غزل

فرحان عباس — فروری 17، 2016 6:34 صبح
السلام علیکم۔ اساتذہ اور دوستوں سے اصلاح کی گزارش کے ساتھ'
الف عین محمد یعقوب آسی
فاعلاتن مفاعلن فعلن

"سامنے اپنے آئنہ رکھنا"

نام تب میرا بے وفا رکھنا

مسکراہٹ سے بات جب نہ بنے

روٹھ جانے کی تم ادا رکھنا

ہائے دل غم اسی سے بانٹو جو

چاہتا ہے مجھے خفا رکھنا

جو نہیں سنتا والدین کی بات

اس سے امید کوئی کیا رکھنا

آگے بڑھنا اگرہو چاہتے تو

یاد تم اپنی ابتدا رکھنا

جیتنے کیلئے ضروری ہے

ہار جانے کا حوصلہ رکھنا

چاہے چادر ہو جتنی بھی فرحاںؔ

دل ہمیشہ مگر بڑا رکھنا
فرحان عباس فرحاںؔ
سید اسد معروف — فروری 17، 2016 7:16 صبح
بہت اچھے۔
محمد ریحان قریشی — فروری 17، 2016 12:04 شام
بہت اچھی غزل ہے پر میرے خیال میں کوشش کرنی چاہئے کہ تخلص اگر نام ہے تو پورا آئے یعنی فرحان ، فرحاں آنے سے وہ لطف نہیں رہتا.
فرحان عباس — فروری 17، 2016 12:07 شام
بہت اچھی غزل ہے پر میرے خیال میں کوشش کرنی چاہئے کہ تخلص اگر نام ہے تو پورا آئے یعنی فرحان ، فرحاں آنے سے وہ لطف نہیں رہتا.
ہوسککتا ہے میں تخلص چینج کردوں، فالحال تو یہی ہے
فرحان عباس — فروری 17، 2016 12:23 شام
میں کسی ایسے تخلص مثلاََ ، قابلؔ، غالب،ساغرؔ، ساحلؔ، ماہرؔ وغیرہ کی تلاش میں ہوں، لیکن یہ پہلے سے کسی کے ہیں لہذا جب مجھے ایسا کوئی لفظ مل جائے گا تب تبدیل کرلوں گا
الف عین — فروری 18، 2016 7:36 صبح
تو عزیزم تخلص فرحان کیا برا ہے، اسے زبردستی غنہ کر دینا سمجھ میں نہیں آتا۔
روٹھ جانے کی تم ادا رکھنا
۔۔ادا رکھی نہیں جاتی۔
ہائے دل غم اسی سے بانٹو جو
ہائے ہائے بھرتی کا ہے، میرے خیال میں اس کی ضرورت نہیں۔
اپنا غم صرف اس سے بانٹو، جو
چاہتا ہے مجھے خفا رکھنا

آگے بڑھنا اگرہو چاہتے تو
میں روانی کی کمی ہے۔
آگر بڑھنا جو چاہتے ہو تم
کیا جا سکتا ہے
چاہے چادر ہو جتنی بھی فرحاںؔ

دل ہمیشہ مگر بڑا رکھنا
دو لخت لگتا ہے۔ چادر کے چھوٹے ہونے کا تعلق پیر پھیلانے سے ہوتا ہے۔ اس کے بغیر، دل بڑا رکھنے کی بات غیر متعلق لگتی ہے۔
اور یہاں مکمل ’فرحان‘ آ سکتا ہے تو فرحاں کیوں کیا جائے؟
ایم اے راجا — فروری 19، 2016 4:11 شام
خوب کوشش ہے فرحان بھائی
محمد یعقوب آسی — فروری 27، 2016 5:17 صبح
بہت شکریہ جناب! مجھے کچھ نہیں کہنا۔
اکمل زیدی — فروری 27، 2016 5:25 صبح
محمد یعقوب آسی صاحب کیا حال ھیں؟
فرحان عباس — مارچ 6، 2016 12:21 شام
السلام علیکم شکریہ سر ایک شعر نکال دیا ہے۔۔ باقی درج زیل تبدیلیاں کی ہیں
الف عین

