عقل تھی آگہی نے ماردیا

سید علی رضوی — اگست 5، 2017 8:41 صبح

14 hrs ·

عقل تھی آگہی نے مار، دیا
دید کو روشنی نے ماردیا
ایک بے کس تھا جس کے خوابوں کو
اس کی بے چارگی نے مار دیا
ہم نے چاہا کے بات بن جائے
زیست کی بے رخی نے مار دیا
دیکھ کر پانی مر گیا پیاسا
اس کو سچی خوشی نے مار دیا۔
تھا جو اپنا بنا وہ انجانا
پھر اسی اجنبی نے مار دیا
کیا تعجب کی کوئی بات نہیں
آدمی آدمی نے مار دیا​
محمد تابش صدیقی — اگست 5، 2017 10:13 صبح
بہت خوب۔
ایک ٹائپو درست کر لیں
ہم نے چاہا کے بات بن جائے
کہ
سید علی رضوی — اگست 7، 2017 5:21 صبح
عقل تھی آگہی نے مار، دیا
دید کو روشنی نے ماردیا
ایک بے کس تھا جس کے خوابوں کو
اس کی بے چارگی نے مار دیا
ہم نے چاہا کہ بات بن جائے
زیست کی بے رخی نے مار دیا
دیکھ کر پانی مر گیا پیاسا
اس کو سچی خوشی نے مار دیا۔
تھا جو اپنا بنا وہ انجانا
پھر اسی اجنبی نے مار دیا
کیا تعجب کی کوئی بات نہیں
آدمی آدمی نے مار دیا
الف عین — اگست 8، 2017 12:19 صبح
ٹھیک ہے غزل
سید علی رضوی — اگست 9، 2017 9:34 صبح
بہت بہت شکریہ جناب

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D9%82%D9%84-%D8%AA%DA%BE%DB%8C-%D8%A2%DA%AF%DB%81%DB%8C-%D9%86%DB%92-%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%AF%DB%8C%D8%A7.97823/