علم اور عالم

عبدالمغیث — مارچ 16، 2016 5:43 شام
جسے علم سکھائے نہ عشق و ادب
اُس علم کے حامل کو عالم نہیں کہتے
سُنائے جو سزا سخت مجرم ہو بھلے حاکم
مُنصف کسی ایسے کو ظالم نہیں کہتے
سبق جو نہ پڑھائیں محبت کا اخوت کا
اتالیقوں کو ایسے متعالم نہیں کہتے
بھڑک اُٹھے جو نفس پہ چوٹ آنے سے اکثر
اُس ظاہری عاجز کو حالم نہیں کہتے
رستہ جو مسافر کو نہ منزل کی خبر دے
اُس راستے کے پتھروں کو معالم نہیں کہتے
جو سکھائے ہنر مندی مگر اخلاق سے عاری
ہدایت کسی ایسی کو سالم نہیں کہتے
عبدالمغیث​
سلمان دانش جی — مارچ 16، 2016 5:47 شام
صاحب یہ کلام کس بحر میں لکھا گیا ہے؟
عبدالمغیث — مارچ 16، 2016 5:58 شام
صاحب یہ کلام کس بحر میں لکھا گیا ہے؟
بحرِ اوقیانوس میں۔ اس کو غرق کلام بھی کہتے ہیں۔
مذاق کرنے کی معافی۔
صاحب میں بحروں سے مکمل بے بہرہ ہوں۔ یہ دانش مجھے حاصل نہیں ہے۔
سلمان دانش جی — مارچ 16، 2016 6:14 شام
بحرِ اوقیانوس میں۔ اس کو غرق کلام بھی کہتے ہیں۔
مذاق کرنے کی معافی۔
صاحب میں بحروں سے مکمل بے بہرہ ہوں۔ یہ دانش مجھے حاصل نہیں ہے۔
مغیث صاحب، بحروں کے علم کے بنا شاعری کرنا ناممکن کام ہے۔ بہتر ہو گا پہلے آپ بحروں کے بارے مطالعہ کریں
عبدالمغیث — مارچ 17، 2016 6:51 شام
بہتر ہو گا پہلے آپ بحروں کے بارے مطالعہ کریں

تو پھر لگے ہاتھوں کوئی ایسی کتاب بھی بتا دیں جس کے مطالعہ سے کسی کُند ذہن کو بھی بحروں کی کچھ سمجھ آنے لگے۔
یوسف سلطان — مارچ 17، 2016 7:05 شام
تو پھر لگے ہاتھوں کوئی ایسی کتاب بھی بتا دیں جس کے مطالعہ سے کسی کُند ذہن کو بھی بحروں کی کچھ سمجھ آنے لگے۔
عبد المغیث بھائی اس ربط میں بہت سے اسباق موجود ہیں ان کا مطالعہ کریں شاید کوئی حل نکل آئے۔
http://www.aruuz.com/resources

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D9%84%D9%85-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85.88683/