غزل

ضیاء حیدری — فروری 25، 2025 6:18 شام
لب تیرے گلابوں کی نُزاکت میں سنور جائیں
پر ہجر میں یہ زخم کی صورت میں اُبھر جائیں
آنکھیں تری جادو ہیں کہ روشن ہیں ستارے
پر دیکھ کے ان کو ہی کئی خواب بکھر جائیں
زلفوں کی گھٹا چھاؤں گھنی رات کی مانند
پر ہجر میں یہ درد کی آندھی میں بِکھر جائیں
باتیں تری شیریں ہیں کہ شہداب کی صورت
پر ہجر میں یہ زہر کے سانچے میں اُتر جائیں
تو چاند سا روشن ہے، ضیا تیری مثالیں
پر دوری میں آنکھوں سے کئی اشک گزر جائیں
الف عین — فروری 27، 2025 10:10 صبح
اس غزل کے بارے میں دوسری جگہ اظہار کر چکا ہوں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84.121306/