غزل

Fauzia Akhter — جنوری 23، 2019 9:27 صبح
اپنی تخلیقات کیسے بهیجوں
Fauzia Akhter — جنوری 23، 2019 9:28 صبح
اپنی تخلیقات کیسے بهیجوں
محمد عدنان اکبری نقیبی — جنوری 23، 2019 9:29 صبح
اپنی تخلیقات کیسے بهیجوں
جیسے آپ نے یہ تحریر لکھی ہے بلکل ایسے ہی اپنی شاعری یہاں ٹائپ کر کے پوسٹ کر دیں ۔
عرفان سعید — جنوری 23، 2019 9:31 صبح
اپنی تخلیقات کیسے بهیجوں
"اپنی تخلیقات کیسے بهیجوں" کی بجائے اپنی غزل لکھ دیتیں تو ارسال ہو جاتی!
Fauzia Akhter — جنوری 23، 2019 9:42 صبح
جیسے آپ نے یہ تحریر لکھی ہے بلکل ایسے ہی اپنی شاعری یہاں ٹائپ کر کے پوسٹ کر دیں ۔
شکریہ
Fauzia Akhter — جنوری 23، 2019 9:43 صبح
"اپنی تخلیقات کیسے بهیجوں" کی بجائے اپنی غزل لکھ دیتیں تو ارسال ہو جاتی!
شکریہ
Fauzia Akhter — جنوری 23، 2019 9:52 صبح
قفس میں قید اک پنچھی
جو مدت سے هے بند اس میں
اگر در کهل بهی جائ تو
وه پهر بهی اڑ نہیں سکتا
کہ اس کو اس قفس سے هی
محبت هو گئ اتنی
کہ اس سے دور جا کر وه
کہیں بهی جی نہیں سکتا----
میں اسکو دیکھتی هوں جب
تو مجهکو ایسا لگتا هے
میں اس پنچھی کہ جیسی هوں
میں اس قیدی کہ جیسی هوں
فوزیہ اختر
کولکتہ انڈیا
محمد عدنان اکبری نقیبی — جنوری 23، 2019 9:57 صبح
قفس میں قید اک پنچھی
جو مدت سے هے بند اس میں
اگر در کهل بهی جائ تو
وه پهر بهی اڑ نہیں سکتا
کہ اس کو اس قفس سے هی
محبت هو گئ اتنی
کہ اس سے دور جا کر وه
کہیں بهی جی نہیں سکتا----
میں اسکو دیکھتی هوں جب
تو مجهکو ایسا لگتا هے
میں اس پنچھی کہ جیسی هوں
میں اس قیدی کہ جیسی هوں
فوزیہ اختر
کولکتہ انڈیا
ماشاءاللہ،
بہت عمدہ تخیل ہے ، محفل میں اصلاح جناب محترم الف عین ہی دیتے ہیں ۔
آپ انتظار کریں ،استاد محترم جیسے ہی تشریف لائیں گے آپ کی نظم کی بھی ضرور اصلاح فرمائیں گے ۔
کچھ املاء کی غلطیاں ہیں جن پر آپ خصوصی توجہ دیں اور ان کو درست کریں ۔
فلسفی — جنوری 23، 2019 9:58 صبح
قفس میں قید اک پنچھی
جو مدت سے ہے بند اس میں
اگر در کهل بهی جائے تو
وه پهر بهی اڑ نہیں سکتا
کہ اس کو اس قفس سے ہی
محبت ہو گئی اتنی
کہ اس سے دور جا کر وه
کہیں بهی جی نہیں سکتا
میں اسکو دیکھتی ہوں جب
تو مجھ کو ایسا لگتا ہے
میں اس پنچھی کے جیسی ہوں
میں اس قیدی کے جیسی ہوں​
فلسفی — جنوری 23، 2019 9:59 صبح
تخیل واقعی اچھا ہے۔ داد قبول کیجیے۔
Fauzia Akhter — جنوری 23، 2019 10:05 صبح
تخیل واقعی اچھا ہے۔ داد قبول کیجیے۔
حوصله افزائ کے لئے شکریہ
محمد خلیل الرحمٰن — جنوری 23، 2019 10:05 صبح
قفس میں قید اک پنچھی
جو مدت سے هے بند اس میں
اگر در کهل بهی جائ تو
وه پهر بهی اڑ نہیں سکتا
کہ اس کو اس قفس سے هی
محبت هو گئ اتنی
کہ اس سے دور جا کر وه
کہیں بهی جی نہیں سکتا----
میں اسکو دیکھتی هوں جب
تو مجهکو ایسا لگتا هے
میں اس پنچھی کہ جیسی هوں
میں اس قیدی کہ جیسی هوں
فوزیہ اختر
کولکتہ انڈیا
خوبصورت نظم ہے۔
بس دومصرعوں میں ٹائیپو درست کرلیں۔
میں اس پنچھی کے جیسی ہوں
میں اس قیدی کے جیسی ہوں
محمد خلیل الرحمٰن — جنوری 23، 2019 10:07 صبح
قفس میں قید اک پنچھی
جو مدت سے ہے بند اس میں
اگر در کهل بهی جائے تو
وه پهر بهی اڑ نہیں سکتا
کہ اس کو اس قفس سے ہی
محبت ہو گئی اتنی
کہ اس سے دور جا کر وه
کہیں بهی جی نہیں سکتا
میں اسکو دیکھتی ہوں جب
تو مجھ کو ایسا لگتا ہے
میں اس پنچھی کہ جیسی ہوں
میں اس قیدی کے جیسی ہوں​
فلسفی بھائی!
