طالب توجہ۔ ۔ ۔

اکمل زیدی — اگست 7، 2018 8:47 صبح
آج سے پندرہ سال پہلے لکھی تھی اب یہاں سے سبق لے کر اور ہمت کر کے کچھ تبدیلی کیساتھ پیش کر رہا ہوں۔۔۔امید ہے اصلاح فرمائینگے۔۔
-----------------------------------------------------------------------------
خود کو سناتے رہتے ہیں خود سے ہی کہتے رہتے ہیں
سوچ کو کب کوئی روک سکا کب سوچ پہ پہرے رہتے ہیں
آندھی آئے یا طوفاں سب گذر ہی جاتے ہیں
وہ دریا گہرے ہوتے ہیں جو دریا ٹہرے رہتے ہیں
ساتھ اگر نہیں رہ پائے اک ربط تو پھر بھی رہتا ہے
تم دور جن سے ہوتے ہووہ دل میں تیرے رہتے ہیں
جو ہو چکی اس پر اب بیکار ہی دل کا کھونا ہے
خواب تو میرے اپنے ہیں خواب تو میرے رہتے ہیں
اس سے منزل دور نہیں جس میں اجالا ہے اکمل
اس کو کیا سجھائی دے جس دل میں اندھیرے رہتے ہیں
اکمل زیدی — اگست 7، 2018 8:55 صبح
محمد ریحان قریشی ، اور محترم الف عین صاحب
محمد عدنان اکبری نقیبی — اگست 7، 2018 9:00 صبح
ساتھ اگر نہیں رہ پائے اک ربط تو پھر بھی رہتا ہے
تم دور جن سے ہوتے ہووہ دل میں تیرے رہتے ہیں
زبردست کاوش اکمل بھائی ،
اصلاح تو محترم اساتذہ فرمائیں گے ،
مگر ہمیں یہ شعر بہت پسند آیا ۔کیا ہی خوب کہا آپ نے بہت عمدہ ۔
اللہ کرے ذوق سخن اور زیادہ ہو۔
اکمل زیدی — اگست 7، 2018 9:04 صبح
زبردست کاوش اکمل بھائی ،
اصلاح تو محترم اساتذہ فرمائیں گے ،
مگر ہمیں یہ شعر بہت پسند آیا ۔کیا ہی خوب کہا آپ نے بہت عمدہ ۔
اللہ کرے ذوق سخن اور زیادہ ہو۔
بہت شکریہ آپ کی حوصلہ افزائی کا ۔ ۔ ۔
محمد ریحان قریشی — اگست 7، 2018 9:32 صبح
چند متبادل میں تجویز کر دیتا ہوں۔
آندھی آئے یا طوفاں سب گذر ہی جاتے ہیں
آندھی ہو یا پھر طوفان آخر سب تھم جاتے ہیں
تم دور جن سے ہوتے ہووہ دل میں تیرے رہتے ہیں
جن سے جدا تم ہوتے ہو وہ ساتھ تمہارے رہتے ہیں
جو ہو چکی اس پر اب بیکار ہی دل کا کھونا ہے
اس کو کیا سجھائی دے جس دل میں اندھیرے رہتے ہیں
ان کو رواں بنانے کی کوشش آپ کیجیے۔
مقدس — اگست 7، 2018 11:26 صبح
ایک اور شاعر بھیا :eek:
اکمل زیدی — اگست 9، 2018 7:50 صبح
بعد از اصلاح۔۔
-----------------------
خود کو سناتے رہتے ہیں خود سے ہی کہتے رہتے ہیں
سوچ کو کب کوئی روک سکا کب سوچ پہ پہرے رہتے ہیں
آندھی ہو یا پھر طوفان آخر سب تھم جاتے ہیں
وہ دریا گہرے ہوتے ہیں جو دریا ٹہرے رہتے ہیں
ساتھ اگر نہیں رہ پائے اک ربط تو پھر بھی رہتا ہے
جن سے جدا تم ہوتے ہو وہ ساتھ تمہارے رہتے ہیں
دل کو کیوں برباد کریں جو ہو چکی سو ہو چکی
خواب تو میرے اپنے ہیں خواب تو میرے رہتے ہیں
اس سے منزل دور نہیں جس میں اجالا ہے اکمل
اس کوسوجھے گا کیا جس دل میں اندھیرے رہتے ہیں
--------------------------------------
پیش مکرر ۔۔۔ جناب محترم
اکمل زیدی — اگست 9، 2018 7:56 صبح
عاجز ہیں اس ہنر سے اکمل
کس نے کہا کے شاعر ہیں
مقدس — اگست 9، 2018 10:11 صبح
عاجز ہیں اس ہنر سے اکمل
کس نے کہا کے شاعر ہیں
باتیں بھی شاعری میں :eek:
فہیم — اگست 9، 2018 10:42 صبح
باتیں بھی شاعری میں :eek:
شاعری اور شاعروں سے مکمل پرہیز چل رہا ہے کیا:ROFLMAO:
مقدس — اگست 9، 2018 10:50 صبح
شاعری اور شاعروں سے مکمل پرہیز چل رہا ہے کیا:ROFLMAO:
فہیم بھیا میں نے اپنی شاعری اسٹارٹ کر دینی۔۔۔۔ یاد ہے ناں آپ کو شوہر پاکستان گیا ہے والی :rollingonthefloor:
الف عین — اگست 12، 2018 8:02 صبح
بعد از اصلاح۔۔
-----------------------
خود کو سناتے رہتے ہیں خود سے ہی کہتے رہتے ہیں
سوچ کو کب کوئی روک سکا کب سوچ پہ پہرے رہتے ہیں
آندھی ہو یا پھر طوفان آخر سب تھم جاتے ہیں
وہ دریا گہرے ہوتے ہیں جو دریا ٹہرے رہتے ہیں
ساتھ اگر نہیں رہ پائے اک ربط تو پھر بھی رہتا ہے
جن سے جدا تم ہوتے ہو وہ ساتھ تمہارے رہتے ہیں
دل کو کیوں برباد کریں جو ہو چکی سو ہو چکی
خواب تو میرے اپنے ہیں خواب تو میرے رہتے ہیں
اس سے منزل دور نہیں جس میں اجالا ہے اکمل
اس کوسوجھے گا کیا جس دل میں اندھیرے رہتے ہیں
--------------------------------------
پیش مکرر ۔۔۔ جناب محترم
قوافی گڑبڑ ہیں. "رے رہتے ہیں" کو ردیف سمجھیں،تو ان سے ماقبل قوافی نہیں، خود پی غور کریں
اکمل زیدی — نومبر 1، 2023 10:20 صبح
ایک کھویا ہوا سرٹیفیکیٹ مل گیا آج۔ ۔ ۔ ۔ :battingeyelashes:

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8-%D8%AA%D9%88%D8%AC%DB%81%DB%94-%DB%94-%DB%94.102683/