اجنبی — جون 2، 2007 3:43 صبح
حسبنا الله ونعم الوكيل وعلى الله توكلنا
الف عین — جون 2، 2007 11:32 صبح
میرے خیال میں تو سُخَن ہی درست ہے۔ سخُن میں نے تو کبھی سنا نہیں۔
اسی طرح ایک عام لفظ ہے جو میرے ویب جریدے کا نام بھی ہے۔ عموماً لوگ اسے سِمت بولتے ہیں، لیکن میرے والدِ مرحوم نے ہر ایک کو اصلاح کی کہ درست سَمت ہے، س پر فتح یعنی زبر کے ساتھ
شمشاد — جون 2، 2007 11:46 صبح
فیروز اللغات میں یہ اس طرح درج ہے :
سخن (سَ-خُن)، (سُ-خَن)، (سُ-خُن) (ف-ا-مذکر)
(1) بات - کلام (2) عہد (3) شعر (4) معقولہ (5) اعتراض
ڈاکٹر عباس — جون 3، 2007 6:17 صبح
شمشاد نے کہا:
فیروز اللغات میں یہ اس طرح درج ہے :
سخن (سَ-خُن)، (سُ-خَن)، (سُ-خُن) (ف-ا-مذکر)
(1) بات - کلام (2) عہد (3) شعر (4) معقولہ (5) اعتراض
اب بات زیادہ واضح ھوئی۔
شمشاد — جون 3، 2007 6:30 صبح
اجنبی نے کہا:
اعجاز انکل: یہ سَمت تو میں نے پہلے بھی کہیں سنا ہے مگر اس کے بارے میںیقین نہیں تھا کہ واقعی س پر زبر ہوتا ہے یا نہیں ۔
شمشاد: کیا اعراب کی ترتیب بدلنے سے معنی بدل سکتے ہیں اس لفظ کے؟
میں نے جس طرح لغت میں لکھا دیکھا ہے، ویسے ہی لکھ دیا ہے۔
میرے پاس جو لغت ہے وہ ایک درمیانے حجم کی ہے۔ اگر کسی کے پاس بڑی لغت ہو اور اس میں مزید تفصیل سے لکھا ہو تو کہہ نہیں سکتا۔
محمد وارث — جون 3، 2007 1:27 شام
سخن ایک عجیب و غریب لفظ ہے کہ اس کی چار حالتیں ہیں اور چاروں درست ہیں یعنی
سُخَن، سَخُن، سَخَن اور سُخُن
مطلب سب کا ایک ہی ہے۔ لیکن مستعمل شاید سُخَن ہی ہے۔
حوالہ: فرہنگِ آصفیہ از سید احمد دہلوی جلد سوم
محمد وارث — جون 4، 2007 7:28 شام
طور، طریقوں والا جو اخلاق ہے وہ اَخلاق ہی صحیح ہے یعنی بالفتح الف کے۔
حوالہ جات:
1- امیر اللغات از امیر مینائی
2- فرہنگِ آصفیہ اس سید احمد دہلوی جلد اول
3- لغات کشوری از سید تصدق حسین رضوی
4- علمی اردو لغت از وارث سرہندی
لغات کشوری میں، میں نے اِخلاق بھی دیکھا ہے یعنی الف کے کسرہ کے ساتھ اور اسکا مطلب ہے پرانا ہونا یا پرانا کرنا۔
شمشاد — جون 4، 2007 11:06 شام
اَخلاق (اَخ-لاق) عربی لفظ ہے، اسم ہے، مذکر ہے، خُلق کی جمع ہے۔
مطلب (1) عادتیں (2) ملنساری (3) کشادہ پیشانی (4) آؤ بھگت
الف عین — جون 7، 2007 9:15 صبح
لغت تو اس وقت میرے پاس نہیں۔ لیکن ہم لوگ اسے بھِنَک کہتے ہیں۔ بھ پر کسرہ یعنی زیر، نون پر زبر۔
بھنک لگنا مطلب کچھ ہنٹ ملنا، کچھ clue حاصل ہونا۔
شمشاد — جون 7، 2007 11:01 صبح
بِھنک، اعجاز بھائی کی بات درست ہے کہ بھ پر کسرہ یعنی زیر، نون پر زبر۔
یہ ہندی زبان کا لفظ ہے جو اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اسم ہے، مؤنث ہے۔
