عاملا دیکھ یے محفل کو زرہ

mohsin ali razvi — نومبر 30، 2014 2:01 شام
کتنے چہرے ھے تیرے عامل بے باک صفت
روز و شب کتنے چہرے بدل دیتے ھوں تم
کبہی اللہ کبہی رام کبہی عشق لُدن
کبہی بنتے ھوں مسلماں تو کبہی مست وملنگ
بس کر اب چہرے بدلنا عامل
تیرے بی باکی دوراں بنے باعث جنگ
کتنے لوگوں کو بناوگے تو عاشق اُپنی
کسقدر تنگ کروگے بنوگی لیلا
رنگ صورت نہ رہے تا بے قیامت بخدا
جسم جولان نہ رہے ھردم و ھر وقت بخدا
نہ کرو زلف اسیر پیروجوان و بچے
قبر نزدیک ھے منزل تو یہی ھے بخدا
روز محشر بنوگے تو اسیر
نہ شفاعت نہی جنت بہی ملیگا عامل
کردو توبے بنو خالص و خاص
در توبے تو نہی بند عامل
عامل شیرازی
10511284_779690412090885_3395554373483843817_n.jpg
mohsin ali razvi — نومبر 30، 2014 2:19 شام
اصلاح فرمائں میری مادری زبان فارسی ھے اگر اردو نویسی میں غلطی ھو تو درست فر ما کر مشکور کریں
عامل شیرازی
mohsin ali razvi — نومبر 30، 2014 2:21 شام
عاملا عشق حقیقی بیابی زه کجا
رفته وجدان بشر باز نیاید بخدا
گشته بازار مصر عشق خریدار همه
مرده دل باد خَلق عشق حقیقی بکجاست
وقت آن نیست کنم قصه عشق و آتش
درد دل با که کنم سامع گفتار کجاست
عشق بینم چو شده قصه پارینه ما
درد الفت نبود عاشق مستانه کجاست
سینه ام چاک کنم ای رخ زیبای جهان
نور عشقت بدمد خنجر برانه کجاست
عامل شیرازی
mohsin ali razvi — دسمبر 19، 2014 11:35 صبح
دونوں ہیں گرفتار اگر موج غم ہجر
دامن یہ ترا صبح کو تر کیوں نہیں جاتا
سید کاشف
اب غم کا گرفتار کہاں ہے دل عامل
بے گانے زہ خود ہے سراپا دل عامل
دنیا نے مھر کی غموں سے وہ چوریا
بے فکر جہاں مست ھوا ہے دل عامل
رسوا نہ تہا غم سے قبل عالم و عامل
زنجیر جفا زسم بنائےنہ یے کاشف
کاشف تو نہ کشاف ستم ہے نہ ستمگر
اس فاني جهاں میں کافی غم عامل
عامل شیرازی
mohsin ali razvi — دسمبر 19، 2014 11:54 صبح
اے عشق نہ کر خانہ خراب عامل ناداں
کافی ہے ھمے دردسر و جبر و ستم یے
عامل شیرازی
اے عشق نہ کر خانہ خراب عامل ناداں
کافی ہے ھمے دردسر و جبر و ستم یے
عامل شیرازی
mohsin ali razvi — دسمبر 23، 2014 4:22 شام
نہ کرو طنز نہی وقت مزاح
ملک حالت تو دیکھ اے ناداں
خارجی صاحب اعمل بداں
قتل کر تہے ہے سبہی پیر و جوان
نہی معصوم بہی خارج صف مقتولیں سے
طالباں بن جو گیا طالب خونِ انسان
جان انساں کو یے سمجہے نہی ارزاں نہ گراں
ملک حالات نہی خوب و بلند
ہے گرانی و فسادِ اخلاق
خون انسان بمثل پانی
گر رھا ہے بدست انسان
حرمتیں خاک ھوئی ہے امروز
منقسم مذھب و راہ انسان
مسجد و دیر و حرم نالاں ہے
نہی انسان نگہبان یہاں
بند کردے یے درس قران
نہ کرو ذکر نبی مُنان
یے وہ اسلام نہی اےانسان
