طویل موسم ملال کا ہے

فاروق احمد بھٹی — اپریل 8، 2015 3:23 شام
اساتذہ کرام جناب محمد یعقوب آسی صاحب، جناب الف عین صاحب، جناب محمد وارث صاحب، اور دیگر صاحبانِ علم اور محفلین کے سامنے ایک غزل اصلاح کی غرض سے پیش ہے۔ اپنی قیمتی آرا سے نواز کر شکریہ کا موقع دیں۔
خیال تیرے جمال کا ہے
یہ مرحلہ بھی کمال کا ہے
بیاں ہو کیسے جمال تیرا
کہ مسئلہ کچھ مثال کا ہے
کبھی تو آؤ کبھی تو پوچھو
کہ حال کیسا بے حال کا ہے
خوشی کے لمحے تھے مختصر سے
طویل موسم ملال کا ہے
جواب سارے میں دے تو ڈالوں
تجھے تامل سوال کا ہے​
ادب دوست — اپریل 8، 2015 4:13 شام
کیا کہنے فاروق بھائی بہت اعلیٰ
مختصر بحر میں اچھی غزل ہے
واہ ۔۔
بے حال کو بحال کے کافی نزدیک لے آئیں ہیں آپ :)
یہ فنی باتیں تو اساتذہ ہی کریں گے ہم تو فلسفے میں آپ کے قائل ہیں ، عاشق کی بحالی فقط بے حال ہونے میں ہے :p
ادب دوست — اپریل 8، 2015 4:20 شام
جواب سارے میں دے تو ڈالوں
تجھے تامل سوال کا ہے
"دے تو ڈالوں" میں کچھ مزہ نہیں آرہا فاروق بھائی
گستاخی معاف ! پکا دوست سمجھ کر کہا ہے - :snicker:
ادب دوست — اپریل 8، 2015 4:22 شام
خیال تیرے جمال کا ہے
یہ مرحلہ بھی کمال کا ہے
بہت اعلیٰ ، کیا کہنے بہت خوب فاروق بھائی
فاروق احمد بھٹی — اپریل 8، 2015 4:22 شام
کیا کہنے فاروق بھائی بہت اعلیٰ
مختصر بحر میں اچھی غزل ہے
حوصلہ افزائی کے لئے بہت شکریہ
ہم تو فلسفے میں آپ کے قائل ہیں ،
بس افکار کو شعر میں ڈھالنے کی مشق جاری ہے۔ ویسے ہم پہ یہ مشق کافی بھاری ہے کہ درستی ہے کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 8، 2015 5:38 شام
ا
کبھی تو آؤ کبھی تو پوچھو
کہ حال کیسا بے حال کا ہے
دوسرے مصرع پر دوبارہ توجہ کیجیے۔ بے حال کو آپ نے’’ بِحال‘‘ باندھا ہے
الف عین — اپریل 8، 2015 6:51 شام
خیال تیرے جمال کا ہے
یہ مرحلہ بھی کمال کا ہے
درست
بیاں ہو کیسے جمال تیرا
کہ مسئلہ کچھ مثال کا ہے
مسئلہ یہ بھی ہے کہ جمال بیان نہیں کیا جاتا، جمال ’کا‘ بیان کیا جاتا ہے۔ جمال لفظ استعمال کرنے کی مجبوری تو نہیں نا!!
کبھی تو آؤ کبھی تو پوچھو
کہ حال کیسا بے حال کا ہے
’بے حال‘ کی ’بحالی‘ پر بات ہو چکی
خوشی کے لمحے تھے مختصر سے
طویل موسم ملال کا ہے
اچھا شعر ہے، لیکن بہتر ہو سکتا تھا جب خوشی کے ساتھ بھی محض لمحے نہیں، رت کا ذکر ہوتا
جیسے
خوشی کی رت مختصر تھی کیسی
جواب سارے میں دے تو ڈالوں
تجھے تامل سوال کا ہے
روانی کی کمی ہے۔
فاروق احمد بھٹی — اپریل 9، 2015 4:28 صبح
خیال تیرے جمال کا ہے
یہ مرحلہ بھی کمال کا ہے
درست
بیاں ہو کیسے جمال تیرا
کہ مسئلہ کچھ مثال کا ہے
مسئلہ یہ بھی ہے کہ جمال بیان نہیں کیا جاتا، جمال ’کا‘ بیان کیا جاتا ہے۔ جمال لفظ استعمال کرنے کی مجبوری تو نہیں نا!!
کبھی تو آؤ کبھی تو پوچھو
کہ حال کیسا بے حال کا ہے
’بے حال‘ کی ’بحالی‘ پر بات ہو چکی
خوشی کے لمحے تھے مختصر سے
طویل موسم ملال کا ہے
اچھا شعر ہے، لیکن بہتر ہو سکتا تھا جب خوشی کے ساتھ بھی محض لمحے نہیں، رت کا ذکر ہوتا
جیسے
خوشی کی رت مختصر تھی کیسی
جواب سارے میں دے تو ڈالوں
تجھے تامل سوال کا ہے
روانی کی کمی ہے۔
استادِ محترم جناب اعجاز عبید صاحب آپ کی نوازش کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے اپنی گراں قدر آرا سے نوازا بہت شکریہ
بے حال کی بحالی والی بات پر مزید تفصیل چاہنے کی جسارت کروں گا کہ مختصرا مجھے اس کی سمجھ نہ آ سکی۔
بے حال کا ے گرانا جائز نہیں یا پھر میرے شعر میں اس کا استعمال بھلا معلوم نہیں ہو رہا؟
امید ہے بندے کے اشکال کو دور فرمائیں گے شکریہ
آوازِ دوست — اپریل 9، 2015 4:46 صبح
واہ جی واہ ۔ جانِ غزل تو یہ شعر ہے: خوشی کے لمحے تھے مختصر سے۔ ۔ ۔ ۔ طویل موسم ملال کا ہے ۔ بہت خوب!
loneliness4ever — اپریل 9، 2015 7:16 صبح
اساتذہ کرام جناب محمد یعقوب آسی صاحب، جناب الف عین صاحب، جناب محمد وارث صاحب، اور دیگر صاحبانِ علم اور محفلین کے سامنے ایک غزل اصلاح کی غرض سے پیش ہے۔ اپنی قیمتی آرا سے نواز کر شکریہ کا موقع دیں۔
خیال تیرے جمال کا ہے
یہ مرحلہ بھی کمال کا ہے
بیاں ہو کیسے جمال تیرا
کہ مسئلہ کچھ مثال کا ہے
کبھی تو آؤ کبھی تو پوچھو
کہ حال کیسا بے حال کا ہے
خوشی کے لمحے تھے مختصر سے
طویل موسم ملال کا ہے
جواب سارے میں دے تو ڈالوں
تجھے تامل سوال کا ہے​


