غزل

سعید احمد سجاد — مارچ 10، 2019 6:19 صبح
سر اصلاح کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوں
نہ طبیب کی ہے خبر مجھے نہ کوئی دوا کا ہے سلسلہ۔
وہی زخم رستے ہیں جابجا وہی لادوا کا ہے سلسلہ۔
نہ وہ شور ہے نہ وہ راستے نہ کوئی سفر ہے نہ آرزو۔
جو ملا تھا داغ مفارقت وہ مری قضا کا ہے سلسلہ۔
نہیں چین اب مجھے ایک پل نہ قرار دل کو ملا کہیں ۔
وہی تلخیاں وہی نفرتیں یہ مری سزا کا ہے سلسلہ۔
مری دھڑکنوں کی صدا تجھے مری خامشی نہ سنا سکی۔
یہ سخنوری نے جو کہہ دیا یہ اسی نوا کا ہے سلسلہ۔
سرِ بزم تھیں تری شوخیاں وہ دبی دبی مری سسکیاں۔
کسے کیا خبر تھی کہ عشق کی یہ بڑی عطا کا ہےسلسلہ
منذر رضا — مارچ 10، 2019 1:44 شام
الف عین
سعید احمد سجاد بھائی آپ نے ٹیگ نہیں کیا تھا۔۔میں نے کر دیا
سعید احمد سجاد — مارچ 10، 2019 2:05 شام
الف عین
سعید احمد سجاد بھائی آپ نے ٹیگ نہیں کیا تھا۔۔میں نے کر دیا
بہت شکریہ بھائی
الف عین — مارچ 10، 2019 10:36 شام
نہ طبیب کی ہے خبر مجھے نہ کوئی دوا کا ہے سلسلہ۔
وہی زخم رستے ہیں جابجا وہی لادوا کا ہے سلسلہ۔
... دونوں مصرعوں میں ایک ہی قافیہ؟ دوسرے میں کوئی دوسرا قافیہ استعمال کریں
نہ وہ شور ہے نہ وہ راستے نہ کوئی سفر ہے نہ آرزو۔
جو ملا تھا داغ مفارقت وہ مری قضا کا ہے سلسلہ۔
... قضا کا داغ مفارقت سے تعلق، اور ان سب کا شور، راستے وغیرہ سے تعلق بھی سمجھنے سے قاصر ہوں
نہیں چین اب مجھے ایک پل نہ قرار دل کو ملا کہیں ۔
وہی تلخیاں وہی نفرتیں یہ مری سزا کا ہے سلسلہ۔
... ٹھیک ہے شعر
مری دھڑکنوں کی صدا تجھے مری خامشی نہ سنا سکی۔
یہ سخنوری نے جو کہہ دیا یہ اسی نوا کا ہے سلسلہ۔
... میری سمجھ سے باہر ہے
سرِ بزم تھیں تری شوخیاں وہ دبی دبی مری سسکیاں۔
کسے کیا خبر تھی کہ عشق کی یہ بڑی عطا کا ہےسلسلہ
.. درست
سعید احمد سجاد — مارچ 11، 2019 7:53 صبح
نہ طبیب کی ہے خبر مجھے نہ کوئی دوا کا ہے سلسلہ۔
وہی زخم رستے ہیں جابجا اُسی کج ادا کا ہے سلسلہ۔
نہ وہ شور ہے نہ وہ راستے نہ وہ ہم سفر نہ وہ مشغلے۔
جو ملا ہےداغ مفارقت یہ مری انا کا ہے سلسلہ۔
نہیں چین اب مجھے ایک پل نہ قرار دل کو ملا کہیں ۔
وہی تلخیاں وہی نفرتیں یہ مری سزا کا ہے سلسلہ۔
مری دھڑکنوں کی صدائیں بھی تجھے پاس جو نہ بُلا سکیں۔
یہ ترے کرم کے ہیں فیصلے کہ مری خطا کا ہے سلسلہ۔
سرِ بزم تھیں تری شوخیاں وہ دبی دبی مری سسکیاں۔
کسے کیا خبر تھی کہ عشق کی یہ بڑی عطا کا ہےسلسلہ۔
سر ایک دفعہ پھر اپنی عطا سے نوازئیے گا
سعید احمد سجاد — مارچ 11، 2019 8:00 صبح
نہ طبیب کی ہے خبر مجھے نہ کوئی دوا کا ہے سلسلہ۔
وہی زخم رستے ہیں جابجا وہی لادوا کا ہے سلسلہ۔
... دونوں مصرعوں میں ایک ہی قافیہ؟ دوسرے میں کوئی دوسرا قافیہ استعمال کریں
نہ وہ شور ہے نہ وہ راستے نہ کوئی سفر ہے نہ آرزو۔
جو ملا تھا داغ مفارقت وہ مری قضا کا ہے سلسلہ۔
... قضا کا داغ مفارقت سے تعلق، اور ان سب کا شور، راستے وغیرہ سے تعلق بھی سمجھنے سے قاصر ہوں
نہیں چین اب مجھے ایک پل نہ قرار دل کو ملا کہیں ۔
وہی تلخیاں وہی نفرتیں یہ مری سزا کا ہے سلسلہ۔
... ٹھیک ہے شعر
مری دھڑکنوں کی صدا تجھے مری خامشی نہ سنا سکی۔
یہ سخنوری نے جو کہہ دیا یہ اسی نوا کا ہے سلسلہ۔
... میری سمجھ سے باہر ہے
سرِ بزم تھیں تری شوخیاں وہ دبی دبی مری سسکیاں۔
کسے کیا خبر تھی کہ عشق کی یہ بڑی عطا کا ہےسلسلہ
.. درست
سر ایک دفعہ پھر اپنی عطا سے نوازئیے گا@سر الف عین
نہ طبیب کی ہے خبر مجھے نہ کوئی دوا کا ہے سلسلہ۔
وہی زخم رستے ہیں جابجا اُسی کج ادا کا ہے سلسلہ۔
نہ وہ شور ہے نہ وہ راستے نہ وہ ہم سفر نہ وہ مشغلے۔
جو ملا ہےداغ مفارقت یہ مری انا کا ہے سلسلہ۔
نہیں چین اب مجھے ایک پل نہ قرار دل کو ملا کہیں ۔
وہی تلخیاں وہی نفرتیں یہ مری سزا کا ہے سلسلہ۔
مری دھڑکنوں کی صدائیں بھی تجھے پاس جو نہ بُلا سکیں۔
یہ ترے کرم کے ہیں فیصلے کہ مری خطا کا ہے سلسلہ۔
سرِ بزم تھیں تری شوخیاں وہ دبی دبی مری سسکیاں۔
کسے کیا خبر تھی کہ عشق کی یہ بڑی عطا کا ہےسلسلہ۔
منذر رضا — مارچ 11، 2019 9:43 صبح
سعید احمد سجاد صاحب آپ نے پھر غلط ٹیگ کیا ہے۔۔۔۔۔
یوں کیجیے۔۔
سر الف عین
سعید احمد سجاد — مارچ 11، 2019 10:57 صبح
سعید احمد سجاد صاحب آپ نے پھر غلط ٹیگ کیا ہے۔۔۔۔۔
یوں کیجیے۔۔
سر الف عین
شکریہ
الف عین — مارچ 11، 2019 8:30 شام
ہاں اب مذکورہ اشعار درست ہیں
سعید احمد سجاد — مارچ 12، 2019 12:53 صبح
ہاں اب مذکورہ اشعار درست ہیں
سر شکریہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84.105884/