٰ میں جس خیال کی ادائیگی مقصود تھی شاید بطریق احسن انجام نہیں پا سکی ۔ تاہم میں نثر میں وضاحت کی کوشش کرتا ہوں اگر تبدیلی کی ضرورت ہو تو ضرور آگاہ فرمائیے۔ دہن شیریں نہ ہو تو (پھر اسے) محبت کی دوا (دینی چاہیے) گویا بد گوئی کا مقابلہ شائستہ زبان سے کرنا چاہیے۔
اگر مجوزہ تبدیلی
(گر شیریں دہن ہو تو محبت کی دوا دو) کر دی جاتی ہے تو پھر دوا کی حاجت ہی نہیں رہتی ۔
شعلائے کو میں درست نہیں سمجھتا
جی بہتر ۔ متبادل پہ غور کرتا ہوں
تعلیم کا ، صحت کا ہے حق ایک برابر
محکوم کے، حاکم سےسبھی فرق مٹا دو
۔۔پہلا مصرع مفہوم سے خارج ہے ، یوں کہا جا سکتا ہے
تعلیم کا ، صحت کا ہے حق سب کا برابر
صد فی صد متفق
مظلوم کی فریاد پہ خاموش رہے جو
اُس ظلم کے ایوان میں اِک حشر اُٹھا دو
۔۔مفہوم کے اعتبار سے عجیب سا ہے۔ جب ایوان ہی خاموش ہے تو کس سے کہا جا رہا ہے کہ حشر بپا کر دو!!
جی عمدہ نکتہ آفرینی ہے
تدوین: اُس ظلم کے ایوان کو تم آگ لگا دو
تنقید و اصلاح پر سراپا سپاس ہوں۔ سلامت رہیے۔جزاکم اللہ خیرا