یہ سچ ہے لہجہ کمال کا ہے
الف عین — اپریل 9، 2015 11:16 صبح
استادِ محترم جناب اعجاز عبید صاحب آپ کی نوازش کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے اپنی گراں قدر آرا سے نوازا بہت شکریہ
بے حال کی بحالی والی بات پر مزید تفصیل چاہنے کی جسارت کروں گا کہ مختصرا مجھے اس کی سمجھ نہ آ سکی۔
بے حال کا ے گرانا جائز نہیں یا پھر میرے شعر میں اس کا استعمال بھلا معلوم نہیں ہو رہا؟
امید ہے بندے کے اشکال کو دور فرمائیں گے شکریہ
جی ہاں، بے حال محض ’بحال‘ تقطیع ہو رہا ہے۔ ’بے‘والے سارے الفاظ میں ’ے‘ گرانا جائز نہیں۔ بلکہ ’کے‘ کے علاوہ دوسرے الفاظ میں بھی ے گرانا صحیح نہیں۔
فاروق احمد بھٹی — اپریل 9، 2015 1:28 شام
جی ہاں، بے حال محض ’بحال‘ تقطیع ہو رہا ہے۔ ’بے‘والے سارے الفاظ میں ’ے‘ گرانا جائز نہیں۔ بلکہ ’کے‘ کے علاوہ دوسرے الفاظ میں بھی ے گرانا صحیح نہیں۔
استاد محترم اشکال کو دور فرمانے کے لئے بے حد شکریہ
ادب دوست — اپریل 10، 2015 8:57 صبح
جواب سارے میں دے تو ڈالوں
تجھے تامل سوال کا ہے

فاروق بھائی یہ شعر سمجھ نہیں آرہا اگر کچھ رہنمائی کر دیں تو نوازش
فاروق احمد بھٹی — اپریل 10، 2015 9:11 صبح
فاروق بھائی یہ شعر سمجھ نہیں آرہا اگر کچھ رہنمائی کر دیں تو نوازش
شعر میں روانی کی کمی ہے الفاظ بھی کچھ بھاری ہیں۔ ابلاغ کا تو میرے خیال میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، یہی کہنے کی کوشش کی ہے کہ آپ مجھ سے کچھ پوچھتے ہی نہیں وگرنہ میں تو جواب دینے یا بات کرنے کے لئے حاضر ہوں۔
یا پھر یوں کہ تمھیں مجھ سے جو بھی گلہ ہے اسے بیان تو کرو مجھ سے کچھ سوال پوچھو تو سہی، تو میں ہر چیز کا جواب دے دوں گا۔
loneliness4ever — اپریل 10، 2015 9:23 صبح
جواب سب اختیار میں ہیں
مگر تامل سوال کا ہے
loneliness4ever — اپریل 10، 2015 9:31 صبح
جواب میرے بیان میں ہے
تجھے تامل سوال کا ہے
ادب دوست — اپریل 10، 2015 10:10 صبح
شعر میں روانی کی کمی ہے الفاظ بھی کچھ بھاری ہیں۔ ابلاغ کا تو میرے خیال میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، یہی کہنے کی کوشش کی ہے کہ آپ مجھ سے کچھ پوچھتے ہی نہیں وگرنہ میں تو جواب دینے یا بات کرنے کے لئے حاضر ہوں۔
یا پھر یوں کہ تمھیں مجھ سے جو بھی گلہ ہے اسے بیان تو کرو مجھ سے کچھ سوال پوچھو تو سہی، تو میں ہر چیز کا جواب دے دوں گا۔
جی درست !

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B7%D9%88%DB%8C%D9%84-%D9%85%D9%88%D8%B3%D9%85-%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%84-%DA%A9%D8%A7-%DB%81%DB%92.81243/