عقل تو امتحان میں آئی

فرحان عباس — اپریل 21، 2015 8:14 صبح
السلام علیکم. اساتذہ کرام سے اصلاح کیلئے ایک طرحی غزل پیش کرتا ہوں.
‏@الف عین
‏@محمد وارث
۱.
ﺍﺳﮑﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﮐﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ
ﺟﺎﻥ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ
۲.
ﻭﮦ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﭘﮩﻠﻮ ﻣﯿﮟ ﺁﮐﺮ
ﺑﺎﺕ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﯾﺴﯽ ﺩﮬﯿﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ
۳.
ﺟﺲ ﻧﮯ ﭼﮭﻮﮌﺍ ﻓﻀﻮﻝ ﮔﻮﺋﯽ ﮐﻮ
ﻗﺪﺭ ﺍﺳﮑﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ
۴.
ﺻﻨﻒ ﻧﺎﺯﮎ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺣﺠﺎﺏ ﻟﯿﺎ
ﺗﺐ ﺳﮯ ﺍﻣﻦ ﻭ ﺍﻣﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ
۵.
ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺟﻮ ﺁﺋﮯ ﺗﻢ
ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﮑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ
٦.
ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﻨﺪﮬﻦ ﮐﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﭼﮑﺮ
ﯾﮧ ﮐﻤﯽ ﺟﻮ ﺍﮌﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ
۷.
باقی تو سب شغل ہی تھا فرحاں
عقل تو امتحان میں آئی
ﺷﺎﻋﺮ: ﻓﺮﺣﺎﻥ ﻋﺒﺎﺱ ﻓﺮﺣﺎﮞ
فرحان عباس — اپریل 23، 2015 1:38 شام
محمد یعقوب آسی
الف عین
‏@اسامہ سرسری
‏@مزمل شیخ بسمل
ادب دوست — اپریل 23، 2015 2:27 شام
یاس یگانہ کا شعر : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔: علم کیا، علم کی حقیقت کیا ::::: جیسی جس کے گمان میں آئی
آپ کی غزل شائد اسی زمین میں ہے ۔ اکثر مصرعے مجھے بحر میں معلوم نہیں ہوتے ۔ مگر پھر بھی اساتذہ سے رائے لی جائے تو بہتر ہے ۔
بحر کی ممکنہ درستگی کے بعد مضامین کی بات ہوگی اور اس کے بعد محاورہ اور الفاظ کے دروبست کا شمار ہوگا۔
کچھ اشعار کے مضامین مجھے اچھے لگے بلکہ قابلِ تعریف حد تک اچھے لگے۔
ﺟﺲ ﻧﮯ ﭼﮭﻮﮌﺍ ﻓﻀﻮﻝ ﮔﻮﺋﯽ ﮐﻮ
ﻗﺪﺭ ﺍﺳﮑﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ
۴.
ﺻﻨﻒ ﻧﺎﺯﮎ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺣﺠﺎﺏ ﻟﯿﺎ
ﺗﺐ ﺳﮯ ﺍﻣﻦ ﻭ ﺍﻣﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ
۵.
ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺟﻮ ﺁﺋﮯ ﺗﻢ
ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﮑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ
ادب دوست — اپریل 23، 2015 2:40 شام
مضمون کے اعتبار سے یہ شعر مبہم لگتا ہے ۔
ﻭﮦ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﭘﮩﻠﻮ ﻣﯿﮟ ﺁﮐﺮ
ﺑﺎﺕ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﯾﺴﯽ ﺩﮬﯿﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ

بہتر ہے اس پر استاد محمد یعقوب آسی کے دو تین دن پہلے کئے گئے تبصرے کو یاداشت میں تازہ کریں ۔ شعر میں بغیر سیاق و سباق کے کسی نتیجے کا بیان شعر کو مشکل بنا دیتا ہے ۔ اور پھر کسی نتیجے پر ایک سوال کرنا اور مشکل بات ہے۔
ادب دوست — اپریل 23، 2015 3:18 شام
ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﻨﺪﮬﻦ ﮐﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﭼﮑﺮ
ﯾﮧ ﮐﻤﯽ ﺟﻮ ﺍﮌﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ

چونکہ غزل سنجیدہ ہے تو میرا خیال ہے اس قسم کے خیالات کے اظہار کے لیے اسے استعمال نہ کیا جائے تو بہترہے یا ایسے خیالات کے لیے علیحدہ کلام کہا جائے۔
ادب دوست — اپریل 23، 2015 3:20 شام
باقی تو سب شغل ہی تھا فرحاں
عقل تو امتحان میں آئی

یہاں بھی بظاہر وہی معاملہ لگتا ہے ۔
فرحان عباس — اپریل 23، 2015 3:32 شام
جی شکریہ. بحر کے ارکان
فاعلاتن مفاعلن فعلن.
فرحان عباس — اپریل 23، 2015 3:38 شام
یہ یاس یگانہ کی زمین میں ہی ہے. :)
آپکی توجہ کا شکریہ.‏‎ ‎
ادب دوست — اپریل 23، 2015 3:53 شام
جی شکریہ. بحر کے ارکان
فاعلاتن مفاعلن فعلن
جی آپ کی بات درست ہے مصرعے تمام بحر میں ہیں ، مجھ ہی سے پڑھنے میں غلطی ہو گئی تھی۔
محمد یعقوب آسی — اپریل 23، 2015 4:02 شام
الف، واو، یاے، ہاے ۔۔۔ ان کو گرانے میں آپ کے الفاظ "خراب" نہیں ہونے چاہئیں۔
پختگی تو آتے آتے آتی ہے۔
فرحان عباس — اپریل 23، 2015 4:18 شام
شکریہ سر محمد یعقوب آسی سر کچھ اشعار کی نشاندہی کردیں جنہیں درست کیا جاسکے. ;-)
فرحان عباس — اپریل 23، 2015 4:47 شام
سر ایسے ٹھیک ہے؟
ﻭﮦ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﭘﮩﻠﻮ ﻣﯿﮟ ﺁﮐﺮ
ﺑﺎﺕ دل کے جہان ﻣﯿﮟ
ﺁﺋﯽ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D9%82%D9%84-%D8%AA%D9%88-%D8%A7%D9%85%D8%AA%D8%AD%D8%A7%D9%86-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A2%D8%A6%DB%8C.81460/