انیس فاروقی — اپریل 11، 2014 4:36 شام
اسلام و علیکم
طویل غیر حاضری کے بعد ایک نظم کی اصلاح کے لئے پیش ہوا ہوں۔
مصرعہ طرح ہے ’’تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں‘‘ ۔۔۔۔۔ مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
میسر ہے فقط درسی کتابوں میں فسانوں میں
نہیں کرتا بسیرا اب ترا شاہیں چٹانوں میں
یہی تقدیس کی ہم نے کتابِ کبریائی کی
حفاظت سےبہت رکھ دی کہیں گھر کے مچانوں میں
بلالی پھر اذاں گونجے مرے خطے میں اے مولا
نوائے امن پہنچا دے پہاڑوں میں چٹانوں میں
غمِ ہجرت جو سننا ہو، ہمارے شہر آجانا
کئی چیخیں ، کئی آہیں دفن ہیں ان مکانوں میں
جو دین ِ امن کو ڈھونڈا، اُسے قران میں پایا
نہیں یہ جبر میں ، دہشت میں ، تیروں میں کمانوں میں
یہی افکار ہیں اقبال کے سرمایہٗ انیس
قدم دھرتی پہ رکھنا اور نظر تم آسمانوں میں
محمد اسامہ سَرسَری — اپریل 11، 2014 4:46 شام
مقطع کا پہلا مصرع آپ کے نام کی وجہ سے وزن سے خارج ہورہا ہے۔
محمد اظہر نذیر — اپریل 11، 2014 4:59 شام
بہت خوب جناب عمدہ غزل ہوئی ہے
مقطع کا مصرع اولیٰ خارج الوزن ہے یو ں کہہ دیکئے
یہی اقبال کے افکار تھے انیس تُو کہہ دے
قیصرانی — اپریل 11، 2014 5:05 شام
ویلکم بیک
انیس فاروقی
ابھی کل ہی آپ کی پروفائل پر جادوئی نظر ڈالی تھی

محمد اسامہ سَرسَری — اپریل 11، 2014 5:48 شام
بہت خوب جناب عمدہ غزل ہوئی ہے
مقطع کا مصرع اولیٰ خارج الوزن ہے یو ں کہہ دیکئے
یہی اقبال کے افکار تھے انیس تُو کہہ دے
میرے خیال میں وزن میں اب بھی نہیں آسکا ہے۔
محمد اظہر نذیر — اپریل 11، 2014 5:59 شام
میرے خیال میں وزن میں اب بھی نہیں آسکا ہے۔
بزج مثمن ثالم ہے تقطیع کر لیجئے
ی ۔ہی۔اق۔با۔۔۔۔ل۔کے۔اف۔کا۔۔۔۔۔ر۔تے۔ان۔نی۔۔۔۔س۔تُو۔کہہ۔دے

محمد اظہر نذیر — اپریل 11، 2014 6:01 شام
اگر انیس میں ن پر تشدید ہے تو
محمد اظہر نذیر — اپریل 11، 2014 6:05 شام
اور اگر فعول ہے تو
انیس اقبال کے افکار سرمایا ہیں سب اپنا
محمد اسامہ سَرسَری — اپریل 11، 2014 6:11 شام
انیس کا ن مشدد نہیں ہے۔
الف عین — اپریل 11، 2014 6:15 شام
یہی تقدیس کی ہم نے کتابِ کبریائی کی
حفاظت سےبہت رکھ دی کہیں گھر کے مچانوں میں
کتاَبِ کبریائی؟ کتاب اللہ ہی کہا جائے تو بہتر ہے
لیکن گھر میں مچان کہاں ہوتے ہیں؟ یہ جنگلوں میں ٹہنیوں پر بنائے جاتے ہیں، بلکہ بنائی جاتی ہیں۔
غمِ ہجرت جو سننا ہو، ہمارے شہر آجانا
کئی چیخیں ، کئی آہیں دفن ہیں ان مکانوں میں
غم ہجرت یا داستانِ ہجرت؟ غم تو نہیں سنا جا سکتا
’دفن‘ بھی مفتوح ف کے ساتھ آتا ہے تقطیع میں۔ دفن کی بجائے ’دبی‘ کہا جا سکتا ہے
انیس افکار ہیں اقبال کے سرمایہء ہستی
ایک اور متبادل ہو سکتا ہے مقطع کے مصرع کا۔
باقی ٹھیک ہی ہے۔
قیصرانی — اپریل 11، 2014 6:17 شام
یہی تقدیس کی ہم نے کتابِ کبریائی کی
حفاظت سےبہت رکھ دی کہیں گھر کے مچانوں میں
کتاَبِ کبریائی؟ کتاب اللہ ہی کہا جائے تو بہتر ہے
لیکن گھر میں مچان کہاں ہوتے ہیں؟ یہ جنگلوں میں ٹہنیوں پر بنائے جاتے ہیں، بلکہ بنائی جاتی ہیں۔
غمِ ہجرت جو سننا ہو، ہمارے شہر آجانا
کئی چیخیں ، کئی آہیں دفن ہیں ان مکانوں میں
غم ہجرت یا داستانِ ہجرت؟ غم تو نہیں سنا جا سکتا
’دفن‘ بھی مفتوح ف کے ساتھ آتا ہے تقطیع میں۔ دفن کی بجائے ’دبی‘ کہا جا سکتا ہے
انیس افکار ہیں اقبال کے سرمایہء ہستی
ایک اور متبادل ہو سکتا ہے مقطع کے مصرع کا۔
باقی ٹھیک ہی ہے۔
میں نے کئی اردو تراجم میں گھر کے اندر مچان کا لفظ بھی استعمال ہوتے دیکھا ہے جہاں گھر کا فالتو کاٹھ کباڑ پھینک دیا جاتا ہے۔ تاہم اس کے جائز ہونے کے بارے آپ بہتر جانتے ہیں

