عشق مجنوں بنائے دیتا ہے

امان زرگر — جنوری 21، 2017 3:27 شام
عشق مجنوں بنائے دیتا ہے.
بات یونہی بڑھائے دیتا ہے.
دھار لیتا ہے چاند روپ ان سا.
آہ کیا ظلم ڈھائے دیتا ہے.
پھرتا رہتا ہے ان کی گلیوں میں.
سارے جھگڑے بھلائے دیتا ہے.
روئے دیرینہ، کارگاہ سحر.
عزم نو کو دکھائے دیتا ہے.
لاد لیتے ہیں عجز کاندھے پر.
ان کے در پر جھکائے دیتا ہے.
الف عین — جنوری 22، 2017 12:16 شام
پہلے دو اشعار تو درست ہیں لیکن اس کے بعد کے اشعار میں فاعل کیا ہے، یہ سمجھ میں نہیں آتا
امان زرگر — جنوری 22، 2017 12:50 شام
سر الف عین صاحب،
سر شوقیہ نعت لکھا کرتا تھا. بعد میں کچھ عروض کے متعلق پڑھا جو محفل پہ آ کر لگتا ہے ناکافی تھا. آپ کی محفل غزل کی جانب لے آئی. احساس ہو رہا ہے بہت محنت طلب کام ہے غزل گوئی. مگر بزم سخن میں آپ کی توجہ شوق افزاء ہے.

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D8%B4%D9%82-%D9%85%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA-%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%AF%DB%8C%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92.94332/