عریانی(نظم برائے اصلاح)

غدیر زھرا — مارچ 12، 2017 6:33 شام
عریانی
برہنہ بانجھ سی شاخیں
بچانا خود کو کیا چاہیں
دھرا اک آشیاں رکھے
ہوس کے درمیاں رکھے
شکاری تاڑ میں جس کی
بہاریں آڑ میں جس کی
گرانا جس کا ناحق ہے
تمھیں کیا فکر لاحق ہے
عبث پہرہ بٹھائے ہو
نظر بیٹھے جمائے ہو
کہ ان کی بے لباسی کو
کوئی کیا تار کر دے گا!
کرے گا سبز ان کو اور
گلوں کو ہار کر دے گا؟
(زہرا)
راحیل فاروق — مارچ 12، 2017 7:59 شام
کیا کہنے، بھئی۔ شاعرات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ شاعروں کے لیے یہ فال نیک نہیں شاید! :laughing::laughing::laughing:
الف عین — مارچ 13، 2017 6:32 صبح
اچھی نظم ہے۔ کوئی فاش غلطی تو نہیں۔ ماشاء اللہ۔ بس آخری مصرعے ایک بار اور دیکھیں
کہ ان کی بے لباسی کو
کوئی کیا تار کر دے گا!
کرے گا سبز ان کو اور
گلوں کو ہار کر دے گا؟
÷÷’کوئی کیا‘ کے ساتھ ’کرے گا ‘کا محاورہ ہوتا ہے، ’کر دے گا ‘کا نہیں۔
اور آخری مصرعے غیر متعلق لگ رہے ہیں
ڈاکٹرعامر شہزاد — مارچ 13، 2017 6:47 صبح
عریانی
برہنہ بانجھ سی شاخیں
بچانا خود کو کیا چاہیں
دھرا اک آشیاں رکھے
ہوس کے درمیاں رکھے
شکاری تاڑ میں جس کی
بہاریں آڑ میں جس کی
گرانا جس کا ناحق ہے
تمھیں کیا فکر لاحق ہے
عبث پہرہ بٹھائے ہو
نظر بیٹھے جمائے ہو
کہ ان کی بے لباسی کو
کوئی کیا تار کر دے گا!
کرے گا سبز ان کو اور
گلوں کو ہار کر دے گا؟
(زہرا)
بہت ہی اعلیٰ اور خوبصورت نظم ہے ۔ بہت خوب ۔
مجھے آج پتہ چلا کہ آپ پنجابی کے علاوہ بھی کسی زبان میں شاعری کر لیتی ہیں اور وہ بھی اتنے ماہرانہ انداز میں۔ :thumbsup2:
نیرنگ خیال — مارچ 13، 2017 7:35 صبح
واہ۔۔۔ بہت خوبصورت۔۔۔۔ اعلیٰ
کاشف اسرار احمد — مارچ 13، 2017 1:31 شام
اچھی غزل ہے۔ ایک آدھ جگہ کچھ شائبہ ہے کہ بیانیہ درست نہیں سو اپنی گزارشات پیش کر رہا ہوں جن سے آپ اختلاف بھی کر سکتی ہیں۔
دھرا اک آشیاں رکھے
"دھرا" اور "رکھے" ایک ساتھ تکرار کا سبب ہیں اور مصرع کو کمزور کر رہے ہیں۔
شکاری تاڑ میں جس کی
"تاک" میں رہنے کا محل ہے ۔
عبث پہرہ بٹھائے ہو
یہاں پر شاید درست لفظ "پہرے" ہونا چاہیئے ۔
کل ملا کر نظم کا مرکزی مضمون اچھا ہے۔ مبارکباد قبول فرمائیں !
غدیر زھرا — مارچ 15، 2017 2:06 صبح
کیا کہنے، بھئی۔ شاعرات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ شاعروں کے لیے یہ فال نیک نہیں شاید! :laughing::laughing::laughing:
:unsure: :eek: o_O
غدیر زھرا — مارچ 15، 2017 2:07 صبح
اچھی نظم ہے۔ کوئی فاش غلطی تو نہیں۔ ماشاء اللہ۔ بس آخری مصرعے ایک بار اور دیکھیں
کہ ان کی بے لباسی کو
کوئی کیا تار کر دے گا!
