جی حاضر ہیں۔
1 -بطور فعلن یعنی سببِ خفیف + سببِ خفیف
مبادا اُس گلی میں جاؤں تو للکار دے کوئی
کہیں ایسا نہ ہو پتھر اُٹھا کر مار دے کوئی
انور شعور کا یہ شعر خاص آپ کیلیے ڈھونڈا ہے کہ یہ غزل آپ ہی نے پوسٹ کی ہے۔

2- بطور فَعِل یعنی کُ ئی وتدِ مجموع
یہ بھی بطورِ خاص آپ کیلیے انور شعور کا شعر
قلّاش گو زمین پہ مجھ سا کوئی نہیں
پیتا ہوں زہرِ گُر سنگی، تشنگی نہیں
اور فیض
پھر کوئی آیا دلِ زار! نہیں کوئی نہیں
راہرو ہوگا!کہیں اور چلا جائے گا
پہلے مصرعے میں پہلا کوئی اس دوسرے وزن پر ہے اور دوسرا کوئی اگلے آنے والے وزن پر ہے۔
3 - بطور فاع یعنی کو ء یا وتدِ مفروق
فیض کا اوپر والا شعر، دوسرا کوئی اس وزن پر ہے۔
مزید، فیض کی اسی نظم کا ایک اور شعر، دوسرے مصرعے میں دونوں کوئی اسی وزن پر ہیں۔
اپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کردو
اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا
4- بطور فَ عِ یعنی کُ ء یا سببِ ثقیل
مصطفی زیدی کی دو خوبصورت شعر، دونوں میں تین جگہ کوئی اسی وزن پر ہے
کوئی ہم نفس نہیں ہے، کوئی راز داں نہیں ہے
فقط ایک دل تھا اپنا سو وہ مہرباں نہیں ہے
انہی پتھروں پہ چل کر، اگر آ سکو تو آؤ
مرے گھر کے راستے میں، کوئی کہکشاں نہیں ہے