طبیعت آج پھر گھبرا رہی ہے

سید ذیشان — جنوری 25، 2013 1:18 شام
طبیعت آج پھر گھبرا رہی ہے
نظر خنجر کی جانب جا رہی ہے
ہے دستوروں کی زنجیروں میں جکڑی
اِسی جانب حریت آ رہی ہے
نہیں لوٹی تری جانب سے گویا
نظر پھر صدقے واری جا رہی ہے
اگرچہ جان لب پر آچکی ہے
محبت زیرِ لب مسکا رہی ہے
عجب ہے اپنے خوں پر آدمیت
طمنچوں کے ترانے گا رہی ہے
غمِ الفت کا جب قیدی بنا ہوں
مجھے یہ بندگی اب بھا رہی ہے
مگس شائد ہے فکرِ انگبیں میں
بطرزِ شیخ یوں لہرا رہی ہے
عسکری — جنوری 25، 2013 1:20 شام
قسم سے میری خود کی بھی طبعیت آج گھبرا رہی ہے کل جو بھاگ دوڑ کی تھی شاید اس کی وجہ سے گردن کی پچھلے طرف درد بھی ہے :rolleyes:
سید ذیشان — جنوری 25، 2013 1:26 شام
قسم سے میری خود کی بھی طبعیت آج گھبرا رہی ہے کل جو بھاگ دوڑ کی تھی شاید اس کی وجہ سے گردن کی پچھلے طرف درد بھی ہے :rolleyes:
واہ یہ تو میری اپنی حالت بیان کر دی ;)
عسکری — جنوری 25، 2013 1:28 شام
واہ یہ تو میری اپنی حالت بیان کر دی ;)

میرے پاس موکل ہیں جناب :grin:
نایاب — جنوری 25، 2013 4:23 شام
واہہہہہہہہ
بہت خوب
عجب ہے اپنے خوں پر آدمیت​
طمنچوں کے ترانے گا رہی ہے​
نیرنگ خیال — جنوری 25، 2013 4:31 شام
zeesh بھائی میں اصلاح کروں کیا :p
زبردست بہت عمدہ ہے۔۔ مزا آگیا۔ بہت سی داد قبول کیجیئے :)
سید ذیشان — جنوری 25، 2013 4:40 شام
واہہہہہہہہ
بہت خوب
عجب ہے اپنے خوں پر آدمیت​
طمنچوں کے ترانے گا رہی ہے​

بہت شکریہ نایاب بھائی داد دینے کا اور اشعار پسند کرنے کا :)
سید ذیشان — جنوری 25، 2013 4:41 شام
zeesh بھائی میں اصلاح کروں کیا :p
زبردست بہت عمدہ ہے۔۔ مزا آگیا۔ بہت سی داد قبول کیجیئے :)

شکریہ نیرنگ بھائی، آپ تو نیرنگ خیال ہیں تو اصلاح پر بسم اللہ کیجئے :)
منیب احمد فاتح — جنوری 25، 2013 5:10 شام
میں استادانہ نہیں، صرف برادرانہ طور پر ایک چھوٹی سی غلطی کی نشاندہی کر دوں:
اسی جانب حریت آ رہی ہے
یہاں وزن حریت نے خراب کر دیا ہے۔ حریت کی 'را' مکسور ہونے کے ساتھ ساتھ مشدد بھی ہے۔
نیرنگ خیال — جنوری 26، 2013 3:18 صبح
شکریہ نیرنگ بھائی، آپ تو نیرنگ خیال ہیں تو اصلاح پر بسم اللہ کیجئے :)
میری اتنی بساط کہاں۔ میں تو ایویں ہی کہہ رہا تھا۔ ہماری طرف سے تو یہ اک مکمل کلام ہے۔ بقیہ اس کے اراکین پر بحث آپ کو ہی مبارک ہو۔ :)
سید ذیشان — جنوری 26، 2013 10:34 صبح
میں استادانہ نہیں، صرف برادرانہ طور پر ایک چھوٹی سی غلطی کی نشاندہی کر دوں:
اسی جانب حریت آ رہی ہے
یہاں وزن حریت نے خراب کر دیا ہے۔ حریت کی 'را' مکسور ہونے کے ساتھ ساتھ مشدد بھی ہے۔

شکریہ بھائی اس طرف توجہ دلانے کا۔:)
اب میں اس کو درست کرتا ہوں۔
الف عین — جنوری 27، 2013 5:35 صبح
اسی غلطی کی طرف نشان دہی کرنی تھی جس پر منیب نے انگلی اٹھائی ہے۔ باقی اصلاح بعد میں دیکھتا ہوں۔ اس ماہ کی برقی کتب کی اپ ڈیٹ کے بعد
سید ذیشان — فروری 7، 2013 5:33 شام
اسی غلطی کی طرف نشان دہی کرنی تھی جس پر منیب نے انگلی اٹھائی ہے۔ باقی اصلاح بعد میں دیکھتا ہوں۔ اس ماہ کی برقی کتب کی اپ ڈیٹ کے بعد

