محمد شکیل خورشید — جولائی 18، 2018 2:33 شام
ڈھل گئی رات صبح آئی نہ
حالتِ دل سنبھلنے پائی نہ
زندگی تو حسین تھی لیکن
میری پژمردگی کو بھائی نہ
کتنا سمجھایا تھا تجھے اے دل
پھر سے الفت میں چوٹ کھائی نہ
حالِ دل کیوں کہا سرِ محفل
ہو گئی پھر سے جگ ہنسائی نہ
کیا گلہ اس سے اے شکیل اگر
ہم نے رسمِ وفا نبھائی نہ
نور وجدان — جولائی 18، 2018 2:37 شام
اچھی کوشش ہے

اسکی بحر کونسی ہے؟
محمد ریحان قریشی — جولائی 18، 2018 2:39 شام
اچھی کوشش ہے

اسکی بحر کونسی ہے؟
خفیف مسدس مخبون محذوف(فاعلاتن مفاعلن فعلن)
محمد تابش صدیقی — جولائی 18، 2018 2:42 شام
دو حرفی نہ سے گریز بہتر ہے۔

محمد ریحان قریشی — جولائی 18، 2018 2:43 شام
نہ کو دو حرفی باندھنا مستحسن نہیں۔ بہتر ہوگا کہ ردیف بدل دیں یا غزل غیر مردف کہیں شاید کچھ یوں
ڈھل گئی رات پر نہ صبح آئی
حالتِ دل سنبھل نہیں پائی
نور وجدان — جولائی 18، 2018 2:44 شام
خفیف مسدس مخبون محذوف(فاعلاتن مفاعلن فعلن)
دو حرفی نہ سے گریز بہتر ہے۔
یہی کچھ گڑ بڑ لگی تھی
فاخر رضا — جولائی 18، 2018 3:17 شام
نا اور نہ کا استعمال کیا ہے
شاہد شاہنواز — جولائی 18، 2018 3:47 شام
حالتِ دل سنبھل نہیں پاتی ۔۔۔ اس طرح سے کوشش کرکے دیکھئے۔۔۔
محمد تابش صدیقی — جولائی 18، 2018 3:51 شام
نا اور نہ کا استعمال کیا ہے
نہ نہیں کے معنوں میں مستعمل ہے
جبکہ نا سابقہ کے طور پر مستعمل ہے یا پھر کسی بات پر زور دینے کے لیے۔ مثلاً ناممکن، نالائق
میرا ایک کام کر دیجیے نا۔
نہ کی جگہ نا استعمال نہیں ہو سکتا۔
الف عین — جولائی 19، 2018 6:04 صبح
نہ کو نہیں سے بدل دیں، پوری غزل درست ہو جائے گی صرف اس شعر کو نکال دیں
ہو گئی پھر سے جگ ہنسائی نا !
محمد شکیل خورشید — جولائی 19، 2018 6:50 صبح
تمام محترم اساتذہ اور ساتھیوں کا شکریہ
اگر میری ناعلمی کے تدارک کیلئے کوئی صاحب یہ فرما دیں کہ دو حرفی نہ کا اس طرح استعمال کیوں نا مناسب ہے تو نوازش ہوگی، یعنی اس میں کوئی تکنیکی پہلو ہے یا مستعمل نہیں یا کوئی اور پہلو ہے
محمد تابش صدیقی — جولائی 19، 2018 6:54 صبح
تمام محترم اساتذہ اور ساتھیوں کا شکریہ
اگر میری ناعلمی کے تدارک کیلئے کوئی صاحب یہ فرما دیں کہ دو حرفی نہ کا اس طرح استعمال کیوں نا مناسب ہے تو نوازش ہوگی، یعنی اس میں کوئی تکنیکی پہلو ہے یا مستعمل نہیں یا کوئی اور پہلو ہے
دراصل نہ کا وزن ہے ہی یک حرفی۔ دو حرفی نا ہوتا ہے اور نا کامطلب "نہیں" نہیں ہوتا۔
محمد شکیل خورشید — جولائی 19، 2018 6:59 صبح
دراصل نہ کا وزن ہے ہی یک حرفی۔ دو حرفی نا ہوتا ہے اور نا کامطلب "نہیں" نہیں ہوتا۔
یعنی اس طرح نہ کو ایک حرفی پڑھیں گے تو شعر وزن میں نہیں رہے گا؟ اور دو حرفی پڑھنے سے معنی غلط ہو جائے گا؟؟ میں درست سمجھا ہوں کیا؟
شاہد شاہنواز — جولائی 19، 2018 2:02 شام
دراصل نہ کا وزن ہے ہی یک حرفی۔ دو حرفی نا ہوتا ہے اور نا کامطلب "نہیں" نہیں ہوتا۔
یہی زیادہ تر "سقہ شعراء" کا وطیرہ ہے۔ تاہم کچھ لوگ جو شاعر بھی ہیں، دو حرفی "نا" کو بمعنی "نہیں" استعمال کرنے میں قباحت نہیں سمجھتے۔ ۔۔۔
محمد تابش صدیقی — جولائی 19، 2018 2:04 شام
یہی زیادہ تر "سقہ شعراء" کا وطیرہ ہے۔ تاہم کچھ لوگ جو شاعر بھی ہیں، دو حرفی "نا" کو بمعنی "نہیں" استعمال کرنے میں قباحت نہیں سمجھتے۔ ۔۔۔
ثقہ
جی لیکن غلط العوام ہی کہا جائے گا۔
شاہد شاہنواز — جولائی 19، 2018 2:07 شام
ثقہ
جی لیکن غلط العوام ہی کہا جائے گا۔
نہیں ۔۔۔ میں سمجھتا ہوں یہ دو مکاتبِ فکر کی بات ہے۔۔۔ اور جو مکتبہ فکر "نا" کے نفی میں استعمال کے خلاف ہے، وہ اکثریت میں ہے، سو اسی کی مانی جائے گی۔