آزاد نظم ہے لہٰذا مصرعوں کے درمیان لائین فیڈ نہ ہو تو بہتر ہوگا۔
عرفان سعید — جنوری 23، 2019 10:09 صبح
آزاد نظم ہے لہٰذا مصرعوں کے درمیان لائین فیڈ نہ ہو تو بہتر ہوگا۔
ایسی آزاد کہ مصرعوں کے درمیان فاصلہ نہ ہونے کی پابندی!
محمد خلیل الرحمٰن — جنوری 23، 2019 10:11 صبح
ایسی آزاد کہ مصرعوں کے درمیان فاصلہ نہ ہونے کی پابندی!
صرف اس لیے کہ آزاد نظم میں ایک ہی موضوع ہوتا ہے اور دو مصرعوں کے بعد مضمون مکمل نہیں ہوجاتا۔
فلسفی — جنوری 23، 2019 10:11 صبح
فلسفی بھائی!
آزاد نظم ہے لہٰذا مصرعوں کے درمیان لائین فیڈ نہ ہو تو بہتر ہوگا۔
جی سر تدوین کردی ہے۔ آئندہ خیال رکھوں گا۔
Fauzia Akhter — جنوری 23، 2019 10:31 صبح
ماشاءاللہ،
بہت عمدہ تخیل ہے ، محفل میں اصلاح جناب محترم الف عین ہی دیتے ہیں ۔
آپ انتظار کریں ،استاد محترم جیسے ہی تشریف لائیں گے آپ کی نظم کی بھی ضرور اصلاح فرمائیں گے ۔
کچھ املاء کی غلطیاں ہیں جن پر آپ خصوصی توجہ دیں اور ان کو درست کریں ۔
خوبصورت نظم ہے۔
بس دومصرعوں میں ٹائیپو درست کرلیں۔
میں اس پنچھی کے جیسی ہوں
میں اس قیدی کے جیسی ہوں
شکریہ سر
الف عین — جنوری 24، 2019 5:29 صبح
یہ معرہ نظم ہے دوبار مفاعیلن سے منظوم، اس لیے آزاد نظم تو نہیں کہنا چاہیے۔ فلسفی نے سنٹر الائن ہی کیا ہے کوئی ایسی غلطی نہیں۔
فوزیہ سے یہ کہوں گا کہ چھوٹی ہ یہاں I کی کنجی پر ہے h پر ھ ہے، اس لیے ہو، ہی، ہے کو ھو، ھی، ھے لکھنا غلط ہے ۔
نظم میں
اگر در کهل بهی جائے تو
وه پهر بهی اڑ نہیں سکتا
.. میرے خیال میں پرند اڑ تو سکتا ہے، لیکن اڑتا نہیں
.. اڑ نہیں جاتا
بہتر ہو گا
آخری مصرعے یوں کر لیں
میں اس پنچھی کے جیسی ہوں
میں اس کی طرح قیدی ہوں
فلسفی — جنوری 24، 2019 5:55 صبح
فلسفی نے سنٹر الائن ہی کیا ہے کوئی ایسی غلطی نہیں۔
سر میں نے اشعار کے درمیان ایک لائن خالی شامل کردی تھی۔ محترم خلیل صاحب نے اس کی طرف اشارہ کیا تھا جس کو اصل مراسلے میں تدوین کردیا تھا۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84.105164/