جی استادِ محترم انتظار رہے گا :)
الف عین — فروری 10، 2013 7:27 صبح
طبیعت آج پھر گھبرا رہی ہے
نظر خنجر کی جانب جا رہی ہے
۔۔درست
ہے دستوروں کی زنجیروں میں جکڑی
اِسی جانب حریت آ رہی ہے
حریت کا تلفظ غلط ہے۔
نہیں لوٹی تری جانب سے گویا
نظر پھر صدقے واری جا رہی ہے
//درست
اگرچہ جان لب پر آچکی ہے
محبت زیرِ لب مسکا رہی ہے
//ویسے درست ہے، ’مسکانا‘ ہندی لفظ ہے، جو زیرِ لب کی فارسی ترکیب کے ساتھ اچھا نہیں لگتا۔ لیکن چل بھی سکتا ہے۔
عجب ہے اپنے خوں پر آدمیت
طمنچوں کے ترانے گا رہی ہے
درست
غمِ الفت کا جب قیدی بنا ہوں
مجھے یہ بندگی اب بھا رہی ہے
//درست
مگس شائد ہے فکرِ انگبیں میں
بطرزِ شیخ یوں لہرا رہی ہے
//درست
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 10، 2013 5:36 شام
بہت ہی خوب ہے یہ غزل یارو!
ہمارے دل کو بے حد بھارہی ہے
سید ذیشان — فروری 10، 2013 5:50 شام
بہت ہی خوب ہے یہ غزل یارو!
ہمارے دل کو بے حد بھارہی ہے

شکریہ جناب اس موذوں داد کا۔ :)
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 10، 2013 5:54 شام
شکریہ جناب اس موذوں داد کا۔ :)
موذوں موزوں
میں ابھی طفل مکتب ہوں، آپ جیسے شعرائے عظام کے بیچ میں ویسے ہی اچھل کود کر رہا ہوں بس۔
سید ذیشان — فروری 10، 2013 6:01 شام
طبیعت آج پھر گھبرا رہی ہے
نظر خنجر کی جانب جا رہی ہے
۔۔درست
ہے دستوروں کی زنجیروں میں جکڑی
اِسی جانب حریت آ رہی ہے
حریت کا تلفظ غلط ہے۔
نہیں لوٹی تری جانب سے گویا
نظر پھر صدقے واری جا رہی ہے
//درست
اگرچہ جان لب پر آچکی ہے
محبت زیرِ لب مسکا رہی ہے
//ویسے درست ہے، ’مسکانا‘ ہندی لفظ ہے، جو زیرِ لب کی فارسی ترکیب کے ساتھ اچھا نہیں لگتا۔ لیکن چل بھی سکتا ہے۔
عجب ہے اپنے خوں پر آدمیت
طمنچوں کے ترانے گا رہی ہے
درست
غمِ الفت کا جب قیدی بنا ہوں
مجھے یہ بندگی اب بھا رہی ہے
//درست
مگس شائد ہے فکرِ انگبیں میں
بطرزِ شیخ یوں لہرا رہی ہے
//درست

بہت شکریہ استادِ محترم۔
دوسرے شعر کو یوں کر دیا ہے:
ہے دستوروں کی زنجیروں میں جکڑی
نجات اس سمت چلتی آ رہی ہے
سید ذیشان — فروری 10، 2013 6:02 شام
موذوں موزوں
میں ابھی طفل مکتب ہوں، آپ جیسے شعرائے عظام کے بیچ میں ویسے ہی اچھل کود کر رہا ہوں بس۔

شعراء عظام ہاہاہا :LOL:
خوب کہا۔
الف عین — فروری 11، 2013 6:36 صبح
بہت شکریہ استادِ محترم۔
دوسرے شعر کو یوں کر دیا ہے:
ہے دستوروں کی زنجیروں میں جکڑی
نجات اس سمت چلتی آ رہی ہے
نجات بھی ویسا لفظ نہیں ہے جیسا ہونا چاہئے۔ کچھ اور سوچو۔
صفحات: 1 2 3 4

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%D8%AA-%D8%A2%D8%AC-%D9%BE%DA%BE%D8%B1-%DA%AF%DA%BE%D8%A8%D8%B1%D8%A7-%D8%B1%DB%81%DB%8C-%DB%81%DB%92.59187/