وہ نبی خاتم اسرار جَھل
وہ شفیع شافع روز محشر
نہی فرمائنگے سفارش تیرے
نہی مطلوب اللہ کو تم
بنو طالب مگر طالبِ حق
پہر بنےگا یے ملک ملک صفا
رحمت حق ملے گا عامل
عامل شیرازی
۲۲ / ۱۲ /۲۰۱۴
mohsin ali razvi — دسمبر 24، 2014 4:03 صبح
یہ حقیقت ہے کے عامل ھوں میں
نہی اعمال مگر مجھ میں ابہی تک ظاھر
صاحب حُسن ھوں سیرت تو نہی
خاک میں مِل ہی تو جائے یہ حسن ظاھر
دے دُعا مجہکو بنوں میں انسان
قلب میں درد تو ہے ظاھر تو نہی
حسن مغرور کرے خوئ بداں
عامل عشق ھوں محسن تو نہی
عامل شیرازی
۲۳ / ۱۲ / ۲۰۱۴
mohsin ali razvi — دسمبر 24، 2014 4:58 صبح
گہنگرو پہن کے نہ جانا مسجد
رقص بسمل کو نہ سمجہے
زاھد روبرو ھو کے خدائ ظاھر
لوگ ڈھونڈے اُسے محرابوں میں
رقص کر عامل مستانے صفت
بن طوایف سر میدانوں میں
خاک دنیا تو بنو اے عامل
فرش سے عرش بُلند کر تو صِدا
عرش والے خود ہی بُلائن تجھ کو
عامل شیرازی
۲۳ / ۱۲ /۲۰۱۴
mohsin ali razvi — دسمبر 24، 2014 5:05 صبح
نے میں انسان نہ میں حیواں
نہ میں مسلم نہ میں کافر
نہ میں مومن نہ میں منکر
نہ میں طالب نہ میں مطلوب
نہ میں مظلوم نہ میں ظالم
نہ میں شاعر نہ میں مشھور
نہ میں عامل نہ میں معلوم
بلّھا کی جاناں میں کون.
عامل شیرازی
mohsin ali razvi — دسمبر 24، 2014 2:31 شام
دیکھ عرش معلا کو تو عامل امروز
من و سلوا تو نہی موت برستا ہے ابہی
نہی اعمال نہ نیت بخدا صاف تیرے
جعل و عفریت فریب دل میں بستا ہے تیرے
وہ اُخوت وہ مروت و خلوص نیت
ہے کہاں گم ھوئے انصاف تیری
غرق در دشت گناہ آلودے
بن گئے نام کے مسلماں امروز
زر و زن جاو مقام و دولت
ہے تمنا دل مسلم امروز
عرش والےتو بُلالے مجھکو
عامل اس دور سے پریشان امروز
عامل شیرازی
۲۳ / ۱۲ /۲۰۱۴
mohsin ali razvi — دسمبر 24، 2014 3:19 شام
معاملے ٹھیک ہے دل عامل کا بتا
درد عشق و غم تنہای و صبر
بے مروت بنے دنیا بخدا
عشق کوکرکے جو بدنام و خراب
پئے شہوت بنے انسان شیطان
گم کیا دین و ھدایت اُپنا
مست و بد رنگ ہے دنیا یے بتا
دین والے ہے مشغول فساد
عام انساں ہے شریک شیطان
منقسم کر کے خدا کو بخدا
مسجد و دیرو کلیسا پایا
شیعہ سنی و حدیثُ و وَھاب
بنے تقسیم مقدر یے بتا
ہے خدا اک نبی اک ہے قران بہی اک
نفع مُلا بنی ہے یے تقسیم و فساد
تو کیوں پوچ تہے ھو حالت عامل یے بتا
عامل شیرازی
۲۳ / ۱۲ / ۲۰۱۴
mohsin ali razvi — دسمبر 24، 2014 4:38 شام
آج کی رات خدا ھی حافظ
دیکھ عامل جو ہے بے گانے زہ خود
شُروب عشق پیا ہے امشب
مست میخانے پڑا ہے بے خود
ساقیا لاو شراب کردے خراب
نہی قابل تیری دنیا عامل
مست و مدھوش رھو فکر نہ کر
نہی اعمال جہاں قابل غور
جب قیامت ھو بپا اے مدھوش
حوض کوثر سے پیو توبے جام