انیس الرحمن — اپریل 11، 2014 6:25 شام
میں نے کئی اردو تراجم میں گھر کے اندر مچان کا لفظ بھی استعمال ہوتے دیکھا ہے جہاں گھر کا فالتو کاٹھ کباڑ پھینک دیا جاتا ہے۔ تاہم اس کے جائز ہونے کے بارے آپ بہتر جانتے ہیں
دو چھتی کہا جاتا ہے اسے ۔۔۔
انیس فاروقی — اپریل 11، 2014 6:29 شام
میں نے کئی اردو تراجم میں گھر کے اندر مچان کا لفظ بھی استعمال ہوتے دیکھا ہے جہاں گھر کا فالتو کاٹھ کباڑ پھینک دیا جاتا ہے۔ تاہم اس کے جائز ہونے کے بارے آپ بہتر جانتے ہیں
ہم نے بھی بزرگوں سے یہی سنا تھا، دوچھتی یا مچان جہاں لحاف گدے وغیرہ رکھے جاتے تھے۔ اس لئے میں نے یہ استعمال کیا ہے ۔
انیس فاروقی — اپریل 11، 2014 6:30 شام
یہی تقدیس کی ہم نے کتابِ کبریائی کی
حفاظت سےبہت رکھ دی کہیں گھر کے مچانوں میں
کتاَبِ کبریائی؟ کتاب اللہ ہی کہا جائے تو بہتر ہے
۔
کتاب اللہ تو ظاہر ہے بہت ہی مناسب ہے لیکن وزن میں کیسے لائیں اس کو۔
انیس فاروقی — اپریل 11، 2014 6:31 شام
انیس افکار ہیں اقبال کے سرمایہء ہستی
ایک اور متبادل ہو سکتا ہے مقطع کے مصرع کا۔
واہ واہ ۔۔۔ یہ تو مسئلہ ہی حل ہو گیا مقطع کا۔
انیس فاروقی — اپریل 11، 2014 6:39 شام
غمِ ہجرت جو سننا ہو، ہمارے شہر آجانا
کئی چیخیں ، کئی آہیں دفن ہیں ان مکانوں میں
غم ہجرت یا داستانِ ہجرت؟ غم تو نہیں سنا جا سکتا
’دفن‘ بھی مفتوح ف کے ساتھ آتا ہے تقطیع میں۔ دفن کی بجائے ’دبی‘ کہا جا سکتا ہے
۔
بہت جگہوں پہ پڑھا تھا اس لئے غم ہجرت لکھا۔ جیسا کہ ہم اپنے غم کسے سنائیں۔ وغیرہ
الف عین — اپریل 12، 2014 4:10 صبح
اگر مچان مستعمل ہی ہو Attic کے معنی میں تو چل سکتا ہے۔
کتاب اللہ الفاظ بدلنے پر وزن میں آ سکتا ہے۔ مثلاً
بظاہر تو کتاب اللہ کی تقدیس سب نے کی