غزل

مظفرمحسن — اپریل 27، 2008 2:44 شام
چکرا کے مجھ کو رکھ دیا عزت مآب نے--
پتھر کے جیسا جب کھا مجھ کو جناب نے--
میری تڑپ نہ آپ کو پگھلا سکی کبھی--
اور آپ سے ملوا دیا کل مجھ کو خواب نے---
---حافظ مظفر محسن---
خرم شہزاد خرم — اپریل 28، 2008 11:01 صبح
بہت شکریہ محسن صاحب امید ہے آپ اس طرح شاعری ارسال کرتےرہے گے اساتذ سے گزارئش ہے اس پر نظر ثانی فرمائیں شکریہ
الف عین — اپریل 28، 2008 5:37 شام
مظفر۔۔ آپ اس بحر سے ذرا پرہیز کریں۔ نو آمیز اکثر دو بحور کو خلط ملط کر دیتے ہیں۔ ایک ہے:
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلات
جیسے
دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی
اور
مفعول ماعیل مفاعیل فعولن
جیسے:
ہے بس کہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور
غالب کی ان دونوں غزلوں پر غور کرو، کچھ فرق محسوس ہوتا ہے۔ ؟؟ وارث ۔ میرا خیال ہے کہ اس حر کو سب سے آخر میں لیا جائے خرم اور راجا کی شاعری کے سلسلے میں بھی۔
اس لئے فی الحال اس غزل کو ہاتھ نہیں لگا رہا۔
محمد وارث — اپریل 29، 2008 5:02 صبح
مظفر۔۔ آپ اس بحر سے ذرا پرہیز کریں۔ نو آمیز اکثر دو بحور کو خلط ملط کر دیتے ہیں۔ ایک ہے:
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلات
جیسے
دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی
اور
مفعول ماعیل مفاعیل فعولن
جیسے:
ہے بس کہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور
غالب کی ان دونوں غزلوں پر غور کرو، کچھ فرق محسوس ہوتا ہے۔ ؟؟ وارث ۔ میرا خیال ہے کہ اس حر کو سب سے آخر میں لیا جائے خرم اور راجا کی شاعری کے سلسلے میں بھی۔
اس لئے فی الحال اس غزل کو ہاتھ نہیں لگا رہا۔

آپ نے بالکل صحیح کہا اعجاز صاحب، پہلی بحر مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن یا فاعلات بحرِ مضارع کی ایک شکل ہے (بحر مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف) اور انتہائی مشکل، لیکن بہت استعمال ہوتی ہے اور غالب کی کافی زیادہ غزلیں اس بحر میں ہیں۔
دوسری بحر، مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن، بحر ہزج کی ایک مزاحف شکل ہے (بحر ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف) یہ بھی بہت استعمال ہوتی ہے، میر انیس کے کافی مرثیے اسی بحر میں ہیں، اور کئی مشہور غزلیں بھی اس میں ہیں۔ مشکل بھی ہے اور مضارع سے کافی ملتی بھی ہے۔
کافی مہارت چاہیئے ان بحور میں شاعری کرنے کیلئے۔ :)
الف عین — اپریل 29، 2008 6:16 صبح
اور مشکل یہ بھی ہے کہ کچھ شعراء ایک بحر میں آدھا مصرعہ اور دوسری بحر میں باقی نصف مصرع بھی کہہ دیتے ہیں۔
ایم اے راجا — اپریل 30، 2008 1:25 شام
اسکا مطلب ہمیں تو دس پندرہ سال دور ہی رہنا چاہئیے ان بحروں سے :)
الف عین — اپریل 30، 2008 5:55 شام
ذرا دوسری بحروں میں مشق ہو جائے تو کوشش کرو۔ اپنے سعود کی ابے کھٹ کھٹ یا خرم کی ترنم والی ترکیب میں یہ دونوں بحریں گڑبڑ کر سکتی ہیں۔ تین چار دن پہلے سہ ماہی ’شاخیں‘ کا تازہ شمارہ آیا۔ اس میں چار پانچ غزلیں ایسی ہی ہیں جن میں ایک ہی غزل میں دو مختلف بحریں ہیں۔ ایک دلچسپ مثال یہ بھی ہے اگرتچہ بحر مختلف ہے:
مطلع:
خزاں کے دور کا عالم ہے کیا کیا جائے
زمانہ اس لئے برہم ہے کیا کیا جائے
اور دو اشعار:؛
لگا کے زخموں پہ میرے نمک اکثر وہ کہتا ہے
یہی تو آپ کا مرہم ہے کیا کیا جائے
امیرِ شہر نے سچ کو ہمارئ جھوٹ فرمایا
ہماری بات میں حالاں کہ دم ہے کیا کیا جائے
راجا اور خرم۔۔۔ ان تین اشعار کی تقطیع تو کرو۔۔۔ کچھ مشق ہی بہم ہوگی۔
خرم شہزاد خرم — مئی 8، 2008 6:58 صبح
ذرا دوسری بحروں میں مشق ہو جائے تو کوشش کرو۔ اپنے سعود کی ابے کھٹ کھٹ یا خرم کی ترنم والی ترکیب میں یہ دونوں بحریں گڑبڑ کر سکتی ہیں۔ تین چار دن پہلے سہ ماہی ’شاخیں‘ کا تازہ شمارہ آیا۔ اس میں چار پانچ غزلیں ایسی ہی ہیں جن میں ایک ہی غزل میں دو مختلف بحریں ہیں۔ ایک دلچسپ مثال یہ بھی ہے اگرتچہ بحر مختلف ہے:
مطلع:
خزاں کے دور کا عالم ہے کیا کیا جائے
زمانہ اس لئے برہم ہے کیا کیا جائے
اور دو اشعار:؛
لگا کے زخموں پہ میرے نمک اکثر وہ کہتا ہے
یہی تو آپ کا مرہم ہے کیا کیا جائے
امیرِ شہر نے سچ کو ہمارئ جھوٹ فرمایا
ہماری بات میں حالاں کہ دم ہے کیا کیا جائے
راجا اور خرم۔۔۔ ان تین اشعار کی تقطیع تو کرو۔۔۔ کچھ مشق ہی بہم ہوگی۔