کر حقیقت تو بیاں ذات خودی
میکدے تہا وجود پنہاں
جام تہی بادہء صبرو ایماں
ساقی و شُرب تہے وجدان و ضمیر
عامل شیرازی
۲۳ / ۱۲ / ۲۰۱۴
عزیزو در واقع میں ایرانی ال اصل اور فارسی گو ھوں فارسی زبان میں معنث مذکر نہی ۔
اگر میری اشعار میں کوئی کو تاھی ھو تو درست فرما کر ممنون و مشکور بنائیں
مشکور ::عامل شیرازی
فہیم — دسمبر 24، 2014 5:02 شام
مجھے لگا کسی عاملا صاحبہ کا تعارفی دھاگہ ہے یہo_O
mohsin ali razvi — دسمبر 24، 2014 5:18 شام
{ ف } مرحبا گر تو نگوئی فہیم
{ ار } مرحبا گر نہ کہا جان فہیم
{ ار }عامل عشق پریشاں ھو گی
{ف } عامل عشق پریشان گردد
mohsin ali razvi — دسمبر 25، 2014 6:04 صبح
زیبا ودل انگیز بود جامی و جام
عامل عشق شود همدم جامی بخدا
زیبا ودل انگیز بود جامی و جام
عامل عشق شود همدم جامی بخدا
شهر آفات بر انگیخت مرا ای جامی
نکته بسیار بگوید دل عامل بخدا
شده انسان گلو گیر غمان و عصیان
شهوت لعو لعب دشمن انسان بخدا
نهی جامی نه رومی نه اقبال نه من
مردمان راه نیافتند زه ما جامی بخدا
عامل عشق تو گشتی رسوا ی جهان
دست جامی بگیر و فریاد نما
عامل شیرازی
mohsin ali razvi — دسمبر 26، 2014 3:40 شام
صلیب عشق دوش پر اُتا و صحیح
نہ کر تو فکر خودی و روز شب عامل
وھی جو خلق کیا ہے عظمت و ذلت
رھا کریگا تمہے غموں سے اے عامل
عامل شیرازی
۲۶ / ۱۲ /۲۰۱۴
خالد محمود چوہدری — دسمبر 26، 2014 6:20 شام
میں عامل نہ میں معلوم
بلّھا کی جاناں میں کون.

نہ میں عامل،نہ معلوم
بلّھا کی جاناں میں کون.
mohsin ali razvi — دسمبر 27، 2014 4:35 صبح
نہ کر تو فکر خودی و روز شب عامل
وھی جو خلق کیا ہے عظمت و ذلت
رھا کریگا تمہے غموں سے اے عامل
عامل شیرازی
۲۶ / ۱۲ /۲۰۱۴
mohsin ali razvi — دسمبر 27، 2014 5:54 صبح
وقت رخصت ہے میری ماں تو عفو کرنا مجہے
واسطے پنج تن عفو کرو میری گناہ
ماں میں بد خو سہی عامل بدکار سہی
ھوں توفرزند تیری عفو کرو ماں مجہے
بخش دینا مجہے دودھ جو تو پلایئ تہی مجہے
میں خطا کار گنہگار سیہ رو سہی
تو میری جان میری ماں میری مان ھو تم
بخش دینا بہت دور سفر ہے در پئ
عدمی دوست ہے ھمراہ میرے
کبہی آنا لحد پر میرے ماں میری
تو بها نا دو آنسو سر قبر میری
شکوے کرنا نہ کرنا شیون
روح ٹرپئگا کفن تر زہ آنسو ھوگا
بس معاف کر تو مجہے اے زہ جہانم بہتر
عامل شیرازی
۲۷ /۱۲ /۲۰۱۴
umeeque bugti — جنوری 3، 2015 5:30 صبح
بہت خوب محترم۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D8%A7%D9%85%D9%84%D8%A7-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE-%DB%8C%DB%92-%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84-%DA%A9%D9%88-%D8%B2%D8%B1%DB%81.79406/