مطلب :
1) دھیمی آواز
2) اُڑتی ہوئی خبر
3) مکھیوں کی آواز
فاتح — جولائی 22، 2007 2:55 صبح
مَحَب۔َت اور مَوسِم کا غَلَط استعمال
دو الفاظ اور بھی ہیں جنہیں عموماً غلَط استعمال کیا جاتا ہے اور وہ ہیں مَحَب۔َت اور مَوسِم۔
مَحَب۔َت کو مُحَب۔َت(میم پر پیش کے ساتھ) اور مَوسِم کو مَوسَم (سین پر زبر کے ساتھ) غلَط طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
صحیح تلفظ درج ذیل ہیں:
مَحَب۔َت - مَ حَب بَت - بفتحِ اوّل، ثانی و ثالث
(یعنی م، ح اور ب تینوں پر زبر ہے جبکہ ب پر تشدید بھی ہے)
مَوسِم - بفتحِ اوّل و بکسرہء ثالث)
(یعنی پہلے م پر زبر اور س پر زیر)
اسی ضمن میں عرض کرتا چلوں کہ لفظ "غَلَط" کو بھی کچھ لوگ غَلط (لام پر سکون کے ساتھ) استعمال کرتے ہیں جو کہ صریحاً "غَلَط" ہے اور فُحش غلَطی تصوّر کی جاتی ہے، صحیح تلفظ ذیل میں درج ہے:
غَلَط - غَ لَط - بفتحِ اوّل و ثانی
(یعنی غ اور ل دونوں پر زبر ہے)
اجنبی — جون 1، 2008 4:57 صبح
لفظ امریکہ میں کشمیر والا کاف اور افریقہ میں قینچی والا قاف استعمال کیا جاتا ہے ۔
اس کی وجہ سیاسی ہے یا کچھ اور؟

ابن سعید — جون 1، 2008 6:50 صبح
دو الفاظ اور بھی ہیں جنہیں عموماً غلَط استعمال کیا جاتا ہے اور وہ ہیں مَحَب۔َت اور مَوسِم۔
مَحَب۔َت کو مُحَب۔َت(میم پر پیش کے ساتھ) اور مَوسِم کو مَوسَم (سین پر زبر کے ساتھ) غلَط طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
صحیح تلفظ درج ذیل ہیں:
مَحَب۔َت - مَ حَب بَت - بفتحِ اوّل، ثانی و ثالث
(یعنی م، ح اور ب تینوں پر زبر ہے جبکہ ب پر تشدید بھی ہے)
مَوسِم - بفتحِ اوّل و بکسرہء ثالث)
(یعنی پہلے م پر زبر اور س پر زیر)
اسی ضمن میں عرض کرتا چلوں کہ لفظ "غَلَط" کو بھی کچھ لوگ غَلط (لام پر سکون کے ساتھ) استعمال کرتے ہیں جو کہ صریحاً "غَلَط" ہے اور فُحش غلَطی تصوّر کی جاتی ہے، صحیح تلفظ ذیل میں درج ہے:
غَلَط - غَ لَط - بفتحِ اوّل و ثانی
(یعنی غ اور ل دونوں پر زبر ہے)
مَحَبّت اور مَوسِم ان اعرابوں کے ساتھ عربی میں مستعمل ہیں۔ اور اردو کے لئے ان کا ماخذ بھی عربی ہی ہے۔ اس کے باوجود اردو میں یہ مُحَبّت اور مَوسَم ہی مستعمل ہیں۔ اور کسی زبان میں جب ایک لفظ دوسری زبان سے نقل ہوتا ہے تو اس کی شکل وہاں کے اہل زبان اور ان کی معاشرت کے مطابق تبدیل ہو جاتی ہے۔ پھر وہ لفظ اپنے اصل مخرج کا پابند نہیں رہتا۔ اور نئی شکل ہی اس زبان کے لئے اصل گردانی جاتی ہے۔
خاورچودھری — جون 1، 2008 8:17 صبح
تلفظ کے حوالے سے تربیت کا باقاعدہ سلسلہ شروع کیا جائے توبہتوںکا بھلا ہوگا۔۔۔۔۔ لفظ گمبھیر کو گھمبیر جب کہ مطمح نظر کو مطمع نظر لکھا جاتا ہے۔۔۔۔