سر مجھے کچھ سمجھ نہیں‌آئی تھوڑی سی مدد کر دے سرف ایک مصرے پر
الف عین — مئی 13، 2008 8:42 صبح
ابھی اس موضوع کی یاد آئی تو پتہ چلا کہ خرم نے یہاں مجھے ہی یاد کیا تھا۔
تو میں ہی واضح کروں
خزاں کے دور کا عالم ہے کیا کیا جائے
زمانہ اس لئے برہم ہے کیا کیا جائے
اس مطلع کی تقطیع ہوگی
مفاعلن فِعِلاتن مفاعلن فعلن
خزاک دو۔ رکاعالم۔ ہِ کیاکیا۔ جائے
اور یہ شعر:؛
لگا کے زخموں پہ میرے نمک اکثر وہ کہتا ہے
یہی تو آپ کا مرہم ہے کیا کیا جائے
پہلے مصرعے کی تقطیع ہوگی
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
لگا کے زخ۔ مُ پر میرے۔ نمک اکثر۔ وُ کہتا ہے
دوسرے کی
یہی تو آ۔ پکا مرہم۔ ہے کیا کیا۔۔ جائے
مفاعلن فِعِلاتن مفاعلن فعلن
امیرِ شہر نے سچ کو ہماری جھوٹ فرمایا
ہماری بات میں حالاں کہ دم ہے کیا کیا جائے
یہ شعر پھر اسی بحر میں چلا گیا ہے:
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
امیرِ شہ۔۔۔ رنے سچ کو۔۔ ہماری جھو۔۔ ٹ فرمایا
ہماری با۔۔ ت میں حالا۔۔ کِدم ہے کیا۔۔ کیا جائے
اب بات سمجھ میں آئی؟؟؟
الف عین — مئی 14، 2008 7:15 صبح
کیا کسی شاگرد یا استاد نے اب تک اس کو نہیں دیکھا؟؟؟ یعنی جو میں نے اوپر لکھا ہے؟؟ راجا۔ فرخ۔
خرم شہزاد خرم — مئی 14، 2008 10:16 صبح
سر میں نے پرنٹ لے لیا ہے پڑھ کر پھر جواب دیتا ہوں
خرم شہزاد خرم — مئی 14، 2008 10:43 صبح
سر سمجھ تو آ گی ہے لیکن بہت مشکل ہے اگر تو بحروں میں ایک شعر ہو تو پھر تو بہت مشکل ہو گا ہمارے لیے اس کو ابھی چھوڑ ہی دے تو میرا خیال ہے بہتر ہے کیوں کے ہم تو ابھی شروع سے سیکھ رہے ہیں تو بہتر ہی ہو گا شروع سے کر بہت شکریہ آپ کیاکہتے ہیں
الف عین — مئی 14، 2008 6:02 شام
نہیں میرے نمونے کی غزل کی بحر میں کنفیوژن نہیں ہے۔ ان شاعر صاحب کو نہ جانے کیسے ہو گیا۔
لیکن مظفر محسن کی غزل کی بحر ضرور ایسی ہے کہ مبتدیوں کو اس سے بچنا چاہئے۔
mfdarvesh — مئی 15، 2008 5:42 صبح
شکریہ بہت خوب
مظفرمحسن — مئی 15، 2008 2:00 شام
نہیں میرے نمونے کی غزل کی بحر میں کنفیوژن نہیں ہے۔ ان شاعر صاحب کو نہ جانے کیسے ہو گیا۔
لیکن مظفر محسن کی غزل کی بحر ضرور ایسی ہے کہ مبتدیوں کو اس سے بچنا چاہئے۔

بھای یہ استاد لوگ تو ڈراتے ھیں---اور ھم سمجھو کے ڈر گہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84.11935/