عبرتوں کا مقام آیا ہے

ایم اے راجا — مارچ 20، 2013 7:28 شام
ایک اور غزل برائے اصلاح حاضرِ خدمت ہے۔
عبرتوں کا مقام آیا ہے
تاج پہنے غلام آیا ہے
اشک پینے سے جام پینے تک
صبر ہی صبر کام آیا ہے
ہول اٹھتا ہے دل میں قاتل کے
کون یہ زیرِ دام آیا ہے
دشمنِ جان ہو گئی بستی
زیرِ لب کس کا نام آیا ہے
نیند آنے لگی اندھیروں کو
روشنی کو دوام آیا ہے
شام سے لے کے صبح تک راجا
آنکھ کو کب آرام آیا ہے
محمد اظہر نذیر — مارچ 21، 2013 3:28 صبح
اشک پینے سے جام پینے تک
صبر ہی صبر کام آیا ہے
واہ
الف عین — مارچ 21، 2013 4:51 شام
ماشاء اللہ خوب غزل ہے۔ لیکن اب بھی کبھی کبھی کچھ گڑبڑ کر دیتے ہو۔
شام سے لے کے صبح تک راجا​
آنکھ کو کب آرام آیا ہے​
یہاں ’آرام‘ بحر سے خارج ہے، محض ارام‘ آتا ہے۔ کوئی مقطع دوسرا ہی کہو، یہ قافیہ تو آ ہی نہیں سکتا اس بحر میں۔​
بھلکڑ — مارچ 21، 2013 5:01 شام
دشمنِ جان ہو گئی بستی
زیرِ لب کس کا نام آیا ہے
سُبحان اللہ کیا خوب لکھا ہے جی۔۔​
کاشف اکرم وارثی — مارچ 21، 2013 5:37 شام
ماشاء اللہ بہت خوب۔
متلاشی — مارچ 21، 2013 5:39 شام
بہت خوب ایم اے راجا بھائی۔۔۔!
ایم اے راجا — مارچ 21، 2013 6:17 شام
ماشاء اللہ خوب غزل ہے۔ لیکن اب بھی کبھی کبھی کچھ گڑبڑ کر دیتے ہو۔
شام سے لے کے صبح تک راجا​
آنکھ کو کب آرام آیا ہے​
یہاں ’آرام‘ بحر سے خارج ہے، محض ارام‘ آتا ہے۔ کوئی مقطع دوسرا ہی کہو، یہ قافیہ تو آ ہی نہیں سکتا اس بحر میں۔​
بہت شکریہ استاد محترم۔
کیا یہاں ہم آرام کا ایک الف نہیں گرا سکتے ؟ اور کیوں نہیں گرا سکتے ؟ شکریہ۔
ایم اے راجا — مارچ 21، 2013 6:18 شام
غزل کو پسند کرنے پر مندرجہ بالا دستوں کا فردن فردن شکر گذار ہوں۔
ایم اے راجا — مارچ 22، 2013 6:14 شام
استاد محترم الف عین صاحب اور محمد وارث صاحب توجہ فرمائیے گا۔
کیا یہاں ہم آرام کا ایک الف نہیں گرا سکتے ؟ اور کیوں نہیں گرا سکتے ؟ شکریہ۔
ضیغم عابدی — مارچ 22، 2013 6:30 شام
ہول اٹھتا ہے دل میں قاتل کے
کون یہ زیرِ دام آیا ہے
”یہ ”دو حرفی باندھا گیا ھے۔۔۔ کیا یہ جائز ھے?
ایم اے راجا — مارچ 22، 2013 6:33 شام
ہول اٹھتا ہے دل میں قاتل کے
کون یہ زیرِ دام آیا ہے
”یہ ”دو حرفی باندھا گیا ھے۔۔۔ کیا یہ جائز ھے?
جی بالکل جائز ہے
عمراعظم — مارچ 22، 2013 7:25 شام
اشک پینے سے جام پینے تک
صبر ہی صبر کام آیا ہے
بہت خوب۔ایم اے راجا صاحب۔
الف عین — مارچ 23، 2013 8:57 صبح
ابتدائی کوئی حرف علت نہیں گرایا جاتا، ہاں اس کا وصال ہو سکتا ہے کسی پچھلے حرف سے۔بشرطیکہ لفظ کا تلفظ نہ بگڑے، یہاں تو تلفظ ہی بگڑ جاتا ہے
ایم اے راجا — مارچ 26، 2013 6:53 شام
ابتدائی کوئی حرف علت نہیں گرایا جاتا، ہاں اس کا وصال ہو سکتا ہے کسی پچھلے حرف سے۔بشرطیکہ لفظ کا تلفظ نہ بگڑے، یہاں تو تلفظ ہی بگڑ جاتا ہے
جی استاد محترم، واقعی غلطی ہو گئی، میں دیکھتا ہوں دوبارہ اس کو
ایم اے راجا — اگست 15، 2013 10:22 شام
استاد محترم الف عین صاحب
اگر اس مقطع کو یوں کہا جائے تو۔
شام سے لے کے صبح تک راجا
چین بس خام خام آیا ہے
الف عین — اگست 17، 2013 4:06 صبح
استاد محترم الف عین صاحب
اگر اس مقطع کو یوں کہا جائے تو۔
شام سے لے کے صبح تک راجا
چین بس خام خام آیا ہے
نہیں اس سے بھی بات نہیں بنی
ایم اے راجا — اپریل 2، 2014 8:11 شام
اس کا مقطع یو ں سوجھا ہے
شام سے لے کے صبح تک راجا
لب پہ اشکوں کا جام آیا ہے
الف عین — اپریل 3، 2014 5:00 صبح
یہ چل سکتا ہے
ایم اے راجا — اپریل 3، 2014 7:01 شام
عبرتوں کا مقام آیا ہے
تاج پہنے غلام آیا ہے
اشک پینے سے جام پینے تک
صبر ہی صبر کام آیا ہے
ہول اٹھتا ہے دل میں قاتل کے
کون یہ زیرِ دام آیا ہے
دشمنِ جان ہو گئی بستی
زیرِ لب کس کا نام آیا ہے
نیند آنے لگی اندھیروں کو
روشنی کو دوام آیا ہے
شام سے لے کے صبح تک راجا
لب پہ اشکوں کا جام آیا ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D8%A8%D8%B1%D8%AA%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D8%A7-%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85-%D8%A2%DB%8C%D8%A7-%DB%81%DB%92.61308/