صرف سجدہ نہیں اچھا نہ قیام اچھا ہے ۔۔۔ بغرض اصلاح

شاہد شاہنواز — ستمبر 29، 2016 9:18 صبح
صرف سجدہ نہیں اچھا نہ قیام اچھا ہے
ذکر جس میں بھی ہو تیرا وہ مقام اچھا ہے
گفتگو ساری کی ساری مری بے مقصد ہے
بس ترا نام ہو جس میں وہ کلام اچھا ہے
مجھ کو دنیا کے بکھیڑوں سے نہیں کچھ مطلب
میں ترے در کا گدا ہوں، مرا کام اچھا ہے
راستہ جتنا بھی مشکل ہو، مجھے چلنا ہے
اس کی منزل ہو اگر تُو، وہ تمام اچھا ہے
بادشاہی بھی عطا کرتو کچھ ایسی کہ مجھے
کوئی دیکھے تو یہ کہہ دے کہ غلام اچھا ہے
پاس آ کر وہ دکھاتے ہیں نئے رنگ ہمیں
دور سے لوگ جو کرتے ہیں سلام اچھا ہے
شاعری نام کی کرتا ہوں مگر اے شاہد
جو بھی سنتا ہے وہ کہتا ہے پیام اچھا ہے
ہادیہ — ستمبر 29، 2016 9:23 صبح
صحیح کرنے کا تو مجھے نہیں پتہ۔ مگر باقی سب اشعار بہت اچھے ہیں بلکہ زبردست ہیں ۔لیکن یہ پہلا کیسا ہے اتنی سمجھ نہیں آئی۔۔
صرف سجدہ نہیں اچھا نہ قیام اچھا ہے
شاہد شاہنواز — ستمبر 29، 2016 9:59 صبح
صحیح کرنے کا تو مجھے نہیں پتہ۔ مگر باقی سب اشعار بہت اچھے ہیں بلکہ زبردست ہیں ۔لیکن یہ پہلا کیسا ہے اتنی سمجھ نہیں آئی۔۔
صرف سجدہ نہیں اچھا نہ قیام اچھا ہے ۔۔۔ ذکر جس میں بھی ہو تیرا وہ مقام اچھا ہے۔۔
اس کی نثر کر کے دیکھئے۔
سجدہ اور قیام ہی اچھے نہیں، بلکہ جس بھی مقام پر خدا کا ذکر کیا جائے، وہ اچھا ہوتا ہے۔۔۔
الف عین — ستمبر 29، 2016 4:36 شام
بس آخری دو اشعار مجھے بھرتی کے محسوس ہوئے۔ ان کی بدلے کچھ اور کہو تو بہتر ہے
شاہد شاہنواز — ستمبر 29، 2016 5:17 شام
بس آخری دو اشعار مجھے بھرتی کے محسوس ہوئے۔ ان کی بدلے کچھ اور کہو تو بہتر ہے
بے حد شکریہ ۔۔۔
آخری دونوں اشعار حذف کردیتا ہوں۔۔۔
محمد وارث — ستمبر 29، 2016 5:29 شام
مطلع کے پہلے مصرعے میں ابلاغ واضح نہیں شاید، نہ ہی صرف سجدہ اچھا ہے اور نہ ہی قیام کا مطلب واضح نہیں ہوتا۔ دوسرے مصرعے مقام میں ذکر کی بجائے مقام پر ہونا چاہیے، ذکر محفل میں ہوتا ہے شہر میں یا کسی بھی خاص مقام میں لیکن جب صرف مقام ہوگا تو مقام پر ذکر ہوگا۔
سید عاطف علی — ستمبر 29، 2016 6:02 شام
مطلع کے پہلے مصرعے میں ابلاغ واضح نہیں شاید، نہ ہی صرف سجدہ اچھا ہے اور نہ ہی قیام کا مطلب واضح نہیں ہوتا۔ دوسرے مصرعے مقام میں ذکر کی بجائے مقام پر ہونا چاہیے، ذکر محفل میں ہوتا ہے شہر میں یا کسی بھی خاص مقام میں لیکن جب صرف مقام ہوگا تو مقام پر ذکر ہوگا۔
مجھے بھی یہی محسوس ہوا تھا ۔ کہ اس خیال کو بہتر ترتیب میں ہونا چاہیئے، مثلاً ، نہ تو سجدہ مرا اچھا ،نہ قیام اچھا ہے وغیرہ۔
ایسا لگتا ہے کہ لفظ صرف کی وجہ سے نشست بگڑ رہی ہے۔
کاشف اسرار احمد — ستمبر 29، 2016 7:49 شام
اچھی غزل ہے ماشا اللہ۔
بس اس شعر کے دوسرے مصرع کی نشست کچھ ڈھیلی محسوس ہوئی۔
راستہ جتنا بھی مشکل ہو، مجھے چلنا ہے
اس کی منزل ہو اگر تُو، وہ تمام اچھا ہے
مشکل راستہ آپ تبھی چلیں گے جب آپ جانتے ہوں کہ منزل پر "وہ" ہے۔ اس لئے شاید دوسرے مصرع میں ہو کے بجائے "ہے" کا محل ہے۔
"اس کی منزل ہے اگر تُو، وہ تمام اچھا ہے" یہ ایک ممکنہ صورت ہے۔
فاخر رضا — ستمبر 29، 2016 7:53 شام
بادشاہی بھی عطا کرتو کچھ ایسی کہ مجھے
کوئی دیکھے تو یہ کہہ دے کہ غلام اچھا ہے
بہت پیارا کلام ہے.
شاہد شاہنواز — ستمبر 30، 2016 10:32 صبح
چلیے ہم نے پہلے شعر کی مجوزہ صورت رکھی ہے، جو آپ نے بیان فرمائی:
نہ تو سجدہ مرا اچھا نہ قیام اچھا ہے
ذکر جس پر بھی ہو تیرا وہ مقام اچھا ہے
اور
اس کی منزل ہے اگر تو، وہ تمام اچھا ہے۔۔۔
لیکن کیا مطلعے کی موجودہ صورت درست ہے؟
کاشف اسرار احمد — ستمبر 30، 2016 12:28 شام
مطلع اپنی جگہ درست ہے۔
لیکن مطلع میں اور اس شعر میں دوری کا تناسب بھی تو دیکھئے :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B5%D8%B1%D9%81-%D8%B3%D8%AC%D8%AF%DB%81-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7-%D9%86%DB%81-%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85-%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7-%DB%81%DB%92-%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%A8%D8%BA%D8%B1%D8%B6-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.92191/