"سامنے اپنے آئنہ رکھنا"

نام تب میرا بے وفا رکھنا

اپنا غم صرف اس سے بانٹو، جو

چاہتا ہے مجھے خفا رکھنا

جو نہیں سنتا والدین کی بات

اس سے امید کوئی کیا رکھنا


آگے بڑھنا اگرہو چاہتے تو

یاد تم اپنی ابتدا رکھنا

جیتنے کیلئے ضروری ہے

ہار جانے کا حوصلہ رکھنا

چاہے حالات جو بھی ہوں فرحان
دل ہمیشہ مگر بڑا رکھنا
الف عین — مارچ 6، 2016 2:40 شام
بس اس کو بدل دو
آگے بڑھنا اگرہو چاہتے تو
یوں کر سکتے ہو، مثلاً
آگے بڑھنا جو چاہتے ہو تم
فرحان عباس — مارچ 6، 2016 3:15 شام
شکریہ :)
سر اب دیکھیں۔ تم کو تو کردیا ورنہ پھر دونوں مصروں میں تم آجائے گا۔
آگے بڑھنا جو چاہتے ہو تو
یاد تم اپنی ابتدا رکھنا
اور اسکو بھی دیکھ لیں،
بانٹتا ہوں اسی سے غم جوکہ
چاہتا ہے مجھے خفا رکھنا

جو نہیں سنتا والدین کی بات
جو بھی ماں باپ کی نہیں سنتا
اس سے امید کوئی کیا رکھنا
فرحان عباس — مارچ 6، 2016 3:16 شام
ابن رضا
ابن رضا — مارچ 8، 2016 10:04 صبح
اپنا غم صرف اس سے بانٹو، جو

چاہتا ہے مجھے خفا رکھنا
"مجھے" اس شعر میں بے محل اور مبہم معلوم ہورہا ہے اس کی نثر کر کے دیکھیں

جو نہیں سنتا والدین کی بات
اس سے امید کوئی کیا رکھنا

پہلے مصرع میں اصرار کے لیے "بھی" کی ضرورت ہے یعنی جو والدین کی بھی نہیں سنتا اس سے کوئی اور۔۔۔ تو شعر اور نکھر جائے گا

آگے بڑھنا جو چاہتے ہو تو
یاد تم اپنی ابتدا رکھنا
پہلے مصرع میں تو تم والا نہیں ہے تب والا ہے اس لیے اسے ہی رہنے دیں

چاہے حالات جو بھی ہوں فرحان
دل ہمیشہ مگر بڑا رکھنا

"مگر" کچھ یہاں کھٹک رہا ہے کچھ تبدیلی کر کے دیکھیں​
فرحان عباس — مارچ 8، 2016 12:11 شام
شکریہ سر ابن رضا
اب دیکھیں.
بات ماں باپ کی بھی جو نہ سنے
اس سے امید کوئی کیا رکھنا
فرحان عباس — مارچ 8، 2016 12:15 شام
اس کو بھی دیکھیں.
ﭼﺎﮨﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮞ ﻓﺮﺣﺎﻥ
ﺩﻝ ﮨﻤﯿﺸﮧ بڑا ﺑﮍﺍ ﺭﮐﮭﻨﺎ
ابن رضا — مارچ 8، 2016 1:04 شام
اس کو بھی دیکھیں.
ﭼﺎﮨﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮞ ﻓﺮﺣﺎﻥ
ﺩﻝ ﮨﻤﯿﺸﮧ بڑا ﺑﮍﺍ ﺭﮐﮭﻨﺎ
دوسرا مصرع ابھی بھی توجہ طلب ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84.88040/