کرے گا سبز ان کو اور
گلوں کو ہار کر دے گا؟
÷÷’کوئی کیا‘ کے ساتھ ’کرے گا ‘کا محاورہ ہوتا ہے، ’کر دے گا ‘کا نہیں۔
اور آخری مصرعے غیر متعلق لگ رہے ہیں
شاید میں ٹھیک سے ابلاغ نہیں کر پائی ورنہ خیال تو ایک ہی لے کر چلی ہوں۔۔میں بہتری کی کوشش کرتی ہوں۔۔
بہت شکریہ آپ کی اصلاح کا سر جزاک اللہ :)
غدیر زھرا — مارچ 15، 2017 2:12 صبح
بہت ہی اعلیٰ اور خوبصورت نظم ہے ۔ بہت خوب ۔
مجھے آج پتہ چلا کہ آپ پنجابی کے علاوہ بھی کسی زبان میں شاعری کر لیتی ہیں اور وہ بھی اتنے ماہرانہ انداز میں۔ :thumbsup2:
میں اردو میں پہلے بھی ایک دو بار گستاخی کر چکی ہوں لیکن ان تک بندیوں کو شاعری کہنا تو شاید درست نہ ہو :)
آپ کی پسندیدگی کےلیے بے حد شکرگزار ہوں :)
غدیر زھرا — مارچ 15، 2017 2:12 صبح
واہ۔۔۔ بہت خوبصورت۔۔۔۔ اعلیٰ
شکریہ نین :)
غدیر زھرا — مارچ 15، 2017 2:16 صبح
اچھی غزل ہے۔ ایک آدھ جگہ کچھ شائبہ ہے کہ بیانیہ درست نہیں سو اپنی گزارشات پیش کر رہا ہوں جن سے آپ اختلاف بھی کر سکتی ہیں۔
"دھرا" اور "رکھے" ایک ساتھ تکرار کا سبب ہیں اور مصرع کو کمزور کر رہے ہیں۔
"تاک" میں رہنے کا محل ہے ۔
یہاں پر شاید درست لفظ "پہرے" ہونا چاہیئے ۔
کل ملا کر نظم کا مرکزی مضمون اچھا ہے۔ مبارکباد قبول فرمائیں !
دھرا رکھا اصل میں محاورے کو سپلٹ کیا تھا۔۔
آپ کی اصلاح کےلیے بہت شکریہ :)
ظہیراحمدظہیر — مارچ 23، 2017 1:35 شام
وہ! بہت خوب! اچھے موضوع پر لکھا ہے!
البتہ کچھ لسانی کمزوریاں ہیں جو وقت کے ساتھ بہتر ہونی چاہئیں ۔ کوشش ہونی چاہئے کہ روز مرہ اور محاورہ میں الفاظ کی ترتیب کو حتی الامکان برقرار رکھا جائے ۔ دو لفظی یا سہ لفظی محاورے میں بعض دفعہ ترتیب بدلنے سے تعقید پیدا ہوجاتی ہے اور بعض اوقات گراں بھی گزرتا ہے ۔ مثلا ۔ ’’نظر بیٹھے جمائے ہو‘‘ کو ’’نظر جمائے بیٹھے ہو‘‘ ہونا چاہئے ۔ موجودہ صورت قابلِ قبول نہیں ۔ یہ ایک فاش لسانی غلطی کہلائے گی ۔
نظم پڑھوانے کا بہت شکریہ۔ بہت داد آپ کے لئے!
غدیر زھرا — مارچ 23، 2017 4:10 شام
وہ! بہت خوب! اچھے موضوع پر لکھا ہے!
البتہ کچھ لسانی کمزوریاں ہیں جو وقت کے ساتھ بہتر ہونی چاہئیں ۔ کوشش ہونی چاہئے کہ روز مرہ اور محاورہ میں الفاظ کی ترتیب کو حتی الامکان برقرار رکھا جائے ۔ دو لفظی یا سہ لفظی محاورے میں بعض دفعہ ترتیب بدلنے سے تعقید پیدا ہوجاتی ہے اور بعض اوقات گراں بھی گزرتا ہے ۔ مثلا ۔ ’’نظر بیٹھے جمائے ہو‘‘ کو ’’نظر جمائے بیٹھے ہو‘‘ ہونا چاہئے ۔ موجودہ صورت قابلِ قبول نہیں ۔ یہ ایک فاش لسانی غلطی کہلائے گی ۔
نظم پڑھوانے کا بہت شکریہ۔ بہت داد آپ کے لئے!
بہت شکریہ سر :)
میں ان شاءاللہ ان کمزوریوں کو رفع کرنے کی کوشش کروں گی آپ کی اصلاح کےلیے مشکور ہوں :)
محمد عدنان اکبری نقیبی — مارچ 23، 2017 4:46 شام
بہت اعلی۔زبردست
آصف اثر — مارچ 23، 2017 5:08 شام
بہت خوب۔ شکر ہے سنسر نہیں ہوا۔ زیک
غدیر زھرا — اپریل 1، 2017 6:06 شام
بہت شکریہ سر :)
غدیر زھرا — اپریل 1، 2017 6:06 شام
بہت خوب۔ شکر ہے سنسر نہیں ہوا۔ زیک
:)
شکریہ :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D9%86%D8%B8%D9%85-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.95273/