غزل

توقیر عالم — فروری 1، 2019 7:26 صبح
خواہشوں کے سراب سے نکلے
زندگی اک عذاب سے نکلے
دل کی اب تیرگی مٹانے کو
کوئی صورت حجاب سے نکلے
رقص میں مے کدہ رہے شب بھر
ایسی مستی شراب سے نکلے
اب سرِ شام چاندنی غم کی
درد اوڑھے شباب سے نکلے
زندگی کا لباس اترا تو
یوں لگا جیسے خواب سے نکلے
توقیر عالم
فلسفی — فروری 1، 2019 7:37 صبح
زندگی کا لباس اترا تو
یوں لگا جیسے خواب سے نکلے
بہت خوب داد قبول کیجیے
اب سرِ شام چاندنی غم کی
درد اوڑھے شباب سے نکلے
یہ شعر سمجھ نہیں آیا، یہاں شباب سے کیا مراد ہے۔
توقیر عالم — فروری 1، 2019 7:40 صبح
بہت خوب داد قبول کیجیے
یہ شعر سمجھ نہیں آیا، یہاں شباب سے کیا مرار ہے۔

آب و تاب
جوبن
عروج
الف عین — فروری 1، 2019 10:36 صبح
.نکلے ردیف دو ایک جگہ درست نہیں
مطلع ہی دیکھیں
زندگی کے عذاب سے نکلے
درست ہو سکتا ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84.105295/